جنرل عاصم منیر عالمی سیاست کا اہم کردار کیسے بن گئے؟

 

 

 

مئی 2025 میں پاکستان پر حملہ آور ہونے والے انڈیا کو ناکوں چنے چبوانے کے بعد سے فیلڈ مارشل عاصم منیر نہ صرف ملکی سیاست بلکہ علاقائی اور عالمی سفارتکاری میں بھی ایک مرکزی کردار کے طور پر ابھرے ہیں۔ نومبر 2022 میں بطور آرمی چیف ذمہ داریاں سنبھالنے کے بعد سے انکے قد کاٹھ میں مسلسل اضافہ ہوا ہے، جس کا نمایاں ثبوت یہ ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملہ اور ہونے کے بعد سے انہیں ایک اہم ثالث کے طور پر شامل رکھا ہے۔ ایسے میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ داخلی سیاسی بحران، علاقائی جنگ اور عالمی سفارت کاری جیسے محاذوں پر فیلڈ مارشل عاصم منیر عالمی سیاست کا ایک کلیدی کردار بن چکے ہیں۔

 

بی بی سی کی ایک خصوصی رپورٹ میں فیلڈ مارشل عاصم منیر کہ آرمی چیف بننے کے بعد سے ان کی جنگی، سیاسی اور سفارتی کامیابیوں کا احاطہ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ جب جنرل عاصم منیر نے فوج کی کمانڈ سنبھالی تو ملک شدید سیاسی کشیدگی کا شکار تھا۔ سابق وزیر اعظم عمران خان اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد احتجاجی تحریک چلا رہے تھے اور فوجی قیادت پر الزامات عائد کر رہے تھے، جن کی فوج اور حکومت دونوں نے تردید کی۔

 

رپورٹ میں 9 مئی 2023 کو  ملک بھر میں فوجی تنصیبات پر تحریک انصاف کے حامیوں کی جانب سے حملوں کو ایک اہم موڑ قرار دیا گیا جس کے بعد ریاستی ردعمل نے سیاسی منظرنامے کو بدل دیا۔ مئی 2025 میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان چار روزہ محدود جنگ نے خطے کو ہلا کر رکھ دیا۔ دونوں جانب سے میزائل اور ڈرون حملوں کے دعوے سامنے آئے جبکہ پاکستان نے انڈین طیارے گرانے کا بھی دعویٰ کیا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق یہ جنگ “پاکستان اور جنرل عاصم منیر دونوں کے لیے ایک سٹریٹجک موڑ” ثابت ہوئی، انہوں نے بطور آرمی چیف اپنی جنگی صلاحیتوں کا لوہا منوایا اور بھارت کو ناکوں چنے چبوا دیے۔ چنانچہ وفاقی حکومت کی جانب سے ان کے خدمات کے اعتراف میں انہیں فیلڈ مارشل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔

 

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ تعلقات نے بھی فیلڈ مارشل عاصم منیر کی عالمی حیثیت کو مضبوط کیا۔ مبصرین کے مطابق جنگ کے بعد ہونے والی جنگ بندی اور بحران مینجمنٹ نے انہیں واشنگٹن میں ایک قابلِ اعتماد شخصیت کے طور پر متعارف کرایا۔ تجزیہ کاروں کے مطابق 2023 کے مقابلے میں 2025 میں عاصم منیر کی شخصیت میں نمایاں اعتماد دیکھا گیا، خاص طور پر جنگ کے بعد امریکہ کے دورے کے دوران۔ تاہم امریکہ کی جانب سے ایران پر حملے کے بعد جنرل عاصم منیر نے دونوں ممالک کے مابین بطور ثالث ایک فعال کردار ادا کیا۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات میں وزیر اعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر دونوں شریک ہوئے۔

 

تجزیہ کاروں کے مطابق عاصم منیر کی خاص بات یہ ہے کہ وہ واشنگٹن اور تہران دونوں کے ساتھ بیک وقت رابطہ رکھتے ہیں، جو کسی بھی ثالث کے لیے بنیادی شرط ہے۔ انکا کہنا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان نے بیک وقت چین، سعودی عرب اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کو متوازن رکھنے کی کوشش کی ہے، جس نے اسے خطے میں ایک مؤثر سفارتی پل کے طور پر پیش کیا ہے۔

 

جہاں عالمی سطح پر ان کا کردار سراہا جا رہا ہے، وہیں اندرون ملک تنقید بھی جاری رہی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل سمیت مختلف اداروں نے سیاسی کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا۔ عارفہ نور کے مطابق پاکستان میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ جب ملک عالمی سطح پر مضبوط پوزیشن میں آتا ہے تو اندرونی جمہوری اور انسانی حقوق کے مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی کے رہنما زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ اگر پاکستان کا کردار خطے میں استحکام لاتا ہے تو اسے سراہا جانا چاہیے، چاہے داخلی اختلافات اپنی جگہ موجود ہوں۔

ایران کے 35 اداروں اور شخصیات پر امریکی پابندیاں عائد

سیاسی مبصرین کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر بڑھتا ہوا اثر رسوخ اور پروفائل صرف انکی ترقی کی کہانی نہیں بلکہ پاکستان کے بدلتے ہوئے سٹریٹجک کردار کا عکاس بھی ہے، تاہم ان کی طویل المدتی کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ آیا پاکستان داخلی استحکام، جمہوری عمل اور عالمی ذمہ داریوں کے درمیان توازن قائم رکھ پاتا ہے یا نہیں۔

 

Back to top button