پی آئی اے نجکاری ڈیل مشکوک؟ اربوں کی ادائیگیاں تاخیر کا شکار

پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز پی آئی اے کی نجکاری ایک بار پھر شکوک و شبہات کی زد میں آ گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے پہلے سے اعلان کردہ ادائیگی کے شیڈول میں غیر واضح تبدیلیوں اور تاخیر نے اس اہم معاشی ڈیل کو مزید متنازع بنا دیا ہے جنبکہ دوسری جانب 28اپریل تک رقم کی ادائیگی کے پابند کنسورشیم نے 83ارب روپے کی ادائیگی کے حوالے سے مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے جبکہ حکومت نے حیلے بہانے تاشنے شروع کر دئیے ہیں۔
خیال رہے کہ پی آئی اے کی نجکاری دسمبر 2025 میں اس وقت طے پائی تھی جب عارف حبیب گروپ کی سربراہی میں ایک کامیاب کنسورشیم نے 135 ارب روپے کی بولی دے کر کے پی آئی اے کے مالکانہ حقوق خرید لئے تھے۔ ابتدائی شرائط کے مطابق اس ڈیل میں واضح ادائیگی کا ڈھانچہ طے کیا گیا تھا، جس میں تقریباً 7.5 فیصد رقم یعنی 10.125 ارب روپے فوری طور پر قومی خزانے میں جمع ہونا تھی۔ معاہدے کے مطابق باقی رقم کو دو حصوں میں تقسیم کیا گیا تھا۔ پہلے مرحلے میں تقریباً 83 ارب روپے 90 سے 120 دن کے اندر ادا کیے جانے تھے، جبکہ باقی ماندہ رقم ایک سال کے اندر مکمل ہونا تھی۔ اسی شیڈول کے تحت اپریل 2026 ایک اہم سنگ میل سمجھا جا رہا تھا، تاہم اس وقت تک کنسورشیم کی جانب سے حکومت کو کوئی بڑی ادائیگی سامنے نہیں آ سکی۔
ناقدین کے مطابق کنسورشیم کی جانب سے ادائیگی میں تاخیر اس وقت مزید اہمیت اختیار کر گئی جب یہ سوال اٹھنے لگا کہ کیا واقعی ڈیڈ لائن وہی تھی جو ابتدا میں بتائی گئی تھی یا بعد میں اس میں کوئی غیر اعلانیہ تبدیلی کی گئی ہے۔ نجکاری کمیشن کے چیئرمین محمد علی کی جانب سے اس بات کی تردید کی گئی ہے کہ 28 اپریل کوئی فائنل ڈیڈ لائن تھی، تاہم ابتدائی سرکاری بیانات اس وضاحت سے مختلف تصویر پیش کرتے ہیں، جس سے ابہام مزید بڑھ گیا ہے۔
مبصرین کے مطابق پی آئی اے کو خریدنے والے کنسورشیم کی ساخت اور کردار بھی اس بحث کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ اس معاہدے میں مرکزی کردار عارف حبیب گروپ ادا کر رہا ہے، جو پاکستان کے بڑے مالیاتی اور سرمایہ کاری اداروں میں شمار ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ مختلف نجی سرمایہ کار اور مالیاتی ادارے بھی اس کنسورشیم کا حصہ ہیں، جن کا تعلق بینکنگ، انویسٹمنٹ اور صنعتی شعبے سے بتایا جاتا ہے۔ مارکیٹ میں یہ تاثر موجود ہے کہ اس ڈیل میں مقامی اور ممکنہ طور پر بین الاقوامی سرمایہ کاری کا امتزاج شامل ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ اس اہم اور اربوں روپے کی ڈیل کے تحت ہونے والی ادائیگیوں بارے کنسورشیم کی جانب سے کوئی واضح اور تفصیلی مؤقف سامنے نہیں آیا۔ بار بار رابطوں کے باوجود خاموشی نے شکوک و شبہات کو مزید بڑھا دیا ہے اور شفافیت کے سوالات کو جنم دیا ہے۔ ناقدین کے بقول پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ صرف ایک کاروباری معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کے آئی ایم ایف پروگرام سے بھی براہ راست جڑا ہوا ہے۔ ناقدین کے مطابق ماضی میں حکومت پی آئی اے کی نجکاری کو معاشی اصلاحات اور مالی استحکام کے لیے ایک اہم قدم قرار دیتی رہی ہے، اسی لیے اس میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا غیر یقینی صورتحال ملکی معاشی ساکھ پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف حکومت اس معاہدے کو جاری اور درست قرار دے رہی ہے، جبکہ دوسری طرف اس حوالے سے عملی پیش رفت اور ادئیگیاں سست روی کا شکارہیں۔ کنسورشیم کی خاموشی اور ٹائم لائن میں ابہام نے اس پورے عمل کو ایک غیر واضح سمت میں دھکیل دیا ہے۔ تاہم یہاں اصل سوال یہی ہے کہ کیا یہ محض انتظامی تاخیر ہے یا پھر اس کے پیچھے کوئی بڑی پیچیدگی موجود ہے؟ کیا پی آئی اے کی یہ نجکاری واقعی اپنے مقررہ اہداف تک پہنچ پائے گی یا ایک اور متنازع ڈیل بن کر دسمنے آئے گی؟ مبصرین کے مطابق فی الحال صورتحال غیر یقینی ہے، اور تمام نگاہیں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آنے والے دنوں میں حکومت اور کنسورشیم اس اہم معاہدے پر کیا وضاحت پیش کرتے ہیں۔
