امریکا–ایران کشیدگی: کیا پاکستان امن معاہدہ کروا پائے گا؟

عالمی سیاست کے پیچیدہ اور نازک منظرنامے میں پاکستان ایک بار پھر ایک اہم کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران اسلام آباد کی جانب سے ثالثی کی مسلسل اور خاموش کوششیں نہ صرف قابلِ توجہ ہیں بلکہ خطے میں امن کے لیے واحد امیدبن کر سامنے آ رہی ہیں۔ تاہم یہاں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ امریکہ اور ایران کے مابین بداعتمادی کے دوران پاکستان اپنی ثالثی کے ذریعے دونوں ممالک میں امن معاہدہ کروانے میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں؟

اعلیٰ سطحی ذرائع کے مطابق پاکستان اس بات پر پُرعزم ہے کہ وہ خطے میں امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا۔ یہ عزم ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دو ماہ سے جاری تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات تعطل کا شکار ہیں اور براہِ راست رابطے تقریباً منقطع ہو چکے ہیں۔ تاہم اس کے باوجود وزیر اعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر، اور نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارنے اس نازک صورتحال میں بھی فعال سفارت کاری کا مظاہرہ کیا اور دونوں ممالک کے حاکم سے رابطے جاری رکھے۔ شٹل ڈپلومیسی کے ذریعے واشنگٹن اور تہران کے درمیان پیغامات کی ترسیل کا کردار ادا کرتے ہوئے پاکستان نے ایک پل کا کردار نبھانے کی کوشش کی ہے۔

ان کوششوں کا ایک اہم نتیجہ اس ماہ کے آغاز میں سامنے آیا جب جنگ بندی ممکن ہوئی، جسے بعد ازاں توسیع بھی دی گئی۔ تاہم امیدوں کو اس وقت دھچکا لگا جب ایران نے امریکا سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ کیا، جس سے مذاکرات کا عمل دوبارہ تعطل کا شکار ہو گیا۔اس تمام صورتحال کے باوجود پاکستان کے سفارتی ذرائع اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کی کوششیں “مسلسل اور خاموش” ہیں۔ یعنی پاکستان کسی تشہیر یا سیاسی فائدے کے بجائے حقیقی نتائج پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پس پردہ رابطے اب بھی جاری ہیں اور دونوں فریقین تک پیغامات کی ترسیل کا سلسلہ رکا نہیں۔

حالیہ پیش رفت میں ایرانی وزیر خارجہ کا اسلام آباد کا دورہ بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جس میں نئی تجاویز پیش کی گئیں اور پاکستانی حکام نے انہیں امریکی فریق تک پہنچایا۔ یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ اگرچہ بظاہر تعطل ہے، مگر پس منظر میں سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ تاہم یہاں اصل سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان اپنی ان کوششوں میں کامیاب ہو پائے گا یا نہیں؟ مبصرین کے بقول اس سوال کا جواب اتنا آسان نہیں۔ ایک طرف عالمی طاقتوں کے مفادات، علاقائی کشیدگی اور اعتماد کا فقدان جیسے بڑے چیلنجز موجود ہیں، تو دوسری طرف پاکستان کی سفارتی مہارت، جغرافیائی اہمیت اور غیر جانبدار کردار اسے ایک مؤثر ثالث بنا سکتے ہیں۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ پاکستان اس وقت ایک نازک مگر اہم امتحان سے گزر رہا ہے۔ اگر وہ اس کشیدگی کو کم کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو نہ صرف خطے میں امن کے امکانات روشن ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص ایک ذمہ دار اور مؤثر سفارتی طاقت کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ تاہم ناکامی کی صورت میں پاکستان کو لینے کے دینے پڑ سکتے ہیں۔ مبصرین کے بقول فی الحال پوری دنیا کی نظریں اس بات پر مرکوز ہیں کہ آیا پاکستان کی یہ “خاموش سفارت کاری” کسی بڑے بریک تھرو میں تبدیل ہو پاتی ہے یا نہیں۔ لیکن ایک بات طے ہےپاکستان نے اپنی سفارتی بساط بچھا دی ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی سفارتی حکمت عملی کس حد تک کامیاب ثابت ہوتی ہے۔

Back to top button