عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں کتنی کمی ہونے والی ہے؟

UAEکے اوپیک سے اخراج کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں، معاشی ماہرین کے مطابق یو اے ای میں تیل کی پیداواری لاگت صرف 10 سے 15 ڈالر فی بیرل ہے، اس لیے یہ عالمی سطح پر کم لاگت پیدا کرنے والے ممالک میں شامل ہے اور 60 سے 75 ڈالر فی بیرل قیمت پر بھی منافع کما سکتا ہے۔ اس لئے یو ای ای کی جانب سے اوپیک سے نکلنے کے بعد خام تیل کی قیمتوں میں بڑی کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

متحدہ عرب امارات کا 59 سال بعد اوپیک اور اوپیک پلس سے علیحدگی کا اعلان صرف ایک معمولی فیصلہ نہیں بلکہ عالمی توانائی نظام میں ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ہے۔ یکم مئی 2026 سے نافذ ہونے والا یہ فیصلہ یو اے ای کو ایک ایسے “آزاد کھلاڑی” میں تبدیل کر دیتا ہے جو اب کارٹل کی پابندیوں سے نکل کر اپنی مرضی کی پیداوار اور حکمت عملی اختیار کر سکے گا۔ یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عالمی آئل مارکیٹ پہلے ہی شدید دباؤ کا شکار ہے اور برینٹ کروڈ کی قیمت 110 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایسے میں یو اے ای کا اوپیک سے نکلنا قیمتوں میں مزید اتار چڑھاؤ اور غیر یقینی صورتحال کو جنم دے سکتا ہے

مبصرین کے مطابق یو اے ای کے اس فیصلے کی سب سے بڑی وجہ پیداوار کے کوٹے پر طویل تنازع ہے۔ یو اے ای نے گزشتہ دہائی میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر کے اپنی پیداواری صلاحیت تقریباً 5 ملین بیرل یومیہ تک بڑھا چکا ہے، مگر اوپیک پلس کی پابندیوں کے تحت اسے تقریباً 3.2 ملین بیرل یومیہ تک محدود رکھا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یو اے ای کی تقریباً 40 فیصد صلاحیت مسلسل غیر استعمال شدہ جا رہی ہےجو کسی بھی معیشت کے لیے ناقابل قبول صورتحال ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب مستقبل میں تیل کی طلب کم ہونے کا خدشہ موجود ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق خطے میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی کشیدگی نے بھی اس فیصلے کو موضوع بحث بنا دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں عدم استحکام اور تیل کی ترسیل میں رکاوٹوں نے یو اے ای کو مجبور کیا کہ وہ ایک ایسی حکمت عملی اپنائے جس سے وہ کسی بھی بحران میں اپنی برآمدات جاری رکھ سکے۔ حبشان-فجیرہ پائپ لائن جیسا انفراسٹرکچر اسی سوچ کا مظہر ہے، جو یو اے ای کو ہرمز کو بائی پاس کرتے ہوئے عالمی مارکیٹ تک رسائی دیتا ہے۔ مبصرین کا مزید کہنا ہے کہ معاشی پہلو سے دیکھا جائے تو یو اے ای اب صرف تیل پر انحصار کرنے والا ملک نہیں رہا۔ اس کی معیشت کا بڑا حصہ اب غیر تیل شعبوں جیسے مصنوعی ذہانت، مالیات، اور لاجسٹکس پر مشتمل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ تیل سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنی طویل مدتی معاشی تبدیلی کو مزید موثر بنانے کا خواہاں ہے۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق یو اے ای کا اوپیک سے نکلنا اس لیے بھی اہم ہے کہ متحدہ عرب امارات اوپیک تنظیم کے بڑے پیداواری ممالک میں شامل تھا۔ اس کے اخراج سے نہ صرف اوپیک کی طاقت متاثر ہوگی بلکہ عالمی مارکیٹ میں وہ اضافی بفر بھی کم ہو جائے گا جو قیمتوں کو مستحکم رکھنے میں مدد دیتا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ اس فیصلے کے اثرات کیا ہوں گے؟ اس سوال کا مختصر جواب یہ ہے کہ اس فیصلے سے خطے میں غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہو گا۔ مبصرین کے بقول اگر یو اے ای اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ پیداوار بڑھاتا ہے تو عالمی منڈی میں سپلائی بڑھ سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں کمی کا دباؤ آ سکتا ہے۔ لیکن اگر جغرافیائی کشیدگی برقرار رہی اور سپلائی چین متاثر ہوئی تو قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ یعنی دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک ہی فیصلہ بیک وقت قیمتوں کو اوپر بھی لے جا سکتا ہے اور نیچے بھی، اسی غیر یقینی صورتحال کو عالمی معیشت کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ یو اے ای کا یہ قدم نہ صرف اوپیک بلکہ پوری عالمی توانائی سیاست کے لیے ایک ویک اپ کال ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا دیگر ممالک بھی اس راستے پر چلتے ہیں یا اوپیک اپنی گرفت برقرار رکھنے میں کامیاب رہتا ہے۔

Back to top button