عمران خان کے اسرائیل اور بھارت سے دیرینہ تعلقات کی حقیقت کیا ہے؟

عمران خان کے بھارت اور اسرائیل کے ساتھ مبینہ تعلقات کا معاملہ ایک ایسی پیچیدہ بحث بن چکا ہے جس میں سیاسی الزامات اور اس حوالے سے سامنے آنے والے ٹھوس شواہد کے درمیان ایک واضح خلیج دکھائی دیتی ہے۔ ایک طرف عمران خان کے ان ممالک کے ساتھ گہرے روابط کے دعوے کیے جاتے ہیں، تو دوسری طرف اب تک کوئی ایسا ناقابلِ تردید ثبوت سامنے نہیں آ سکا جو ان دعوؤں کو مکمل طور پر ثابت کر سکے۔
سینئر صحافی شکیل انجم کے مطابق جو حلقے عمران خان پر بیرونی روابط کا الزام عائد کرتے ہیں، وہ زیادہ تر الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ممنوعہ فنڈنگ کیس کا حوالہ دیتے ہیں۔ اس کیس میں چند غیر ملکی افراد، جن میں انڈین اور اسرائیلی نژاد شہری بھی شامل تھے، ان کی جانب سے پی ٹی آئی کو عطیات دینے کی نشاندہی کی گئی ہے۔ سیاسی مخالفین انہی رپورٹس کو بنیاد بنا کر یہ تاثر دینے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں کہ تحریک انصاف کی قیادت بیرونی مفادات کے زیرِ اثر ہے، حالانکہ یہ معاملہ اب بھی قانونی اور سیاسی بحث کا حصہ ہے، کوئی حتمی فیصلہ نہیں۔
اسی طرح ناقدین اکثر عمران خان کی ذاتی زندگی، خصوصاً گولڈ اسمتھ خاندان سے تعلق کو بھی عمران خان کے اسرائیل سے تعلقات کی ایک علامتی کڑی کے طور پر پیش کرتے ہیں، حالانکہ حقیقت میں یہ ایک نجی معاملہ ہے جسے براہِ راست ریاستی پالیسی سے جوڑنا درست نہیں سمجھا جاتا۔ بھارت کے حوالے سے عمران خان کا 2019 کا بیان، جس میں انہوں نے نریندر مودی کی جیت کو مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے ایک ممکنہ موقع قرار دیا تھا، آج بھی تنقید کا محور ہے۔ ان کے حامی اسے ایک حقیقت پسندانہ سیاسی تجزیہ قرار دیتے ہیں، جبکہ ناقدین کے نزدیک یہ ایک ایسے رہنما کے لیے نرم مؤقف تھا جس نے ہمیشہ پاکستان کے خلاف سخت پالیسی اپنائی۔
تاہم، اگر عملی اقدامات کو دیکھا جائے تو عمران خان کے دورِ حکومت میں بھارت کے ساتھ تعلقات شدید کشیدگی کا شکار رہے۔ بالاکوٹ واقعے اور آرٹیکل 370 کے خاتمے کے بعد پاکستان نے نہ صرف سفارتی تعلقات محدود کیے بلکہ تجارتی روابط بھی معطل کر دئیے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ریاستی سطح پر ایک سخت اور روایتی مؤقف برقرار رکھا گیا۔اگرچہ مالیاتی ریکارڈز اور بعض بیانات سیاسی بیانیے کو تقویت دیتے ہیں، لیکن یہ تاحال کسی واضح یا ثابت شدہ سٹریٹیجک اتحاد کی شکل اختیار نہیں کر سکے۔ عمران خان کی مجموعی حکومتی پالیسیوں میں بھی زیادہ تر وہی روایتی قومی مؤقف دکھائی دیتا ہے جو ماضی کی حکومتوں میں دیکھا گیا۔
تاہم، اس کے باوجود کئی ایسے سوالات ضرور جنم لیتے ہیں جن کے جوابات واضح نہیں۔ یہی ابہام مختلف قیاس آرائیوں کو جنم دیتا ہے اور بعض حلقوں میں شکوک و شبہات کو تقویت دیتے ہیں۔
تحریک انصاف کے اندرونی حالات بھی اس بحث کو مزید پیچیدہ بناتے ہیں۔ پارٹی اس وقت شدید تقسیم اور انتشار کا شکار دکھائی دیتی ہے۔ ایک سنجیدہ اور نظریاتی طبقہ خاموشی سے الگ ہو چکا ہے، جبکہ اس کی جگہ ایسے عناصر سامنے آئے ہیں جن پر تنقید کی جاتی ہے کہ وہ سیاسی اور جمہوری اقدار سے نابلد ہیں اور سخت بیانیے کے ذریعے پارٹی کو مزید تنازعات کی طرف لے جا رہے ہیں۔ کچھ حلقوں کی جانب سے یہ بھی کہا جاتا ہے کہ پارٹی کے اندرونی فیصلوں اور بیانیے میں بعض قریبی افراد کا کردار بڑھا ہے، جس کے نتیجے میں نہ صرف سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا بلکہ بعض مواقع پر غیر ذمہ دارانہ بیانات اور غیر مصدقہ اطلاعات نے بھی صورتحال کو مزید بگاڑا۔
مجموعی طور پر یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ عمران خان، بھارت اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کا بیانیہ اب بھی الزامات، جزوی حقائق اور سیاسی تعبیرات کا مجموعہ ہے۔ اس میں حتمی سچ تک پہنچنے کے لیے ضروری ہے کہ ہر دعوے کو جذبات کے بجائے ٹھوس شواہد اور غیر جانبدار تجزیے کی بنیاد پر پرکھا جائے، کیونکہ قومی مفاد کا تقاضا بھی یہی ہے۔
