ن لیگ پیپلز پارٹی مخالف خفیہ سازش میںکیسے شامل ہوئی؟

بلاول بھٹو کا سڑکوں پر آنا بلاوجہ نہیں۔ پیپلزپارٹی کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ ہونے کے اقدام میں نگران حکومت کی طوالت کے منصوبے کی بو آرہی ہے۔ نگران حکومت کی تشکیل کے بعد پیپلزپارٹی کے خلاف درپردہ کارروائیوں کو پارٹی کی اعلی قیادت ایک بڑی سازش کے طور پر دیکھتی ہے۔ ان کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نون بھی کہیں نا کہیں خفیہ ہاتھوں کے ساتھ آن بورڈ ہے۔ انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر بھی پیپلزپارٹی نون لیگ کے “مطمئن روئیے” سے غیرمطمئن ہے۔ یہ معلومات سینئر صحافی جاوید فاروقی نے اپنی ایک تحریر میں فراہم کی ہیں . وہ کہتے ہیں کہ پیپلزپارٹی کے چئیرمین بلاول بھٹو نے اچانک سڑکوں پرآکر بے شمار سوالات کھڑے کردئیے۔ تجزیہ کار یہ کھوج لگا رہے ہیں کہ ایک طرف جہاں تمام سیاسی جماعتیں آئندہ انتخابات کے لئے اسٹبلشمنٹ کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ انتخابات کے باضابطہ اعلان تک اپنی توانائی بچائے رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں تو بلاول بھٹو زرداری آخر کس کو اپنے مسلز دکھانے کے لئے پاور شو کررہے ہیں ؟ کہیں تو اس مارچ کی وجوہات تلاش کی جارہی ہیں تو کہیں بلاول کے اپنے والد سے اختلاف پر تبصرے تجزئیے کئے جارہے ہیں۔ ایک لمحے کے لئے دیگر سیاسی جماعتوں کا جائزہ لیں تو عمران خان کے جیل میں بند ہونے کے بعد اسٹبلشمنٹ کے زیرعتاب تحریک انصاف مکمل طور پرغیرفعال ہے۔ پارٹی دفتروں پہ تالے پڑے ہیں۔ سینکڑوں کارکن گرفتاریوں سے بچنے کے لئے روپوش ہیں اور انتخابات کا بگل بجنے کا انتظار کررہے ہیں۔ دوسری طرف بڑی جماعت مسلم لیگ نون کے قائد نوازشریف کے بعد پارٹی صدر اور سابق وزیراعظم شہبازشریف بھی لندن کی ٹھنڈی ہواؤں میں بیٹھے الیکشن شیڈول کا انتظار کررہے ہیں اور لگتا ہے کہ الیکشن کے حوالے سے انہیں کوئی جلدی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ شہبازشریف نے نون لیگ کا صدر ہونے کے ناطے نوازشریف کی وطن واپسی کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے نوازشریف بھی اسٹبلشمنٹ کے تیور اور احتساب ترمیمی ایکٹ کے خلاف پٹیشن پرسپریم کورٹ کے ممکنہ فیصلے پر نظر رکھے ہوئے ہیں . جاوید فاروقی لکھتے ہیں کہ یہاں سوال یہ ہے کہ بلاول بھٹو نے آخر کراچی سے لاہور تک غیر اعلانیہ مارچ کیوں کیا۔ پیپلزپارٹی کے ذمہ دار رہنما کا کہنا ہے کہ نگران حکومت کی تشکیل کے بعد پیپلزپارٹی کے خلاف درپردہ کارروائیوں کو پارٹی کی اعلی قیادت ایک بڑی سازش کے طور پر دیکھتی ہے۔ جس میں ان کا خیال ہے کہ مسلم لیگ نون بھی کہیں نا کہیں خفیہ ہاتھوں کے ساتھ آن بورڈ ہے۔ انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ ہونے پر بھی پیپلزپارٹی نون لیگ کے “مطمئن روئیے” سے غیرمطمئن ہے۔ بلاول بھٹو کے سڑکوں پر آنے کے حوالے سے رہنما نے بتایا کہ پیپلزپارٹی کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان نہ ہونے کے اقدام میں نگران حکومت کی طوالت کے منصوبے کی بو آرہی ہے۔ بلاول بھٹو کا سڑکوں پر آنا بلاوجہ نہیں۔ اس سے ایک طرف وہ طاقت کے مراکز کو عوام بالخصوص سندھ میں اپنی مقبولیت دکھا رہے ہیں تاکہ پیپلزپارٹی کی طرف بڑھنے والے ہاتھوں کو یہیں پر روک دیا جائے۔ وہیں انتخابات کے نوے روز میں انعقاد کی بار بار بات کرکے وہ طاقت کے مراکز کو دباؤ میں لانا چاہتے ہیں بنیادی مقصد یہ ہے کہ اگر الیکشن نوے دن میں نہیں ہوتے تو یہ جنوری فروری سے آگے بھی نہ جائیں۔ یا دوسرے لفظوں میں نگران سیٹ اپ کی طوالت کے کسی بھی ممکنہ خاکے کا بھی خاتمہ چاہتے ہیں۔ جاوید فاروقی بتاتے ہیں کہ بلاول بھٹو کے اس غیر اعلانیہ مارچ کا دلچسپ پہلو یہ ہے کہ فروری 2022 میں جب بلاول بھٹو نے پی ٹی آئی حکومت کے خلاف لانگ مارچ کیا تو اسلام آباد پہنچنے تک کی ڈیڈ لائن دیکر انہوں نے عمران خان سے نئے انتخابات کا مطالبہ کیا اور پھر جب پی ٹی آئی چیف نے خود اسمبلیاں نہ توڑیں تو بلاول بھٹو نے اسلام آباد پہنچ کر حکومت کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے کا اعلان کیا تھا۔ تب ان کی اس تحریک میں نون لیگ ان کے ساتھ تھی۔ تاہم اب کراچی سے شروع ہونے والی اس نئی عوام رابطہ مہم کے دوران بلاول بھٹو اور تحریک انصاف کا مطالبہ ایک ہوگیا ہےاور نون لیگ اسٹبلشمنٹ کے کیمپ میں جاتی نظر آرہی ہے۔ ایک طرف بلاول بھٹو الیکشن کمیشن سے انتخابات کی تاریخ کا مطالبہ کررہے ہیں اور نون لیگ پر انتخابات سے فرار کا الزام عائد کررہے ہیں۔ اور تو اور وہ نوے روز میں الیکشن کے معاملے پر پہلی بار اپنے والد آصف زرداری سے بھی برسرعام اختلاف کررہے ہیں۔ جبکہ دوسری طرف تحریک انصاف نے صدرمملکت کو انتخابات کی تاریخ کا اعلان کرنے کے لئے باضابطہ خط لکھ دیا ہے۔ جس پر صدر نے الیکشن کمیشن اور حکومت کی مخالفت کے باوجود قانونی ماہرین سے مشاورت شروع کردی ہے۔ یعنی مطالبہ بھی ایک اور ٹائمنگ بھی ایک۔ بہرحال یہ ہفتہ عشرہ اس حوالے سے انتہائی اہم ہے کہ صدر ہوں یا الیکشن کمیشن دونوں کو کسی فیصلے پر پہنچنا ہوگا۔ حالات و واقعات بتا رہے ہیں کہ فوری انتخابات کے لئے پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف غیراعلانیہ طور پر ایک دوسرے کے قریب آرہی ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ بلاول بھٹو کا فروری 2022 کا لانگ مارچ تو عمران حکومت کی رخصتی پر منتج ہوا تھا تو کیا اس بار بلاول بھٹو کے شارٹ مارچ سے بھی کچھ برآمد ہوگا ؟؟؟
