وزیراعظم عمران خان کو برطانوی ہم منصب کا ٹیلی فون

وزیراعظم عمران خان کو برطانوی ہم منصب بورس جانسن کا ٹیلی فون, برطانوی وزیراعظم کا افغانستان سےسفارتی عملے کےانخلا میں پاکستان کی مدد پر اظہار تشکر، وزیراعظم عمران خان نے بورس جانسن سے بڑا مطالبہ کر دیا- تفصیلات کے مطابق وزیراعظم عمران خان کوبرطانوی ہم منصب بورس جانسن نے ٹیلی فون کیا، دونوں رہنماؤں کےدرمیان افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال ہوا، وزیراعظم نے پاکستان کیلئےپرامن اور مستحکم افغانستان کی اہمیت پرزور دیا۔
وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تمام افغانوں کےتحفظ کو یقینی بنانا ہوگا،ساتھ ہی وزیراعظم عمران خان نےجامع سیاسی تصفیےکی اہمیت پرزوردیا۔ برطانوی وزیراعظم نےافغانستان سےسفارتی عملےکےانخلا میں پاکستان کی مدد کو سراہا، دونوں وزرائےاعظم نے افغانستان کی صورتحال پررابطےمیں رہنےپراتفاق کیا۔
ٹیلی فونک گفتگو میں وزیراعظم نے برطانوی ہم منصب سےپاکستان کو ریڈلسٹ سےنکالنےکا بڑا مطالبہ بھی کیا۔

اس سے قبل آج وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے دوبارہ رابطہ کر کے افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، وزیر اعظم عمران خان جرمن چانسلر سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کریں گے۔ یہ بھی پڑھیں:افغانستان میں انتقال اقتدار، پاکستان کا ہمسایہ ممالک کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغان سیاسی رہنماؤں کے وفد نے اہم ملاقات کی تھی ، آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ صلاح الدین ربانی کی سربراہی میں آٹھ رکنی وفد نے آرمی چیف سے ملاقات کی، جس میں افغانستان کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دوسری جانب افغانستان میں انتقال اقتدار کے سلسلے میں پاکستان نے ہمسایہ ممالک کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جلد چار ہمسایہ ممالک کا دورہ کریں گے، ان دوروں کے دوران شاہ محمود افغان صورت حال اور انتقال اقتدار سے متعلق گفتگو کریں گے۔ سفارتی ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ جن چار ممالک کا دورہ کریں گے ان میں ترکمانستان، تاجکستان، ازبکستان اور ایران شامل ہیں، وزیر خارجہ کا یہ دورہ 25 اگست سے 27 اگست تک ہوگا۔
وزیر خارجہ پاکستان اپنے دوروں میں افغانستان میں وسیع البنیاد حکومت کے قیام کی خواہش کا اعادہ کریں گے، ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر خارجہ کے 4 ملکی دورے کے انتظامات کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔ اسی طرح آج وزیر اعظم عمران خان نے ترک صدر رجب طیب اردوان سے دوبارہ رابطہ کر کے افغانستان کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا، وزیر اعظم عمران خان جرمن چانسلر سے بھی ٹیلی فونک رابطہ کریں گے۔
دوسری طرف آج آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے افغان سیاسی رہنماؤں کے وفد نے اہم ملاقات کی، آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ صلاح الدین ربانی کی سربراہی میں 8 رکنی وفد نے آرمی چیف سے ملاقات کی ہے، جس میں افغانستان کی صورت حال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ آرمی چیف نے پاکستان کا مؤقف پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان افغانستان کے ساتھ وسیع تر تعلقات کا خواہاں ہیں، اور ہم افغانستان میں دیرپا امن کے لیے ہر ممکن اقدامات کے لیے تیار ہیں، معاملات کے حل سے خطے میں دیرپا امن و استحکام آئے گا۔
افغان وفد نے کہا کہ پاک فوج کی افغانستان میں امن کے لیے کوششیں قابل قدر ہیں۔انہوں نے کہا کہ سربراہ افغان طالبان کے حکم پر سب کو معاف کردیا گیا ہے ہم نے ہر اس شخص کو معاف کردیا جو ہمارے خلاف کھڑا تھا، یقین دہانی کراتے ہیں کسی سے کوئی تصادم نہیں ہوگا، یقین دہانی کراتے ہیں افغانستان کسی جنگ کا حصہ نہیں بنے گا۔

Back to top button