وزیراعلیٰ محمود خان اور گورنر شاہ فرمان کا پنگا پڑ گیا

وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان اور گورنر شاہ فرمان کے مابین بڑھتے ہوئے اختلافات کے بعد اب محمود خان کے خلاف ایک بار پھر کابینہ میں بغاوت شروع ہو چکی ہے اور اب تک چار وزراء اپنے عہدوں سے مستعفی ہو چکے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس بغاوت کے پیچھے گورنر شاہ فرمان اور وفاقی وزیر علی امین گنڈا پور کا ہاتھ ہے جو خیبر پختونخواہ میں پرویز خٹک گروپ کو اقتدار سے باہر کرنے کے درپے ہیں۔
اب پختونخواہ کابینہ سے نکلنے والے وزیر بلدیات اکبر ایوب خان ہیں جن کو 5 اگست کو فارغ کیا گیا۔ اگرچہ انکے بارے میں یہ تاثر دیا جارہا ہے کہ انہوں نے وزیر اعلی کو استعفی پیش کیا تاہم حقیقت یہ ہے کہ اکبر ایوب کو فارغ کیا گیا ہے اور اسی لیے ان کی نوٹیفکیشن میں بھی ڈی نوٹیفائی کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ بیرسٹر جہانگیر جدون کا کہنا یے کہ جب کوئی صوبائی وزیر اپنے عہدے سے فارغ کیا جاتا ہے تو آئین کے آرٹیکل 132 کی ذیلی دفعہ 3 کے تحت وزیراعلی کی ایڈوائس پر متعلقہ صوبے کا گورنر اس حوالے سے نوٹیفیکشن جاری کرتا ہے۔ لیکن اکبر ایوب کے معاملے میں واضح ہے کہ انہوں نے خود استعفیٰ نہیں دیا بلکہ انہیں فارغ کیا گیا ہے۔ اس ضمن میں گورنر خیبر پختونخوا شاہ فرمان کا جاری کردہ نوٹیفیکیشن ناقابل تردید ثبوت ہے۔
دوسری جانب پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ اصل مسئلہ خیبرپختونخوا میں گورنر شاہ فرمان اور وزیر اعلی محمود خان کے مابین اختیارات کی جنگ کا ہے۔ خیبر پختونخواہ میں تحریک انصاف کی اندرونی تقسیم بڑی واضح ہے۔ وزیر اعلی محمود خان وفاقی وزیر دفاع اور صوبے کے سابق وزیر اعلی پرویز خٹک کے گروپ سے تعلق رکھتے ہیں جس کے مقابلے میں گورنر شاہ فرمان اور وفاقی وزیر برائے امور کشمیر و گلگت بلتستان علی امین گنڈا پور، سپیکر خیبر پختون خواہ اسمبلی مشتاق غنی اور وفاقی وزیر علی محمد خان اور چند وزراء پر مشتمل دھڑا وزیر اعلی کومحمود کو ٹف ٹائم دینے کے لیے کوشاں ہے۔
اسی دوران کچھ عرصہ پہلے وزیر اعلی محمود خان سے اختلافات کے باعث انکے مشیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی ضیاءاللہ بنگش نے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اسی روز ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے مشیر غزن جمال بھی مستعفی ہوگئے تھے۔ بعد ازاں حمایت اللہ خان بھی کابینہ چھوڑ گے۔ اسکے بعد صوبائی وزیر سوشل ویلفیئر ہشام انعام اللہ خان بھی اپنی جماعت کے لوگوں بالخصوص علی امین گنڈا پور پر کھلے عام تنقید کرتے رہے۔ انہیں وزیر اعلی محمود خان نے پہلے سمجھانے کی کوشش کی اور ناکامی پر انہیں فارغ کردیا۔ اب اکبر ایوب خان کی چھٹی کروا دی گئی یے۔
بیرسٹر جہانگیر جدون کے مطابق خیبر پختونخواہ کے صوبائی وزیر ایوب خان کو اس لیے فارغ کیا گیا ہے کہ ان پر وزیراعظم عمران خان کی کلین اینڈ گرین پالیسی کے برعکس کام کرنے کا الزام تھا۔ انکا کہنا تھا کہ اکبر ایوب نے ایک بڑی فرم کو صوبے میں اربوں روپے مالیت کے تین سو کرشنگ پلانٹ لگانے کی منظوری دی جس میں ان کا ذاتی مفاد تھا تاہم ان پلانٹس کی وجہ سے علاقے میں آلودگی میں اضافے کا واضح خدشہ تھا اس لیے وزیر اعظم کو ان کی شکایت لگانے کے بعد وزیر اعلی نے فارغ کر دیا۔ دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ علی امین گنڈا پور نے خیبر پختونخواہ اسمبلی سے اپنے بھائی رکن اسمبلی کو صوبائی وزیر لگوانے کے لئے لابنگ شروع کر رکھی ہے اور اپنا مقصد حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے ساتھیوں کے ذریعے وزیر اعلی محمود خان پر دباؤ ڈال رہے ہیں۔
تاہم وزیراعلی محمود خان کی اپنی کابینہ کے وزراء سے اختلافات کوئی نئی بات نہیں ہے۔ یاد رہے کہ جنوری 2020 میں سینئر صوبائی وزیر عاطف خان، وزیر صحت شہرام تراکئی اور وزیر مال و ریونیو شکیل احمد کو ایسے ہی اختلافات کے بعد عمران خان کی مرضی سے کابینہ سے فارغ کردیا گیا تھا، تینوں صوبائی وزراء کو ایک ہی الزام کے تحت عہدوں سے فارغ کیا گیا۔ حکومت کی طرف سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن کے تحت تینوں صوبائی وزراء پر وزیر اعلیٰ خیبر پختونخواہ محمود خان کے خلاف بغاوت کا الزام عائد کیا گیا تھا۔ تاہم ایک برس کے بعد محمود خان سے صلح اور وزیراعظم عمران خان سے معافی تلافی کے باعث عاطف خان اور شہرام ترکئی کی کابینہ میں واپسی ہوگئی تھی۔ لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ گورنر شاہ فرمان وزیراعلی محمود خان کو گرانے میں کامیاب ہوتے ہیں یا خود گر جاتے ہیں۔
