چینیوں کی حفاظت کیلئے پاک فوج کی دو پلاٹونیں تعینات

داسو ہائیڈرو پاور پروجیکٹ پر کام کرنے والے چینی انجینئرز پر ایک دہشت گرد حملے کے بعد چین کے تحفظات دور کرنے کے لیے پاکستان آرمی نے اپر کوہستان، لوئر کوہستان، اور کولائی پالوس کے اضلاع میں پاک فوج کے دو پلاٹون تعینات کر دئیے ہیں جبکہ قراقرم ہائی وے کی سیکیورٹی بھی مکمل طور پر فوج کے حوالے کردی گئی ہے۔
یاد رہے کہ داسو حملے کے بعد اس اہم ترین منصوبے پر کام شروع نہیں ہو پا رہا تھا کیونکہ پاکستانی حکام چین کے تحفظات دور نہیں کر پائے تھے۔ تاہم اب یہ اطلاعات ہیں کہ چینی حکام نے پاکستان میں چینی سفیر کی یقین دہانیوں پر 14 اگست سے دوبارہ داسو پروجیکٹ پر کام شروع کرنے پر اتفاق کر لیا ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ واپڈا نے پاکستانی عسکری حکام کی مدد سے داسو ہائیڈو پاور پروجیکٹ پر کام بحال کرنے اور گزوہبا گروپ کمپنی کو قائل کرنے کے لیے چینی سفیر کی خدمات حاصل کی تھیں اور اس منصوبے پر کام کرنے والی چینی کمپنی کو پاکستان میں مکمل تحفظ اور فول پروف سکیورٹی کی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔
خیال رہے کہ خیبر پختون خواہ کے ضلع اپرکوہستان میں زیر تعمیر 4 ہزار 3 سو 20 میگاواٹ کا منصوبہ 14 جولائی 2021 کو ایک بس حملے کے بعد روک دیا گیا تھا جس میں 9 چینی ملازمین سمیت 13 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ اس واقعے پر احتجاج کے لیے چینی وزیر اعظم نے خود پاکستانی وزیراعظم عمران خان کو فون کیا تھا اور اس دہشت گرد حملے میں ملوث عناصر کی فوری گرفتاری کا مطالبہ کیا تھا۔
یاد رہے کہ حملے میں مارے جانے والے انجینئیرز کا تعلق چین کی گزوہبا کمپنی تھا جس نے منصوبے پر کام روک رکھا یے۔ اس چینی کمپنی سے مذاکرات کرنے والی واپڈا کی ٹیم کے ایک رکن نے بتایا کہ چینی سفیر نونگ رونگ کی جانب سے مکمل سیکیورٹی کی یقین دہانی کے بعد اب ہم پر امید ہیں کہ داسو ڈیم پر 14اگست کو دوبارہ کام شروع کردیا جائے گا۔
ذرائع نے بتایا ہے کہ چین کے مطالبے پر پاکستانی حکومت نے داسو ڈیم اور دیامر بھاشا ڈیم کے منصوبوں پر کام کرنے والے چین کے شہریوں کی سلامتی کے لیے اپر کوہستان، لوئر کوہستان اور کولائی پالوس کے اضلاع میں پاک فوج کے دو پلاٹون تعینات کر دیے ہیں تاکہ چینی کمپنی کے تحفظات دور کیے جا سکیں۔ قراقرم ہائی وے پر بھی سیکیورٹی اہلکاروں کو تعینات کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کے ذریعے پاکستان اور چین مل کر توانائی کے اس بڑے منصوبے کے مشترکہ دشمن کے ناپاک ارادے پسپا کریں گے۔ داسو کی ضلعی انتظامیہ کی جانب سے بلائے گئے ‘امن جرگہ’ میں بریگیڈئیر حبیب اللہ نے یہ اعلان بھی کر دیا ہے کہ پاکستان آرمی نے قراقرم ہائی وے کی سیکیورٹی مکمل طور پر سنبھال لی ہے۔
باخبر ذرائع نے بتایا ہے کہ پاکستانی حکام نے چینی حکومت کو داسو حملے میں ملوث چینی مسلم عسکریت پسند گروپ کے خلاف سخت ترین کارروائی کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔ یاد رہے پہ داسو ڈیم کے قریب ایک بس حملے میں 9 چینی انجینئرز کی ہلاکت کی تحقیقات میں چین کے مسلم اکثریتی صوبے سنکیانگ کی آزادی کے جنگ لڑنے والے مسلم جہادی گروپ ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے آئے تھے جسکے بعد چین نے پاکستان اور افغان طالبان سے اس گروہپ کو کچلنے کا مطالبہ کیا تھا۔
چینی وزیراعظم نے فون کال کے دوران نہ صرف وزیراعظم عمران خان سے ای ٹی آئی ایم کے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا بلکہ افغان طالبان سے بھی کہا ہے کہ افغانستان میں میں بھی اس مسلم جہادی گروہوں کے ٹھکانے ختم کیا جائے۔حال ہی میں افغان طالبان کے ایک وفد کی بیجنگ میں حکومتی عہدیداروں سے ملاقات کے دوران بھی طالبان سے مطالبہ کیا گیا کہ ان کے زیر تسلط افغان علاقوں میں موجود ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کے تھکانے فوری طور پر ختم کئے جائیں تاکہ وہ چین کے خلاف کارروائیاں نہ کر پائیں۔ چین نے پاکستان سے بھی یہی مطالبہ کیا لیکن پاکستانی حکام کا موقف ہے کہ پاک فوج نے ماضی میں آپریشن کلین اپ کے دوران وزیرستان میں موجود ای ٹی آئی ایم کے تمام ٹھکانے ختم کر دیے تھے اور زندہ بچ جانے والے عسکریت پسند افغانستان بھاگ گئے تھے۔ اب جب غیر ملکی فوجیوں کے انخلا کے دوران افغانستان پر طالبان تیزی سے قابض ہورہے ہیں تو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ ساتھ چینی عسکریت پسند بھی سرحد پار کر کے پاکستان میں واپس آ رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک گروپ نے داسو میں چینی انجینئرز کی بس کو دہشت گردی کا نشانہ بنایا جسکا مقصد پاک چائنا سی پیک پروجیکٹ کو نقصان پہنچانا تھا۔ خیال رہے کہ چین پاکستان میں ’ون بیلٹ ون روڈ‘ منصوبے کے تحت کئی ارب ڈالرز کا سرمایہ سی پیک کی صورت میں لگا رہا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد چین کے مغربی صوبے سنکیانگ کو زمینی راستے سے گوادر کی بندرگاہ سے منسلک کرنا ہے جس سے چین کو بحیرہٴ عرب تک رسائی حاصل ہونے میں آسانی ہو گی۔ سی پیک منصوبے کے تحت پاکستان میں نئی شاہراہیں اور بندر گاہیں تعمیر کی جا رہی ہیں۔ لیکن سی پیک کے حوالے سے جہاں پاکستان کو اپنے معاشی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے کا موقع مل رہا ہے وہیں چین دہشت گردی سے پیدا شدہ خطرات اور سیکیورٹی سے متعلق پریشان بھی ہے۔

Back to top button