ٹی وی اینکر نایاب پرندوں کے قتل عام پر شدید تنقید کی زد میں

ایک نجی چینل سے وابستہ اینکر عمران ریاض خان کے ہاتھوں ایک ہی رات میں سینکڑوں قیمتی اور نایاب پرندوں کے غیر قانونی شکار کے عمل کی سوشل میڈیا پر بھرپور مذمت کا سلسلہ جاری ہے اور مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ کہ معصوم موسمی پرندوں کے اس بڑی تعداد میں قتل عام کے ذمہ دار شخص کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے بجائے کہ اسے صحافی ہونے کی وجہ سے تحفظ فراہم کیا جائے۔
سوشل میڈیا پر اینکر عمران ریاض خان کی ہاتھ میں بندوق لیے اپنی شکار والی جیپ کے بونٹ پر سینکڑوں معصوم پرندوں کی لاشیں سجائے تصویریں وائرل ہو چکی ہیں اور صارفین اس عمل کی کھلی مذمت کرتے نظر آتے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین کا اس حرکت کی مذمت کرتے ہوئے کہنا ہے کہ اینکر پرنس عمران ریاض اپنے پروگراموں میں قانون کی حکمرانی اور قانون کے سامنے سب کی برابری کی بات کرتے ہیں لیکن خود انہوں نے غیر قانونی شکار کیا ہے اور اس کے باوجود ابھی تک قانون ان کے خلاف حرکت میں نہیں آیا۔ عمران ریاض خان پر الزام ہے کہ انہوں نے چکوال کے قریبی علاقے میں سیاہ اور ملیشیا رنگ کے نایاب پرندے دراج کو سینکڑوں کی تعداد میں شکار کرتے ہوئے مار گرایا حالانکہ اس پرندے کے شکار پر مکمل طور پر پابندی عائد تھی۔ انہوں نے شکار دلجبا نامی اس علاقے میں کیا جہاں شکار کرنے پر پابندی عائد تھی۔سوشل میڈیا پر وائرل تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ عمران ریاض خان نے بندوق پکڑ رکھی ہے اور شکاری جیپ میں شکار کو لادے ہوئے ہیں۔ سوشل میڈیا صارفین پوچھ رہے ہیں کہ کیا اس قانون شکن کو اس ملک میں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے؟
محکمہ وائلڈ لائف سے وابستہ لوگوں کا کہنا ہے کہ پچھلے کچھ برسوں سے پاکستان میں موسمی پرندوں کے بڑھتے ہوئے اور بڑے پیمانے پر شکار کے باعث ان پرندوں کی سرد موسم میں پاکستان آمد میں میں بڑی تعداد میں کمی واقع ہوئی ہے۔ایک خطے سے دوسرے خطے کی جانب پرندوں کا سفر ہزاروں برسوں سے جاری ہے۔ ہزاروں میل کا یہ سفر اب ان کے جینز میں شامل ہو چکا ہے۔ شاید یہی وجہ کی ان کی نئی نسل جب پرواز شروع کرتی ہے تو وہ بھٹکے بغیر عین اس مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں ان کے آباؤ اجداد آیا کرتے تھے۔ ہر سال لاکھوں، کروڑوں پرندے سردیاں شروع ہوتے ہی برفانی علاقوں سے میدانی خطوں کی طرف پرواز کرتے ہیں۔ اسی طرح بدلتی رتوں کے سفیر یہ خانہ بدوش مہاجر پرندے ہر سال پاکستان کا بھی رخ کرتے ہیں۔
بین الاقوامی سطح پر نقل مکانی کرنے والے سینکڑوں اقسام کے کروڑوں پرندوں کے دو اہم فضائی راستے پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں لیکن پاکستان ان پرندوں کےلیے ماضی کے مقابلے میں اب ایک مسلسل ’غیر محفوظ‘ جنت بنتا جا رہا ہے۔ پرندوں کی حفاظت اور ان سے متعلق تحقیق کرنے والی عالمی تنظیم برڈ لائف انٹرنیشنل کے مطابق ہر سال انتہائی شدید موسم سے بچ کر بین الاقوامی سطح پر نقل مکانی کرنے والے پرندوں کے دو انتہائی اہم فضائی راستے، وسطی ایشیاء سے مشرقی ایشیاء تک اور وسطی ایشیاء سے مشرقی افریقہ تک، پاکستان سے ہو کر گزرتے ہیں۔ ان راستوں یا فلائی ویز کو استعمال کرنے والے پرندوں کی موجودہ تعداد ماضی کے مقابلے میں اب بہت کم ہو چکی ہے، جس کی چند بڑی وجوہات موسمیاتی تبدیلیاں، کم ہوتے ہوئے سرسبز علاقے، آبی خطوں یا واٹر باڈیز کا کم ہو جانا اور ایسے پرندوں کا بے تحاشا غیر قانونی شکار ہیں۔ پاکستان کا رخ کرنے والے یا پاکستان سے ہو کر گزرنے والے پرندوں میں سے بہت سے سائبیریا یا دیگر سخت سردی والے علاقوں سے بھی آتے ہیں۔ یہ ان گنت پرندے ہر سال ایک محدود عرصے کےلیے پاکستانی جھیلوں اور ڈیموں کے کنارے یا پھر ان گیلے سرسبز خطوں میں قیام کرتے ہیں، جنہیں ماہرین ویٹ لینڈز کا نام دیتے ہیں۔
پرندوں کی موسمی ہجرت کے حوالے سے پاکستان کے اہم علاقوں کے بارے میں ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ کی پاکستان شاخ کے رابطہ کار محمد وسیم کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پرندوں کی داخلی نقل مکانی بھی دیکھنے میں آتی ہے اور بین الاقوامی ہجرت بھی۔ گرم خطوں کا رخ کرنے والے پرندے پاکستان میں شمال سے لے کر دریائے سندھ کے ساتھ ساتھ نیچے تک گیلی سرسبز زمینوں، جھیلوں کے کنارے یا ڈیموں والے علاقوں میں قیام کرتے ہیں۔ ان پرندوں کی بین الاقوامی اور بین البراعظمی ہجرت پر منفی اثرات کی بڑی وجوہات عالمی درجہ حرارت میں اضافہ، جنگلات کا خاتمہ اور آبی علاقوں کا کم ہونا ہیں، لیکن پاکستان میں ایک بڑا مسلہ ان کا غیر قانونی شکار بھی ہے۔ شہروں کے پھیلاؤ، غیر منظم سیاحت اور انسانوں کے ہاتھوں پرندوں کے خالص ماحولیاتی نظام کو پہنچنے والے نقصان کے بھی کافی منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں خان پور ڈیم، راول جھیل، اور جھیل سیف الملوک جیسے آبی علاقوں کو تو ان پرندوں کے لیے صاف اور محفوظ رکھنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، مگر دیگر بہت سے پاکستانی علاقے اب ان پرندوں کےلیے صاف، پرکشش یا محفوظ نہیں رہے اس لیے اب وہ ان علاقوں کا رخ نہیں کرتے۔
پاکستان بین الاقوامی ہجرت کرنے والے پرندوں کے جس وسطی ایشیائی فضائی راستے میں پڑتا ہے، وہ مجموعی طور پر تییس ممالک سے ہو کر گزرتا ہے۔ تقریباً ایک چوتھائی صدی پہلے پاکستان میں قریب چھ سو ستر اقسام کے پرندے پائے جاتے تھے، جن میں سے تیس فیصد کے قریب وہ مہمان پرندے ہوتے تھے، جو سردیوں میں پاکستان کا رخ کرتے تھے۔
گزشتہ چھ برسوں سے پاکستان میں پیشہ ورانہ بنیادوں پر وائلڈ لائف فوٹوگرافی کرنے والے بلال قاضی نے بتایا کہ وہ اب تک پاکستان کے مختلف حصوں میں چار سو دس اقسام کے پرندوں کی تصویریں بنا چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات دس سال پہلے کے مقابلے میں آج کہیں شدید اور واضح ہیں۔ بلال قاضی نے کہا کہ پاکستان میں دیگر ممالک اور خطوں سے آنے والے پرندوں کی آمد بہت کم ہو چکی ہے۔ سردی اور گرمی کے موسموں کی شدت تک بدل چکی ہے۔ اس وجہ سے کافی حد تک وہ فضائی راستے بھی متاثر ہو رہے ہیں، جو نقل مکانی کرنے والے پرندے اپنی پروازوں کےلیے استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان میں داخلی یا بین الاقوامی ہجرت کرنے والے پرندوں کےلیے بڑے خطرات کی وضاحت کرتے ہوئے بلال قاضی نے پرندوں کے غیر قانونی شکار کو بھی ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی آبی علاقوں اور خطوں میں پرندوں کی بہت سی نسلوں کا غیر قانونی شکار عام ہے۔ اس شعبے میں کام کرنے والی تنظیموں اور اداروں نے خاص طور پر سیالکوٹ اور لاہور جیسے شہروں میں تو کچھ کام کیا ہے لیکن مجموعی طور پر پورے ملک میں ابھی بہت سارا کام کیا جانا باقی ہے۔ جنگلی حیات کے تحفظ کے محکمے صوبائی عملداری میں ہیں۔ وہ اپنے طور پر پوری کوششیں بھی کرتے ہیں کہ پرندوں کا غیر قانونی شکار نہ کیا جائے۔ لیکن زیادہ کامیابی اب تک اس لیے نہیں ہوئی کہ غیر قانونی شکار کو روکنے کی کوششیں کرنے والوں کی تعداد غیر قانونی شکار کرنے والوں کی تعداد کے مقابلے میں بہت کم ہے۔
پاکستان میں گزشتہ برسوں کے دوران اگر ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات بھی زیادہ واضح ہوئے ہیں تو ان تبدیلیوں کے خلاف عوامی اور سماجی شعور میں بھی اضافہ ہوا ہے۔
جنگلی حیات کے تحفظ کےلیے سرگرم اور مقامی کے علاوہ نقل مکانی کرنے والے پرندوں میں بہت زیادہ دلچسپی رکھنے والے ایک نوجوان رہائشی علی خان نے بتایا کہ دنیا کے بہت سے ممالک میں جب موسمی پرندے ہجرت کر کے وہاں آتے ہیں، تو وہاں کے وائلڈ لائف کے محکمے کوشش کرتے ہیں کہ ان پرندوں کو وہاں قدرتی ماحول میسر ہو، اور وہ اس موسم کو اپنی بقا کےلیے افزائش نسل کی خاطر بھی استعمال کر سکیں۔ بھارت میں بھی ایسا ہوتا ہے کہ جب ایسے پرندوں کی آمد کا موسم آتا ہے، تو لوگ ان پرندوں کو دانہ ڈالتے ہیں، وہاں مقامی سطح پر میلوں تک کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں جیسے ہی یہ موسم شروع ہوتا ہے، لوگ شکار کی تیاریاں کرنا شروع کر دیتے ہیں۔ علی خان نے کہا کہ پاکستان میں مہاجر پرندوں کی آمد میں کمی کی وجوہات میں موسمیاتی حالات کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کے رویے بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی باشندوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس وقت پاکستان میں پرندوں کی بہت سی اقسام ناپید ہو جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔ اس کے علاوہ قریب نصف درجن اقسام کے پرندوں کی نسلی بقا کو تو انتہائی شدید خطرات لاحق ہیں۔ لہذا ضروری ہے کہ پاکستانی عوام میں ان پرندوں کے تحفظ کے حوالے سے شعور اجاگر کیا جائے۔
