پاکستانی جاسوس جہاز کی کشمیر میں لینڈنگ پر کیا ہوا؟

کچھ عرصہ پہلے ایک پاکستانی جاسوس کبوتر کی گرفتاری کا دعوی کرنے والے بھارتی حکام کی اس وقت دوڑیں لگ گئیں جب پلاسٹک سے بنا پی آئی اے کا ایک جہاز مقبوضہ کشمیر میں جا گرا۔ تاہم بدحواس بھارتی پولیس حکام نے اس جہاز کو فوری طور پر اپنی تحویل میں لے کر تحقیقات شروع کر دی ہیں کہ کہیں اس میں جاسوسی کے آلات تو موجود نہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق مقبوضہ کشمیر کے ضلع کٹھوا میں ایک طیارے کی شکل کا غبارہ گرا جس پر پی آئی اے لکھا ہوا ہے اور سبز رنگ کے ساتھ چاند ستارا بھی بنا ہوا ہے۔ یہ غبارہ ہیرانگر سیکٹر کے سوترا چک گاؤں سے ملا جس پر بھارتی پولیس کی دوڑیں لگ گئیں اور انہوں نے اس میں جاسوسی کے آلات ڈھونڈنے شروع کردیے۔ بھارتی پولیس نے اس غبارے کو تحویل میں لے کر اس پر مزید تحقیقات شروع کردی ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق انڈیا کے زیر انتظام جموں کے ضلع کٹھوا میں ہیرانگر سیکٹر کے سوترا چک گاؤں میں ایک پی آئی اے کے طیارے کی شکل کا غبارہ گرا جسے مقامی پولیس نے تحویل میں لینے کی تصدیق کی ہے۔ انڈین خبررساں ادارے اے این آئی نے پی آئی اے کے نام اور پاکستانی پرچم کے رنگوں پر مشتمل غبارے کی تصویر شیئر کی اور بتایا کہ انڈیا کے جس علاقے میں یہ ’طیارہ‘ گرا وہاں موجودہ سراسیمگی پھیل گئی ہے۔ ہرچند کہ پاک بھارت سرحد پر جنگ بندی کا پھر سے اعلان ہو چکا ہے اور دونوں جانب سے سنہ 2003 کے جنگ بندی کے معاہدے کی پاسداری کا اعادہ کیا گیا ہے تاہم دونوں ملکوں کی جنگی تاریخ کے پیش نظر اس سیکٹر کے لوگوں کو یہ غبارہ کسی آسمانی بلا سے کم نہیں لگا ہوگا۔ ظاہر ہے جب تعلقات میں اعتماد کی کمی ہو تو کسی بھٹکے ہوئے غبارے سے لطف اندوز ہونے کے بجائے اس کی آڑ میں الزامات کے تیر ہی چلائے جاتے ہیں۔
چنانچہ پاکستانی جاسوس طیارہ کشمیر میں گرنے کی اطلاع پر بھارتی سوشل میڈیا پر تبصروں کی بھرمار ہوگئی۔
ونود نامی ایک صارف نے لکھا: ’مذاق سے قطع نظر کیا ہمارے ریڈار نے اسے نہیں دیکھا اور اگر دیکھا تو اسے کیوں نہیں مار گرایا۔ اس پاکستانی جاسوس طیارے کو زمین پر اترنے ہی کیوں دیا۔’ اس ٹویٹ کے جواب میں شوبھانگی گارگ نامی ایک صارف نے بظاہر ٹیکنالوجی کے شعبے میں پاکستان کی تنگ دامنی کا مذاق اڑاتے ہوئے لکھا: ’ہم اس ہائی ٹیک طیارے کو مار گرا کر اس کی ٹیکنالوجی کو برباد نہیں کرنا چاہتے تھے۔ اسی لیے اس طیارے کو زندہ قبضے میں لے لیا گیا ہے، ہم اس کا مطالعہ کریں گے اور اس میں موجود جدید ٹیکنالوجی کو چرانے کی کوشش کریں گے۔‘
پاکستانی طیارے پر آنے والے کمنٹس اپنی جگہ لیکن ان کمنٹس میں کچھ چیزیں مشترک ہیں اور وہ کسی نہ کسی حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ جیسے کئی کمنٹس میں کہا گیا کہ ’پاکستان کو انڈیا کووڈ ویکسین فراہم کر رہا ہے اور بدلے میں پاکستان اسے یہ بھیج رہا ہے۔‘ ایک صارف نے پوچھا کہ اس میں سے کیا نکلا اور پھر خود ہی کونڈوم کے ساتھ سوالیہ نشان لگا دیا۔
ایک اور صارف نے انڈیا میں مختلف مسائل پر تنقید کرنے والوں کو نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’اب لبرلز ‘فری پاکستان بیلون’ کا ہیش ٹيگ چلائیں گے۔‘
جبکہ بہت سے لوگوں نے پی آئی اے کی موجودہ صورت حال کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے لکھا کہ ’یورپی یونین کی جانب سے پابندی کے بعد اب وہ زیادہ سے زیادہ سفر کے لیے غبارے کا استعمال کر سکتے ہیں۔‘ ایک صارف نے لکھا کہ اس جہاز کو میوزیم میں رکھنا چاہیے اور اس کا نام ’پاکستان ایوی ایشن ٹیکنالوجی 2021‘ لکھنا چاہیے۔ جبکہ ایک صارف نے لکھا کہ ’عدم ادائیگی کے سبب ان کے اصل طیارے یا تو ضبط کر لیے گئے ہیں یا روک لیے گئے ہیں اس لیے اب وہ صرف یہ کاغذی طیارے اڑا رہے ہیں۔‘
جیوتی لکشمی نامی صارف نے کچھ عرصہ قبل عدم ادائیگی کی وجہ سے پی آئی اے کے ایک طیارے کو بیرون ملک روکے جانے کا حوالہ دے کر لکھا کہ ’رویہ نہ بدلا تو غبارے بھی بجٹ میں نہ رہیں گے.‘
آئی یو سی نامی ہینڈل ’پاکستان سے فضائی حملے‘ کے جملے کے ساتھ گفتگو میں شریک ہوا تو ٹویٹ کے دوسرے حصے میں لکھا ’انڈیا میں ڈر کا ماحول‘۔
پاکستانی غبارے کے سرحد پار اترنے اور پولیس کی جانب سے تحویل میں لیے جانے کی تصویر پر انڈین سوشل میڈیا صارفین نے پاکستان کے خلاف جذبات کے اظہار میں توانائیاں صرف کیں تو پاکستانی ٹویپس بھی چپ نہ رہے۔ پلاسٹک کے جہاز کی تصویر پر تبصرہ کرنے والے پاکستانی صارفین نے اس ’کارروائی‘ کو مزید میمز کا مواد قرار دیا تو کچھ نے اسے ’ابھینندن اور مگ 21 طیارے کے انتقام‘ سے تعبیر کیا۔ یوسف خان نامی صارف نے معاملے کو برا تسلیم کرتے ہوئے لکھا ’آپ کی ایئر فورس اور ان کا دفاعی نظام کہاں تھا؟‘
خود کو امریکہ میں مقیم انڈین بتانے والے امینہ نامی ہینڈل نے پولیس کو مخاطب کیا تو کچھ افراد کے نام بتاتے ہوئے لکھا ’پلیز بے جان چیزوں کو گرفتار کرنا چھوڑیں اور ان لوگوں کو پکڑیں جو معاشرے کو تقسیم کر رہے ہیں‘۔ محمود نامی صارف نے کہا کہ ’پہلے جاسود کبوتر اور اب غبارے، جب انڈینز غباروں کو سنجیدہ لیتے ہیں تو وہ دنیا کے لیے مذاق بنتے ہیں۔ لگے رہو منا بھائی‘۔
