پاکستان اور سعودی تعلقات تاریخ کی نچلی ترین سطح پر


پاکستان اور سعودی عرب کے مابین باہمی تعلقات بدترین صورتحال کا شکار ہوگئے ہیں۔ سفارتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب کے مابین باہمی تعلقات اس حد تک خرابی کا شکار ہو چکے ہیں کہ سعودی حکومت نے پاکستان کو دئیے گئے قرض میں سے ایک ارب ڈالرز کی فوری واپسی کا تقاضا کر دیا تھا جس کے بعد حکومت پاکستان نے اپنی عزت بچانے کے لیے چین سے ایک ارب ڈالرز قرض لے کر مطلوبہ رقم سعودی عرب کو لوٹائی۔
دفترخارجہ کے ذرائع کے مطابق پاکستان اور سعودی عرب کے مابین تعلقات کی خرابی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر پر سعودی شاہی خاندان کا پاکستان کے ساتھ بار بار کے وعدے کے باوجود ساتھ نہ دینا ہے کیونکہ وہ بھارت کے ساتھ اپنے تجارتی مفادات کے پیش نظر باہمی تعلقات خراب نہیں کرنا چاہتے تھے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے مسئلہ کشمیر کے تناظر میں سعودی عرب سے متعلق ایک سخت بیان کے بعد یہ بحث بھی چھڑ گئی ہے کہ کیا پاکستان سعودی عرب کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات پر نظر ثانی کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ ’میں آج سعودی عرب کو کہہ رہا ہوں کہ پاکستان کے مسلمان جو آپ کی سالمیت اور خود مختاری کے لیے لڑنے مرنے کے لیے تیار ہیں آج آپ سے تقاضا کر رہے ہیں کہ آپ وہ قائدانہ صلاحیت اور کردار ادا کریں جس کی امت مسلمہ آپ سے توقع کر رہی ہے۔‘
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ او آئی سی آنکھ مچولی اور بچ بچاؤ کی پالیسی نہ کھیلے۔ انھوں نے کہا کہ کشمیر کے مسئلہ پر او آئی سی کے وزرائے خارجہ کا اجلاس بلایا جائے۔ اگر یہ نہیں بلایا جاتا تو میں خود وزیر اعظم سے کہوں گا کہ پاکستان ایسے ممالک کا اجلاس خود بلائے جو کشمیر پر پاکستان کے ساتھ ہیں۔ ان کے مطابق یہ اجلاس او آئی سی کے پلیٹ فارم یا اس سے ہٹ کر بلایا جائے۔ شاہ محمود قریشی نے اپنے ایک جملے میں لفظ ’ورنہ‘ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ میرا نکتہ نظر ہے، اگر نا کیا تو میں عمران خان سے کہوں گا کہ اب مزید انتظار نہیں ہو سکتا، ہمیں آگے بڑھنا ہو گا ود اور ود آؤٹ۔ جب شاہ محمود قریشی سے پوچھا گیا کہ پاکستان ’وِد اور ودآؤٹ` سعودی عرب کے اس کانفرنس میں شریک ہو گا تو شاہ محمود قریشی نے جواب دیا کہ ’ود اور ود آؤٹ‘۔
پاکستان کے دفترِ خارجہ کی ترجمان عائشہ فاروقی کا کہنا ہے کہ پاکستان کے عوام کو او آئی سی سے بہت زیادہ توقعات اور امیدیں وابستہ ہیں جس کی وجہ تنظیم اور اس کے رکن ممالک سے ہمارے دیرینہ تعلقات ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی کا بیان پاکستان کے عوام کے جذبات اور خواہشات کی ترجمانی کرتا ہے۔ ٹی وی پر وزیر خارجہ کے اس بیان کو پاکستان کے دفتر خارجہ نے اپنی پالیسی کا حصہ قرار دیا ہے۔
سابق سیکریٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے بتایا کہ شاہ محمود قریشی نے جو کہا وہ سو فیصد درست ہے، کشمیر کے مسئلے پر عرب دوستوں نے پاکستان کا ساتھ نہیں دیا اورحکومت پاکستان کو دھوکا دیا ہے۔ لیکن پاکستان کے اس غصے کو سمجھنے کے لیے دیگر امور پر بحث سے قبل سعودی عرب کی کچھ معاشی مشکلات کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
وزارتِ خزانہ کے افسران نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک خبر کی تصدیق کی کہ سعودی عرب نے پاکستان کو دیے گئے قرض میں سے ایک ارب ڈالرز کی واپسی کا تقاضا کیا تھا جس کے بعد پاکستان نے چین سے قرض لے کر اس رقم کو سعودی عرب کو لوٹایا اور اہنی عزت بچائی۔
یاد رہے کہ جب تحریک انصاف کی حکومت اقتدار میں آئی تھی تو وہ سعودی عرب ہی تھا جس نے پاکستان کی معاشی مشکلات میں کمی لانے کے لیے سرمایہ کاری کے معاہدوں پر دستخط کیے اور امدادی پیکیج کی منظوری بھی دی۔ اس مقصد کے حصول کے لیے وزیر اعظم عمران خان کو خود سعودی عرب کے دورے کرنے پڑے۔ اسی دوران عمران خان نے سعودی عرب اور ایران کی صلح کروانے کی آفر بھی کی لیکن اب سعودی عرب اور ایران میں صلح کراتے کراتے صورتحال یہ ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ نے سعودی عرب کو مسئلہ کشمیر پر واضح پوزیشن لینے کا الٹی میٹم دے دیا ہے۔
سابق سیکریٹری خارجہ شمشماد احمد خان اپنے تجربات شیئر کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ’جو کشمیر پر ہمارے ساتھ نہیں ہے، وہ ہمارے ساتھ ہو ہی نہیں سکتا۔ عرب ممالک صرف تیل کی آمدن کی وجہ سے غرور میں ہیں لیکن انھیں پاکستان کی ان قربانیوں کا کوئی ادراک نہیں ہے کہ ہم نے کیسے ان کی وجہ سے اسرائیل اور ایران سے تعلقات بگاڑے ہیں۔‘ تاہم قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ نواز کے صدر شہباز شریف نے وزیرخارجہ کے سعودی عرب کے بارے میں بیان کو غیرذمہ دارانہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق سعودی عرب نے پاکستان کا مشکل کی ہر گھڑی میں ساتھ دیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ حکومت کے سخت انداز بیان پر قوم کو تشویش ہے۔ انہوں نے وزیر خارجہ کے بیان کو انتہائی غیر ذمہدارانہ اور افسوسناک ہے۔
پاکستان اور سعودی عرب کے باہمی تعلقات کی بدلتی ہوئی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے امریکی تجزیہ نگار مائیکل کگلمین نے کہا ہے کہ یہ بڑی پیش رفت ہے، پاکستان کے وزیر خارجہ عوامی سطح پر اب اپنے سب سے بڑے اتحادی سعودی عرب پر تنقید کر رہے ہیں جو کہ غیر معمولی ہے۔ان کے مطابق اس صورتحال کو خطے میں بہت اہم امور کے پس منظر میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
ٹوئٹر پر صارفین یہ سوال بھی پوچھتے نظر آ رہے ہیں کہ کیا پاکستان کشمیر کے مسئلے پر ساتھ دینے سے متعلق سعودی عرب کو دھمکی دے رہا ہے۔اس سوال کا پس منظر اس وجہ سے اہم ہے کہ کبھی کسی نے اس پہلو پر نہیں سوچا تھا کہ ایک دوسرے کے تحفظ کی قسمیں کھانے والے ان دو ممالک کے تعلقات ایک ایسے دو راہے پر چلے جائیں گے جہاں یہ دیگر ممالک کو قریب لانے کے بجائے ایک دوسرے کے ساتھ یا جدائی کی تمنا کر رہے ہوں گے۔
پاکستان کی معاشی پالیسی پر گہری نظر رکھنے والے ڈاکٹر اشفاق حسن کے خیال میں جیوسٹریٹیجک تبدیلیوں کی وجہ سے اب مختلف ممالک اپنی پالیسیوں کا تعین کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق سعودی عرب کشمیر کے معاملے پر پاکستان کی کھل کر حمایت نہیں کر رہا کیونکہ ان کے انڈیا کے ساتھ تجارتی مفادات ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان نے سعودی عرب کو اسکے پیسے واپس کر کے واضح پیغام دیا ہے کہ اب وہ بدلتے حالات میں سعودی عرب سے معاشی سے زیادہ سفارتی تعاون کا خواہاں ہے۔
شمشاد احمد خان کے مطابق او آئی سی، اسلامی ممالک کا اتحاد، ایک مذاق بن کر رہ گئی ہے اور اس کا دنیا میں کوئی کردار نہیں ہے۔ ایک سعودی عرب 57 ممالک کو بھیڑوں کی طرح آگے چلا رہا ہے اور عرب ملک یہ بات سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کشمیر پاکستان کی شہہ رگ ہے۔ لہذا وقت آ گیا ہے کہ پاکستان دوسروں کے مفادات کی نگہبانی کی بجائے اپنے مفادات کی نگہبانی پر توجہ مرکوز کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button