پاکستان نے ہدف پر حملہ کرنے والا جنگی ڈرون تیار کر لیا

بالآخر پاکستان جنگی مقاصد کے لئے استعمال ہونے والا ‘شہپر ٹو’ نامی ایسا ڈرون تیار کرنے میں کامیاب ہوگیا ہے جو ایک ہزار کلومیٹر تک پرواز کر کے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔
عرصہ دراز سے پاکستان کے پاس صرف ایسے ڈرون تھے جو فقط نگرانی کی غرض سے استعمال ہوتے تھے مگر اب پاکستان کی اسلحہ ساز کمپنیوں نے کراچی میں جاری جنگی ساز و سامان کی نمائش ’آئیڈیاز 2022‘ میں پہلی بار جنگی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے ڈرونز پیش کیے ہیں۔ کراچی میں چار سال کے وقفے کے بعد اس نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے جس میں ملک کی تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی ہے۔ یہ نمائش 18 نومبر کو اختتام پذیر ہوگی۔ اس نمائش میں دیگر ممالک سمیت چین اور ترکی کی کمپنیوں کی شرکت واضح رہی۔
پاکستان میں لوگوں نے پہلی بار ڈرونز کا نام تب سُنا تھا جب دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ کے دوران امریکی ڈرونز نے پاکستانی سرحدی حدود میں مطلوب شدت پسندوں کو نشانہ بنانا شروع کیا۔ پاکستان نے ڈرون ٹیکنالوجی میں باضابطہ پر پہلا قدم سرویلینس یا نگرانی کرنے والے ڈرونز بنانے کے میدان میں رکھا تھا۔ نگرانی کے کیے استعمال ہونے والے یہ ڈرونز ماضی میں ہونے والی آئیڈیاز کی نمائش میں نظر آتے تھے۔
حکومت پاکستان کی کمپنی ’گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفینس سلوشنز‘ کے سی ای او اسد کمال بتاتے ہیں کہ حکومت پاکستان کی طرف سے انھیں واضح ہدایات تھیں کہ جن ٹیکنالوجیز کا انحصار بیرون ممالک پر ہے ہم آہستہ آہستہ وہ تمام ٹیکنالوجیز پاکستان میں تیار کریں تاکہ زر مبادلہ بچایا جا سکے اور اس ٹیکنالوجی پر گرفت حاصل ہو جو دنیا سے ملنے میں مشکل ہوتی ہے۔ انکے مطابق ’آئیڈیاز کی سال 2018 میں جو آخری نمائش یوئی تھی اس میں ’براق‘ نامی سرویلنس ڈرون نمائش کے لیے پیش کیا گیا تھا جس کا کام محض ویڈیوز بنانا اور ہائی ریزولیشن تصاویر لینا تھا۔ اس کے بعد ہم نے اپنے اگلے منصوبے پر کام شروع کیا۔ ہماری اپنی فوج کی بھی یہ ضرورت تھی کہ نہ صرف وہ ٹارگٹ کو دیکھ سکیں، گھیراؤ کر سکیں اور اگر چاہیں تو اس کو تباہ بھی کر سکیں۔ اس کے بعد ہم نے ریسرچ کی اور ’شاہ پر ٹو‘ نامی ڈرون پر کام کیا۔
اسد کمال بتاتے ہیں کہ جب آپ کوئی ٹیکنالوجی اسمبل کرتے ہیں یا بیرون ملک سے لیتے ہیں تو جیسے ہی وہ ملک مطلوبہ ٹیکنالوجی دینا بند کرتا ہے تو آپ کی پراڈکٹ ادھوری رہ جاتی ہے۔ ایسے میں آپ اسے نہ خود استعمال کر سکتے ہیں اور نہ ہی برآمد کر سکتے ہیں لہذا اس کی جو بھی بنیادی ٹیکنالوجی ہے وہ پاکستان میں بنی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت پاکستان کا فلیگ شپ ڈرون ’شہپر ٹو‘ ہے جو پاکستان آرمی، نیوی، ایئر فورس کی فلیٹ میں شامل ہو چکا ہے اور حکومت اس نمائش سے اب اس کی دوسرے ملکوں کو برآمد کی خواہشمند ہے۔ اسد کمال بتاتے ہیں ’شہپر ٹو‘ ایک ہزار کلومیٹر تک پرواز کر کے ہدف کو نشانہ بنا سکتا ہے۔ یہ ڈرون سیٹلائٹ سے بھی رابطہ کاری کر سکتا ہے، دن ہو یا رات یہ ڈرون کسی بھی آپریشن میں کارآمد ہے اور یہ اپنے ہدف کو لیزر بیم سے لاک کر کے اس کو میزائل کی مدد سے تباہ کر سکتا ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ’شہپر ٹو‘ کی حد رفتار 120 ناٹس ہے جبکہ ٹیک آف سپیڈ 80 ناٹس سے لے کر 85 ناٹس ہے۔ اس کی کروزرفتار 80 سے 80 ناٹس ہوتی ہے، اس کا ریڈیس تقریباً 1050 کلومیٹر اور ڈیٹا لنک رینج 300 کلومیٹر ہے، یہ جنگی ڈرون دوران پرواز انجن دوبارہ سٹارٹ کرنے کی صلاحیت بھی رکھتا ہے۔
گلوبل انڈسٹریل اینڈ ڈیفنس سلوشنز ڈرونز کے دیگر منصوعات میں شاہ پر ون، عقاب ڈرون سیریز بھی شامل ہے، جو مختلف فاصلوں، رفتار اور اسلحہ لے کر پرواز کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان آرڈیننس فیکٹری کی جانب سے پہلے ’ابابیل‘ کے نام سے سرویلنس ڈرونز بنائے گئے تھے اب انھیں بھی جنگی مقاصد کے لیے مسلح کیا گیا ہے۔واضح رہے کہ پاکستان کے قبائلی علاقوں میں ڈرونز کو مقامی لوگوں نے ابابیل کا نام دیا تھا۔
