عاصم منیر جرنیلوں کی سینئارٹی لسٹ میں نمبر 1 ہو گے

ڈائریکٹر جنرل جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف کی ریٹائرمینٹ کے بعد کوارٹر ماسٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر احمد پاکستان آرمی کے سینئر ترین جرنیل بن گئے ہیں لہٰذا اب 29 نومبر کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لیے سمری کسی بھی وقت بھیجی جا سکتی ہے۔ سینئر صحافی اعزاز سید نے دعوی کیا ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر احمد کو حسب روایت اپنی ریٹائرمینٹ کا خط موصول نہیں ہوا۔ اسکا مطلب ہے کہ وہ اپنے عہدے پر سینیئر ترین لیفٹننٹ جنرل کی حیثیت سے برقرار رہتے ہوئے نئے آرمی چیف کی دوڑ میں پہلے نمبر پر آ گئے ہیں۔
اپنے یوٹیوب چینل پر سینئر صحافی عمر چیمہ سے بات کرتے ہوئے اعزاز سید نے بتایا کہ 18 نومبر کو ڈائریکٹر جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر لیفٹیننٹ جنرل وسیم اشرف اپنے دفتر میں آخری دن گزار کر ریٹائر ہو چکے ہیں اور 19 نومبر سے عاصم منیر احمد پاکستان آرمی کے سینیئر ترین لیفٹننٹ جنرل بن چکے ہیں۔ اعزاز سید کے مطابق اس سے پہلے تحریکِ انصاف کے رہنما اور سابق لیفٹننٹ جنرل خالد نعیم لودھی ایک ٹی وی پروگرام میں دعوی کیا تھا کہ عاصم منیر احمد 26 نومبر کو ریٹائر ہو رہے ہیں اور ان کا نام ان پانچ جرنیلوں میں شامل نہیں ہوگا جو وزارت دفاع کی جانب سے وزیر اعظم شہباز شریف کو نئے آرمی چیف کی تعیناتی کے لئے بھیجے جائیں گے۔ نعیم لودھی نے یہ بھی کہا تھا کہ ریٹائرمنٹ کا خط ایک ماہ پہلے ہی بھیج دیا جاتا ہے اور یہ بتایا دیا جاتا ہے کہ آپکی ریٹائرمینٹ کی تاریخ کیا ہو گی۔ تاہم اعزاز سید کے مطابق عاصم منیر احمد کو یہ خط موصول نہیں ہوا جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس وقت سینیئر ترین لیفٹننٹ جنرل بن چکے ہیں اور 27 نومبر تک سینئر ترین جنرل ہی رہیں گے۔ اس دوران قوی امکان موجود ہے کہ انہیں فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر ملک کا نیا آرمی چیف بنا دیا جائے۔
اعزاز سید نے کہا کہ کچھ لوگ راولپنڈی والی سائیڈ پر ہیں جو کہ کنفیوژن پھیلانا چاہتے ہیں اور انہیں میں سے کچھ عمران خان کے مشیر بھی ہیں جو ان کو بہت کچھ فیڈ کر رہے ہیں۔ لیکن عمران کو سمجھائے آ گئی ہے کہ تمام فیصلے ہو جانے کے بعد اب مزید محاذ کھولنا فائدہ مند نہیں ہوگا لہٰذا اب ذیادہ امکان یہی ہے کہ وہ آرمی چیف کی تعیناتی پر خاموشی برقرار رکھیں گے۔ خیال رہے کہ ایک روز پہلے عمران خان نے قوم یوتھ خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ نواز شریف نئے آرمی چیف کے ذریعے انہیں نہ صرف نااہل کروانا چاہتے ہیں بلکہ گرفتار بھی کروانا چاہتے ہیں۔
18 نومبر کو وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی صدر عارف علوی سے ملاقات بارے بات کرتے ہوئے اعزاز سید نے انکشاف کیا کہ عارف علوی نے واضح الفاظ میں بتایا کہ وہ آرمی چیف کی تقرری میں کوئی رخنہ نہیں ڈالیں گے کیونکہ آئینی طور پر یہ ان کے لئے ممکن ہی نہیں کہ وہ کوئی تعطل پیدا کر سکیں۔ اعزاز کا کہنا تھا کہ اسحاق ڈار سے ملاقات کے بعد اب واضح ہے کہ حکومت اور صدارتی محل کے درمیان لائن کلیئر ہو چکی ہے۔ البتہ پنڈی میں عمران خان کے کچھ مشیر اب بھی کنفیوژن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن میں سے ایک خالد نعیم لودھی بھی ہیں لیکن عمران کو سمجھا دیا گیا ہے کہ وہ اس حساس ترین تعیناتی کو متنازع نہ بنائیں۔
اعزاز سید کا کہنا تھا کہ صدر عارف علوی نے سینیٹر اعظم سواتی کو بھی صدارتی محل بلا کر سمجھایا ہے کہ وہ میجر جنرل فیصل نصیر پر الزامات لگانے سے گریز کریں۔ عمر چیمہ کے اس سوال پر کہ کیا عمران کی مرضی کے بغیر صدر عارف علوی نئے فوجی سربراہ کی تقرری میں رخنہ نہ ڈالنے کی گارنٹی دے سکتے تھے، اعزاز سید نے کہا کہ عمران اب کس کس سے لڑ سکتے ہیں؟ ایک طرف وہ حکومت سے لڑ رہے ہیں، دوسری جانب فوج سے لڑ رہے ہیں، تیسری جانب عدلیہ سے لڑ رہے ہیں، چوتھی جانب اب وہ فیصل واؤڈا سے بھی لڑ رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ کیا وہ صدر عارف علوی سے بھی لڑائی مول لے لیں؟ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے بہت سارے لوگ عمران خان کی فوج مخالف پالیسی سے خوش نہیں اور انہیں یہ مشورہ دے رہے ہیں کہ مزید محاذ کھولنا ان کی سیاست کے لئے اچھا نہیں ہے۔
