پاکستان کے کون کون سے سیاسی روبوٹ تلف ہونے جارہے ہیں

سینئر صحافی اور تجزیہ کار بلال غوری نے کہا ہے کہ پاکستان میں روبوٹ سازی کی صنعت کو یہ چیلنج شروع سے ہی درپیش رہا کہ روبوٹ میں کتنا ہی اچھا پروگرام فیڈ کیوں نہ کردیا جائے، کچھ عرصہ بعد اس میں جان پڑ جاتی ہے اور یہ بغاوت پر اتر آتا ہے۔ ایسی صورت میں انجینئر روبوٹ کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کر دیا کرتے ہیں یا پھر اس کی تمام شکتی واپس لے کر غیر موثر کر دیتے ہیں۔ راولپنڈی میں موجود سب سے بڑی تجربہ گاہ میں نہایت جدید قسم کے جو روبوٹ تیار کیے گئے تھے، سرکش ہوجانے کے بعدان کا ”سوفٹ ویئر“اپ ڈیٹ کرنے کا کام بہت تیزی سے جاری ہے۔ بعض ایسے روبوٹ جن کا سسٹم کرپٹ ہوچکا ہے اور ”سوفٹ ویئر“ اپ ڈیٹ کرنے کی گنجائش نہیں رہی،انہیں تلف کیا جارہا ہے۔ وی نیوز کے لئے لکھے گئے اپنے ایک کالم میں بلال غوری تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کو روبوٹس اور اسٹیبلشمنٹ کو ایک لیبارٹری سے تشبیہہ دیتے ہیں. اشاروں کنایوں سے بھرپور اس کالم میں وہ لکھتے ہیں کہ یوں تو پاکستان سائنس و ٹیکنالوجی کے میدان میں اقوام عالم سے بہت پیچھے ہے مگر روبوٹ بنانے اور انہیں اپنے اشاروں پر نچانے کے حوالے سے ہمارے ہاں ناقابلِ یقین ترقی ہوئی ہے۔ کبھی ہمارے ہاں بھی روبوٹ کا محض اتنا استعمال ہوتا تھا کہ کسان لکڑی کو قمیص پہنا کر پتلے کی شکل میں گاڑ دیا کرتے تھے تاکہ پرندے یہی سمجھیں کہ کسان اپنے کھیت کی حفاظت کے لیے چوکس کھڑا ہے لیکن اب تو ہر شعبہ ہائے زندگی میں روبوٹ کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں اور یہ طے کرنا دشوار ہوگیا ہے کہ کون انسان ہے اور کون روبوٹ۔
سائنس فکشن پر یقین رکھنے والے ان اندیشہ ہائے دور دراز میں بھی مبتلا ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے بنائے گئے روبوٹ کہیں اس قدر طاقتور اور بااختیار نہ ہو جائیں کہ اپنے بنانے والوں کے خلاف ہی بغاوت کردیں ایسی صورت میں انسان کے لیے روبوٹ کا مقابلہ کرنا ناممکن ہوگا اور یہ پوری دنیا کو بہ آسانی یرغمال بنا سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں روبوٹ سازی کی صنعت کو یہ چیلنج شروع سے ہی درپیش رہا کہ روبوٹ میں کتنا ہی اچھا پروگرام فیڈ کیوں نہ کردیا جائے، کچھ عرصہ بعد اس میں جان پڑ جاتی ہے اور یہ بغاوت پر اتر آتا ہے۔ ایسی صورت میں انجینئر روبوٹ کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کر دیا کرتے ہیں یا پھر اس کی تمام شکتی واپس لے کر غیر موثر کر دیتے ہیں۔
بلال غوری کہتے ہیں کہ چند برس قبل ایک شاہکار روبوٹ بنایا گیا جس کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ اب تک کا سب سے بہترین اور جدید خصوصیات کا حامل ایسا روبوٹ ہے جو نقش کہن بدل کر انقلاب برپا کردے گا۔ یہ روبوٹ اس قدر دلکش تھا کہ اس کے خالق بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ بہر حال، حسبِ سابق کچھ عرصہ بعد اس روبوٹ نے مزاحمت شروع کردی۔
کئی بار اس کا سافٹ ویئر اپ ڈیٹ کرنے کی کوشش کی گئی لیکن چونکہ یہ ففتھ جنریشن کا نہایت جدید روبوٹ ہے، اس لئے کنٹرول کرنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ اب اس روبوٹ کو اس کی طاقت سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ جب ہمیں معلوم ہے، کسی روبوٹ میں پروگرامنگ فیڈ کرکے اسے ہمیشہ کیلئے کنٹرول نہیں کیا جاسکتا، ماضی میں کئی روبوٹ آپے سے باہر ہونے کے بعد تباہی مچا چکے ہیں، تو اس قدر خطرناک روبوٹ کیوں بنایا گیا؟
آخر میں بلال غوری کہتے ہیں کہ اہم ترین سوال یہ ہے کہ روبوٹ سازی کی اس لیبارٹری کو بند کیوں نہیں کردیا جاتا؟ کب تک ”سوفٹ ویئر اپ ڈیٹ“کرتے رہیں گے؟ قائداعظم نے تو نجانے کس تناظر میں پاکستان کو اسلام کی تجربہ گاہ بنانے کی بات کی تھی مگر ہم نے تو اس ملک کو سچ مچ لیبارٹری میں تبدیل کردیا ہے۔
