پشاور کے مدرسے میں دھماکہ، 8 افراد شہید، 95 زخمی

پشاور کے علاقے دیر کالونی میں کوہاٹ روڈ پر واقع مدرسے میں دھماکے کے نتیجے میں کم از کم8 افراد شہید جب کہ 95 سے زائد زخمی ہو گئے۔
دھماکے کی اطلاع ملتے ہی پولیس، سکیورٹی فورسز اور ریسکیو ٹیمیں دھماکے جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں جہاں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ترجمان لیڈی ریڈنگ اسپتال (ایل آر ایچ) کے مطابق دیر کالونی مدرسے میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں 8 افراد شہید جب کہ زخمیوں کی تعداد 95 سے زائد ہے۔ ترجمان ایل آر ایچ کا کہنا ہے کہ زخمیوں میں زیادہ تر جھلسے ہوئے ہیں جس میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے۔ ریسکیو ذرائع کا کہنا ہے کہ دھماکے کے نتیجے میں مدرسے میں پڑھنے والے 19 بچے زخمی ہوئے۔ ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق دھماکہ ٹائم بم کے ذریعے کیا گیا جب کہ دھماکہ خیز مواد بیگ میں رکھ کر مدرسے لایا گیا تھا، واقعے کی مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ دھماکے میں 4 سے 5 کلو گرام دھماکہ خیز مواد استعمال کیا گیا، سی سی ٹی وی فوٹیج حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انسپکٹر جنرل (آئی جی) خیبرپختونخوا پولیس ثناء اللّٰہ عباسی نے دھماکے میں متعدد افراد کی شہادت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ دہشت گردی سے متعلق عمومی تھریٹ موجود تھا۔
خیبر پختونخوا کے صوبائی وزیر تیمور جھگڑا نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اس دھماکے میں سات افراد کی شہادت کی تصدیق کی ہے جب کہ ان کا کہنا تھا کہ 95 زخمیوں کو جائے وقوعہ سے لیڈی ریڈنگ اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ زخمیوں میں بچے بھی شامل ہیں جب کہ کچھ زخمیوں کو دیگر اسپتالوں میں بھی لے جایا گیا ہے۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ اس وقت مکمل توجہ زخمیوں کو علاج معالجے کی بہتر سہولیات کی فراہمی پر ہے
وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے نجی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس حوالے بہتر حفاظتی انتظامات کرنے کی ضرورت ہے۔خیبر پختونخوا کے معاون خصوصی برائے اطلاعات کامران بنگش نے کہا کہ اس حوالے سے شہر میں سکیورٹی سخت تھی۔ ان کے مطابق یہ ایک بڑا سانحہ تھا لیکن اگر سکیورٹی الرٹ نہ ہوتی تو اس سے بھی زیادہ شہادتیں ہو سکتی تھیں۔
خیبر پختونخوا کے وزیر برائے کلچر شوکت یوسفزئی نے مدرسے میں ہونے والے دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردوں کو مذہب سے تعلق نہیں ہے۔شوکت یوسفزئی کا کہنا تھا کہ علاقے میں کافی عرصے سے امن تھا اور سیکورٹی بھی بہتر تھی، کوئٹہ اور پشاور میں دہشت گردی تھریٹ الرٹ تھا، تھریٹ الرٹ کے بعد سیکورٹی مزید سخت کر دی گئی تھی۔ صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں نے بزدلانہ کارروائی کی ہے، دہشت گرد اپنے مقاصد کے لیے سافٹ ٹارگٹ دیکھتے ہیں اور بچے اور مدرسے سافٹ ٹارگٹ تھے۔صوبائی وزیر برائے کلچر نے بتایا کہ وزیراعلیٰ کے پی محمود خان نے دھماکے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے سکیورٹی صورت حال پر اعلیٰ سطح کا اجلاس طلب کرلیا ہے۔
