پنجاب میں تبدیلی،شہبا ز کی شجاعت اور زرداری سے ملاقاتیں

وزیراعظم شہباز شریف نے پنجاب میں تبدیلی کیلئے  مسلم ق کے سربراہ  شجاعت  حسین اورسابق صدر آصف علی  زرداری سے ملاقاتیں کی ہیں۔

ق لیگ  کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات  میں دونوں رہنماؤں نے ملک کی سیاسی صورتحال کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا،سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ٹوئٹ میں بتایا گیا کہ وزیراعظم شہباز شریف مسلم لیگ (ق) کے صدر چوہدری شجاعت حسین سے ملاقات کرنے لاہور میں ان کی رہائش گاہ پر گئے جہاں وزیراعظم نے معیشت کی بحالی اور عوام کے ریلیف کے حوالے سے کوششوں سے چوہدری شجاعت کو آگاہ کیا۔

چوہدری شجاعت نے ملک اور عوام کو مسائل سے نکالنے کے لیے وزیراعظم کی مخلصانہ کوششوں کو سراہا،دونوں رہنماؤں نے ملک کی سیاسی صورتحال پر تبالہ خیال کیا، جہاں وزیراعظم نے چوہدری شجاعت حسین کو پھولوں کا گلدستہ بھی پیش کیا اور دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون اور اشتراک عمل مزید بہتر اور مضبوط بنانے پراتفاق کیا۔دونوں رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ سیاسی استحکام اور قریبی تعاون ملک کو درپیش مسائل سے نکالنے کے لیے ضروری ہے۔

اس موقع پر وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی طارق بشیر چیمہ، بورڈ آف انویسٹمنٹ کے وزیر چوہدری سالک حسین، وزیراعظم کے معاون خصوصی ملک محمد احمد خان بھی موجود تھے۔

دوسری جانب  پیپلزپارٹی کے شریک چئیرمین، سابق صدر آصف زرداری نے ماڈل ٹاؤن میں وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے پرویز الٰہی سے براہ راست رابطہ نہ کرنے پر اتفاق کیا۔

باخبر ذرائع کے مطابق  آصف زرداری اور شہباز شریف نے چودھری شجاعت حسین سے رابطے بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے طے کیا کہ پنجاب اسمبلی کی تحلیل روکنے کا ٹاسک چودھری شجاعت حسین کو دیا جائے، شہباز شریف اور آصف زرداری کی ملاقات میں چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی جانب سے اسمبلیاں تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد پیدا ہونے والی سیاسی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا، اس موقع پر طے پایا کہ چودھری شجاعت حسین کے گرین سگنل تک پرویز الٰہی سے براہ راست رابطہ نہ کیا جائے،وزیر اعظم شہباز شریف اور آصف زرداری کا موجودہ ملکی سیاسی صورتحال پر گہری نظر رکھنے پر اتفاق ہوا جس کے بعد آصف زرداری نے پنجاب میں اپنا پڑاؤ طویل کر لیا۔

دریں اثنا پنجاب اسمبلی ممکنہ طور پر تحلیل کرنے کے معاملے پر وزیر اعظم شہباز شریف نے پارٹی قائد نواز شریف سے لندن میں رابطہ کیا اور ان سے معاملے پر مشاورت کی، وزیر اعظم شہباز شریف کو پنجاب کی صورتحال پر پی ڈی ایم جماعتوں سے رابطوں کا ٹاسک دے دیا گیا۔مسلم لیگ ن کے وفاقی وزراء پی ڈی ایم کی قیادت سے رابطہ کریں گے، مسلم لیگی قیادت نے اس بات پر بھی غور کیا پنجاب اسمبلی میں پہلے عدم اعتماد لائی جائے یا اعتماد کا ووٹ لینے کا کہا جائے گا۔

واضح  رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف  ایسے وقت میں ملاقاتیں کر رہے ہیں جب سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) چیئرمین عمران خان کی طرف سے 23 دسمبر کو پنجاب اور خیبرپخونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔گزشتہ روز (17 دسمبر) کو سابق وزیراعظم عمران خان نے وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور وزیراعلیٰ خیبرپخونخوا محمود خان کے ہمراہ وڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے دونوں اسمبلیاں تحلیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

یہاں اس بات کا ذکر کرنا لازم ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی کا تعلق پاکستان مسلم لیگ (ق) سے ہے مگر انہوں نے پاکستان تحریک انصاف کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔چوہدری پرویز الہٰی نے نے کچھ روز قبل کہا تھا کہ پنجاب اسبملی عمران خان کا مینڈیٹ ہے اور جب بھی عمران خان کہیں گے وہ اسمبلی تحلیل کرنے میں کوئی دیر نہیں کریں گے۔

Back to top button