پٹرول بحران، اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیشن بنانے کا حکم

اٹارنی جنرل آف پاکستان خالد جاوید خان نے پیٹرولیم بحران کی تحقیقات کے لیے شوگر کمیشن کی طرز پر کمیشن بنانے کی تجویز دے دی جس پر لاہور ہائیکورٹ نے ہدایت کی کہ کمیشن ایسا ہونا چاہیے جو وزیر اعظم کے پرنسپل سیکریٹری سے بھی سوالات کر سکے۔
ملک میں گزشتہ دنوں سامنے آنے والے پیٹرولیم بحران کے خلاف درخواست پر لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس قاسم خان نے سماعت کی۔ سماعت میں وزیراعظم عمران خان کے پرنسپل سیکریٹری اعظم خان کے علاوہ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) کی چیئرپرسن، سیکریٹری پیٹرولیم ڈویژن اور حکومت پنجاب کے اعلی افسران عدالت میں پیش ہوئے۔
جسٹس قاسم خان نے کہا کہ پیٹرولیم بحران کے معاملے پر محسوس ہوتا ہے کہ کچھ بڑے اس معاملے میں شامل ہیں اور اٹارنی جنرل صاحب کو روسٹرم پر آ کر بحران پیدا کرنے والوں کے خلاف کی گئی کارروائی سے آگاہ کرنے کی ہدایت کی۔
جسٹس قاسم خان نے اٹارنی جنرل سے کہا کہ آپ کو کہا گیا تھا کہ اسپیکر سے پوچھ کہ بتائیں کہ وہ کمیٹی بنا رہے ہیں یا نہیں جس پر اٹارنی جنرل نے جواب دیا کہ لاہور ہائی کورٹ کے حکم پر میں نے خود اتوار کے روز اسپیکر قومی اسمبلی سے ملاقات کی۔اٹارنی جنرل نے بتایا کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے پیٹرولیم بحران کا معاملہ وزیراعظم اور اپوزیشن لیڈر کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا۔
بعدازاں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے وزیراعظم کے پرنسپل سیکریٹری کو روسٹرم پر آنے کی ہدایت کی اور استفسار کیا کہ پیٹرولیم بحران پر کب کارروائی شروع کی گئی اور بحران کا معاملہ وزیر اعظم کے علم میں کب لایا گیا؟ جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ پرنسپل سیکریٹری کے تحریری جواب میں الفاظ کا گورکھ دھندا نظر آتا ہے۔ انہوں نے مزید ریمارکس دیے کہ جب تک بحران کے ذمہ دار پکڑے نہیں جائیں گے تب تک بحران پر قابو نہیں پایا جا سکتا، بظاہر لگتا ہے آئل مافیا نے فائدہ اٹھانے کے لیے پیٹرول کو شارٹ کیا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے مزید کہا کہ حکومت پہلے ہر ماہ یکم کو پیٹرولیم کی قیمتیں بڑھاتی تھی گزشتہ ماہ 26 جون کو پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھا کہ مافیا کو اربوں روپے کا فائدہ پہنچایا گیا۔
دوران سماعت اٹارنی جنرل نے تجاویز پر مبنی رپورٹ چیف جسٹس کو پیش کی اور کہا کہ اگر عدالت اس میں ردو بدل کرنا چاہے تو کر سکتی ہے، میری ذاتی تجاویز عدالت کے سامنے ہیں۔ جس پر جسٹس قاسم خان نے ریمارکس دیے کہ اٹارنی جنرل آپ کی تجاویز ہومیوپیتھک ہیں۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے حکومت کی جانب سے ہدایات ہیں کہ عدالت سے کچھ نہیں چھپانا، جو بھی ذمے دار ہوا اس کے خلاف بلا تفریق کارروائی ہوگی۔چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ریمارکس دیے کہ حکومت نے مافیا کو 4 کروڑ روپے کا جرمانہ کیا اور مافیا نے 4 دنوں میں 7 ارب روپے کما لیے۔
ان کا کہنا تھا کہ پرنسپل سیکریٹری بہت بڑا آدمی ہے یہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بھی چلاتا ہے، پرنسپل سیکریٹری کو 4 مرتبہ بلایا اور وہ آج آئے ہیں، مجھے اگر اس معاملے پر مطمئن نہ کیا گیا تو میں اپنے تفصیلی فیصلے میں لکھوں گا کہ یہ بیڈ گورننس ہے۔ جسٹس قاسم خان نے مزید کہا کہ چیئرپرسن اوگرا کچھ لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں، چیئرپرسن اوگرا عدالت میں سیدھا بیان دے دیں ورنہ یہ نہ ہو کہ باقی بچ جائیں آپ پھنس جائیں۔
عدالت میں اوگرا کے وکیل نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ اوگرا اور وزارت پیٹرولیم کے مابین 10 سال سے لڑائی چل رہی ہے، 20 مارچ کو چیئرپرسن اوگرا نے حکومت کو پیٹرول کی قلت سے متعلق آگاہ کیا لیکن اقدامات نہیں کیے گئے۔جس پر جسٹس قاسم خان نے کہا کہ اوگرا عدالت کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کر رہا ہے، اوگرا کا جواب تصدیق شدہ نہیں ہے یہ صرف ردی کی ڈھیری ہے۔بعدازاں لاہور ہائی کورٹ نے پیٹرولیم بحران درخواست کی کارروائی 16 جولائی تک ملتوی کرتے ہوئے اٹارنی جنرل سے کمیشن کے لیے نام اور ٹی او آرز سے طلب کر لیں۔
واضح رہے کہ یکم جون کو حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کے بعد ملک میں پیٹرول کا بحران پیدا ہوگیا تھا جس پر حکومت اور اوگرا کے نوٹس کے باوجود قلت پر قابو نہ پایا جاسکا۔تاہم 26 جون کو جیسے ہی حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 25 روپے 58 پیسے تک اضافہ کیا ملک میں پیٹرول اور ڈیزل کی قلت ختم ہوگئی تھی۔
ملک میں پیٹرول کی قلت اور ذخیرہ اندوزی میں ملوث کمپنیوں کا پتا لگانے کے لیے وزارت توانائی کے پیٹرولیم ڈویژن نے 8 رکنی کمیٹی بھی تشکیل دی تھی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button