پیرومرید کا جلد نیب کے شکنجے میں آنے کا امکان

وفاقی اتحادی حکومت نے اپنے اقتدار کی مدت ختم ہونے کی تاریخ قریب آنے کے ساتھ ہی اپنے کارڈز شو کرنا شروع کر دئیے ہیں۔ عمران خان کو ملکی سیاست سے مائنس اور آئندہ انتخابات سے آوٹ کرنے کیلئے حکومت نے نیب قوانین میں مزید ترمیم کردی ہیں جس کے تحت جہاں ایک طرف چیئرمین نیب کو عمران خان کی فوری گرفتاری کا آئینی اختیار مل گیا ہے وہیں ریمانڈ کی مدت بھی 14 دن سے بڑھا کر 30 دن کر دی گئی ہے۔

قائم مقام صدر صادق سنجرانی نے وزیر اعظم شہباز شریف کی ایڈوائس پر نیب ترمیمی آرڈیننس پر دستخط کر دئیے ہیں۔  قومی احتساب بیورو  نیب ترمیمی آرڈیننس 2023 کے اجراء کے بعد اب گرفتار ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی مدت 14 روز سے بڑھا کر 30 روز تک کر دی گئی ہے۔ترمیمی آرڈیننس کے مطابق چیئرمین کو نیب تفتیش میں عدم تعاون پر ملزمان کا وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا اختیار ہوگا۔ آرڈیننس کے تحت نیب ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی مدت 30 دن ختم ہونے کے بعد مزید بڑھائی جا سکتی ہے اور اسکی تجدید 90 دن تک ہو سکتی ہے، آرڈیننس کے تحت نیب کے ملزم کو اپنی بے گناہی خود ہی ثابت کرنا ہوگی جبکہ وہ کسی بھی انکوائری کیخلاف عدالت سے رجوع نہیں کرسکے گا۔

واضح رہے کہ صدارتی آرڈیننس کی راہ ہموار کرنے کیلئے پیر کی شام قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت تک کیلئے ملتوی کردیا گیا کیونکہ قانون کے تحت قومی اسمبلی سیشن کے دوران کوئی بھی آرڈیننس جاری نہیں کیا جاسکتا۔

ذرائع وزارت قانون و انصاف کے مطابق وفاقی کابینہ نے مجوزہ ترامیم کی منظوری دی تھی۔وفاقی کابینہ کے ذرائع نے بتایاکہ نیب ترامیم پر کابینہ کے اجلاس میں سب سے آخر میں کارروائی کی گئی اور تمام بیوروکریٹس کو کابینہ کے بند کمرے کے اجلاس سے باہر نکال دیا گیا۔ صدر مملکت نے نیب قوانین کے پیرا 6 میں تبدیلی لانے کے لیے آرڈیننس جاری کر دیا۔ ترمیم کے نتیجے میں چیئرمین نیب کیس میں ملوث اور تحقیقات کے عمل میں تعاون نہ کرنے والے ملزم کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری کر سکتے ہیں۔ ملزم کا جسمانی ریمانڈ جو 2022 کی قانون سازی کے تحت 90 دن سے کم کرکے 14 دن کردیا گیا تھا، اب دوبارہ بڑھا کر 30 دن کر دیا گیا ہے۔ ملزمان کو تیس روز کے لیے نیب کے تفتیشی ریمانڈ میں دیا جائے گا۔ متعلقہ عدالت کی اجازت سے اسے وقتاً فوقتاً 90 دن تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ اسے نیب آرڈیننس ترمیم 2023 کہا جائے گا۔ اس سے قبل وفاقی کابینہ نے ترمیم کے مسودے کی منظوری دی تھی۔ اس بات کا انکشاف ہوا ہے کہ آرڈیننس جو نیب کے تفتیش کاروں کو کسی بھی ملزم کو گرفتار کرنے کا اختیار فراہم کرتا ہے جو ان کے ساتھ تعاون نہیں کرتا اور اس مقصد کے لیے نیب کے چیئرمین کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں گے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ نیب قوانین میں موجودہ حکومت کی جانب سے کی گئیں، ترامیم جنہوں نے نیب کے جرائم میں ملوث ملزمان کے لیے نرمی کی ہے، پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے سپریم کورٹ میں اس استدعا کے ساتھ چیلنج کی گئی تھیں کہ موجودہ حکومت نے اپنے ہی لوگوں کو آرام دینے کے لیے قوانین میں ترامیم کی ہیں۔ گزشتہ سال کی ترامیم پی ٹی آئی چیئرمین کے لیے ریلیف کا ذریعہ بنی ہیں جنہوں نے اس میں فراہم کی گئی سہولتوں سے خاص طور پر گرفتاری کے معاملے میں فائدہ اٹھایا۔ اس سے قبل چیئرمین نیب کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری کیے جاتے تھے تاہم گزشتہ سال کی گئی ترامیم کے ذریعے اختیار واپس لے لیا گیا تھا۔ تہم اب اصل قانون میں جو اختیار دیا گیا تھا، وہ بحال کر دیا گیا ہے۔

 سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ نیب قوانین میں نئی ​​ترمیم پی ٹی آئی کے سرکردہ رہنماؤں کے لیے پریشانی کا باعث بنے گی جو نیب قوانین کے تحت سنگین جرائم میں ملوث ہیں اور وہ نیب کے تفتیش کاروں کو چکمہ دے رہے تھے اور قانون میں دی گئی وسعت میں پناہ لے کر تحقیقات سے بچ رہے تھے۔ ۔تاہم اب جاری کئے گئے ترمیمی آرڈیننس میں یہ شرط رکھی گئی ہے کہ ملزم کو اپنی بے گناہی ثابت کرنی ہوگی اور اسے کسی بھی انکوائری کے خلاف عدالت سے رجوع کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ ذرائع نے بتایا کہ چیئرمین نیب کی جانب سے وارنٹ گرفتاری جاری ہونے پر کسی بھی ملزم کو تفتیش میں تعاون نہ کرنے کی صورت میں دوران تفتیش ہی گرفتار کیا جا سکتا ہے یا انکوائری کا آغاز کیا جا سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آرڈیننس نے نیب قوانین کو کچھ سخت بنا دیا ہے لیکن وہ اتنے سخت نہیں ہیں جس کا سامنا پی ٹی آئی کے چار سالہ دور حکومت میں مخالفین کو کرنا پڑا۔

خیال رہے کہ نیب راولپنڈی نے القادر ٹرسٹ کرپشن کیس میں چیئرمین تحریک انصاف اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو طلب کر رکھا ہے،ذرائع کے مطابق انہیں کڑے سوالات کا جواب دینا ہوگا، بشریٰ بی بی کو 11 سوالات اور دستاویزات لانے کا کہا گیا ہے۔ تاہم نئے ترمیمی آرڈیننس کے اجراء کے بعد پیرنی اور مرید جلد نیب کے شکنجے میں کستے نظر آتے ہیں۔

خیال رہے کہ موجودہ اتحادی حکومت نے گذشتہ برس بھی نیب آرڈیننس میں ترامیم متعارف کرائی تھیں۔گذشتہ برس جون 2022 میں بھی موجودہ اتحادی حکومت نے نیب آرڈیننس میں 27 اہم ترامیم متعارف کروائی تھیں، لیکن صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ان کی منظوری نہیں دی تھی۔منظوری نہ ملنے پر بل کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظور کیا گیا اور بعد میں اسے نوٹیفائی کیا گیا تھا ان ترامیم کے ذریعے ملزم کے جسمانی ریمانڈ کی مدت 90 روز کی بجائے 14 دن مقرر کی گئی تھی تاہم اب اسے ایک بار پھر مزید بڑھا کر 30 دن کر دیا گیا ہے۔

Back to top button