پی آئی اے کا طیارہ حادثے کا مدعا پائلٹ پر ڈالنے کی کوشش

پی آئی اے کے سربراہ کی جانب سے کراچی طیارہ حادثے کا مدعا جہاز کے دونوں انجن بند ہوجانے کے بعد مے ڈے کا پیغام دینے والے پائلٹ پر ڈالنے کی بھونڈی کوشش کے بعد اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ماضی کی طرح اس سانحے کی ذمہ داری بھی پائلٹ پر ہی عائد کر کے معاملے کو دبا دیا جائے گا۔
لاہور سے کراچی جانے والے پی آئی اے کے طیارے اے 320 ایئر بس کو کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ سے قبل رہائشی علاقے میں پیش آنے والے حادثے کے بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کے سی او ارشد ملک کی جانب سے معاملہ پائلٹ ڈالنے کی کوشش نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ اپنی نیوز کانفرنس میں ارشد ملک نے کہا کہ کراچی ائیر پورٹ پر دو رن ویز خالی تھے اور بدقسمت طیارے کے پائلٹ سے کہا گیا کہ وہ کسی بھی رن وے پر جہاز کو لینڈ کروا لے مگر اس نے نہ جانے کیوں گو اراؤنڈ کا فیصلہ کیا، یعنی چکر کاٹ کر دوبارہ واپس آنے کا فیصلہ کیا۔ انہون نے کہا کہ پائلٹ نے یہ فیصلہ کیوں کیا اس حوالے سے باقاعدہ تحقیقات کی جائیں گی۔
دوسری جانب سب جانتے ہیں کہ پائلٹ نے دو دفعہ طیارے کو رن وے پر اتارنے کی کوشش کی لیکن اس کے پہپے نہیں کھل رہے تھے اور رن وے کو ٹچ کرنے بعد جہاز کے نچلے حصہ سے چنگاریاں نکلنا شروع ہو گئی تھیں لہذا پائلٹ نے ایک چکر اور لگا کر جہاز کے پہیے کھولنے کی کوشش کرنے کا فیصلہ کیا۔ ویسے بھی پائلٹ کی کنٹرول ٹاور کے ساتھ میڈے کال میں اس انکشاف سے کہ جہاز کے دونوں انجن بند ہو چکے ہیں، سی ای او ارشد ملک کے دعوے کی نفی ہو جاتی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پی آئی اے حکام کی جانب سے حسب روایت طیارے کے شہید پائلٹ کو غلطی کا مرتکب قرار دے کر قربانی کا بکرا بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ حادثے کا شکار ہونے والا جہاز دنیا میں محفوظ ترین مسافر جہاز سمجھا جاتا ہے۔
دوسری طرف پی آئی اے طیارہ حادثے کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق طیارہ پندرہ ناٹیکل مائل اپروچ پوائنٹ پرتھا جس پر ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاورنے کپتان کو خبرادر کیا کہ آپ کی بلندی زیادہ ہے، اس کو کم کریں۔تاہم پائلٹ نے کنٹرول ٹاور کو کہا میں اپنی اسپیڈ مینج کر لوں گا۔ ایوی ایشن ماہرین کے مطابق عام طور پر پانچ ہزار ناٹیکل مائل پر لینڈنگ اپروچ ہونی چاہیے لیکن حادثے کا شکار ہونے والا طیارہ مطلوبہ لمٹ سے زیادہ اونچائی پر تھا جس پرکنٹرول ٹاور کپتان کو بار بار ہدایات جاری کرتا رہا کہ آپ ضرورت سے زیادہ بلندی پر ہیں، بلندی کو کم کر لیں۔ حادثے کا شکار طیارہ جب دس ہزار فٹ بلندی پر تھا تب بھی ٹریفک کنٹرول کی جانب سے کپتان کو بلندی میں کمی کرنی کی بار بار ہدایات جاری ہوتی رہیں۔ ایک وقت میں طیارہ کراچی ایئرپورٹ پر لینڈنگ کے لیے بالکل تیار تھا، پائلٹ نے لینڈنگ کا سگنل بھی دے دیا تھا لیکن طیارے کا لینڈنگ سے ایک منٹ قبل کنٹرول روم سے رابطہ منقطع ہو گیا جس کے بعد طیارہ ماڈل کالونی کی آبادی میں گر کر تباہ ہوگیا۔
طیارہ گرنے کی ابتدائی وجوہات کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ لینڈںگ کے دوران طیارے کے پہیے نہیں کھل رہے تھے جس پر پائلٹ طیارے کو لینڈنگ کی ناکام کوشش کے بعد دوبارہ فضاء میں لے گیا اور چکر لگانے کے بعد دوبارہ لینڈنگ کے لیے واپس آیا، تاہم اس موقع پر طیارے کے دونوں انجن فیل ہو گئے اور طیارہ ایئرپورٹ کے قریب ہی آبادی میں گر کر تباہ ہو گیا۔ تاہم دوسری جانب اس اندوہناک حادثے کے کچھ ہی دیر بعد سامنے آنے والی ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ طیارہ لینڈنگ کرنے کے انداز میں جارہا تھا کہ انہیں بند ہونے کے بعد اچانک پتھر کی طرح دم کے بل گر گیا۔ فوٹیج میں طیارہ لینڈنگ کیلئے اونچائی سے نیچے آتا دکھائی دیتا ہے لیکن اچانک گھروں سے ٹکرا جاتا ہے جس کے بعد آگ اور دھواں آسمان کی جانب اٹھتا دکھائی دیتا ہے۔
سی ای او ارشد ملک نے نیوز کانفرنس میں بتایا کہ طیارہ آخری وقت میں حادثے کا شکار ہوا اور سی اے ای سمیت دیگر تکنیکی عملہ طیارے سے آخری وقت تک رابطے میں تھا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ پائلٹ کو بتایا گیا تھا کہ دونوں رن وے خالی ہیں اور وہ آرام سے جہاز کو اتار سکتے ہیں اور اس وقت سے قبل تک تمام معاملات درست چل رہے تھے۔پاکستان ایئر لائنز کے سی ای او کا کہنا تھا کہ آخری وقت میں پائلٹ نے ‘گو اراؤنڈ’ لینے کا فیصلہ کیا اور یہ واضح نہیں ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا؟ سی ای او نے بتایا کہ پائلٹ نے گو اراؤنڈ لینے کا سبب نہیں بتایا اور اس بات کی تحقیق جاری ہے کہ کیا تکنیکی مسائل تھے جن کی وجہ سے پائلٹ نے گو اراؤنڈ’ کا فیصلہ کیا۔ پی آئی اے سربراہ کی جانب سے یہ نکتہ اٹھانے کے بعد ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ معاملے کی تحقیقات میں پائلٹ کو ہی حادثے کا ذمہ دار قرار دے دیا جائے گا۔ پائلٹ ایسوسی ایشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ طیارے کے کپتان نے دوبارہ چکر لگانے کا فیصلہ اس نقطہ نظر سے کیا کہ شاید پریشر دینے سے جہاز کے پہیے کھل جائیں اور ایسا ہی ہوا لیکن جتنی دیر میں پہیے کھلے اسکے دونوں انجن بند ہوگئے اور جہاز مکانوں پر جا گرا۔
ماہرین کے مطابق ایئر ٹریفک کنٹرول کے ساتھ پائلٹ کی آخری بات چیت سے بھی یہی عندیہ ملتا ہے کہ انجن خراب ہونے کی وجہ سے طیارہ لینڈ کرنے میں ناکام ہوگیا تھا اور ایک اور کوشش کے لیے چکر لگارہا تھا۔
پائلٹ ایسوسی ایشن کے ذرائع کے مطابق جہاز تکنیکی طور پر پوری طرح محفوظ تھا، اس کو لینڈنگ کی اجازت دے دی گئی تھی جس کے بعد پائلٹ گو اراؤنڈ کرتا ہے، ہمارے پاس فلائٹ ڈیٹا ریکارڈر اور بلاک باکس ہوتا ہے جس میں ہر چیز سامنے آجاتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ جہاز کے گو راؤنڈ کے بعد پائلٹ نے دوسری اپروچ کے لیے اسٹیبلش کرنے کی کال دی، جب وہ دوسری اپروچ کے لیے اسٹیبلش کرتے ہیں تو وہاں ان کے ساتھ کچھ ہوا جس سے متعلق وائس ریکارڈنگ اور ڈیٹا ریکارڈنگ کی جانچ سے ہی اصل بات سامنے آئے گی۔
خیال رہے کہ لاہور سے کراچی جانے والی پرواز ائیر بس کمپنی A320-214 ماڈل کا یہ طیارہ فرانس میں بنایا گیا تھا۔ پی آئی اے نے اسے آئرلینڈ کی ایک کمپنی ایوی ایشن ہاؤس سے 2014 میں لیز پر لیا تھا۔ ائیر بس کے A320 ائیر کرافٹ میں 100 سے لے کر 240 مسافروں کی گنجائش موجود ہوتی ہے۔ سماجی فاصلے کی وجہ سے اس پرواز میں مسافروں کی تعداد کم تھی اور کل 99 افراد سوار تھے جن میں صرف دو خوش قسمت ہی زندہ بچ سکے۔حادثے کا شکار ہونے والے طیارے کو پاکستان 2014 سے استعمال کر رہا تھا۔ یہ جہاز چائنہ ایسٹرن ائیر لائن کے زیر استعمال رہا پھر پی آئی اے نے اسے لیز پر لیا تھا۔ اس جہاز نے پہلی پرواز اگست 2004 میں کی تھی یعنی یہ جہاز محض 15 سال پرانا تھا۔پی آئی اے کی اس طیارہ سے متعلق ویب سائٹ پر دستیاب تفصیلات کے مطابق یہ 47 ہزار سے زائد گھنٹوں کی پرواز مکمل کر چکا تھا۔ اسے نومبر 2019 میں سول ایویشن نے ایک سال کے لیے ائر ورتھینس کا سرٹیفیکٹ دیا تھا۔ اے 320 کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ محفوظ ترین طیاروں میں سے ایک ہے اور اس میں سفر کرنے والا گاڑی میں سفر کرنے والے سے زیادہ محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ اس وقت دنیا میں ان قسم کے آپریشنل جہازوں کی تعداد 24 سو کے قریب ہے محض 9 جہازوں کو ہی آج تک حادثے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تاہم پاکستان کی تاریخ میں یہ بھی پہلا موقع ہے کہ گر کر تباہ ہونے والے کسی جہاز کے دو مسافر زندہ بچ جائیں۔
