پی ایم ایل ن اور پی ٹی آئی کا بالواسطہ مذاکرات کا فیصلہ

پاکستان مسلم لیگ (ن) کی سربراہی میں حکومتی اتحاد اور اپوزیشن جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے درمیان ایک سال کی بدترین کشیدگی کے بعد برف پگھلتی نظر آرہی ہے اور دونوں جماعتوں نے بالواسطہ مذاکرات کے لیے اپنی ٹیموں کا اعلان کردیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق دونوں حریف جماعتوں کے درمیان تعطل توڑنے میں امیر جماعت اسلامی نے کردار ادا کیا، جنہوں نے وزیراعظم شہباز شریف اور پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان سے ہفتے کو الگ الگ ملاقاتیں کی تھیں اور بتایا گیا تھا کہ انتخابات کے معاملے پر مذاکرات کے لیے دونوں فریقین نے ’مثبت جواب‘ دیا ہے۔

اب دونوں جماعتیں براہ راست مذاکرات کے بجائے جماعت اسلامی کے ذریعے بالواسطہ مذاکرات کا راستہ اپنائیں گی۔پاکستان مسلم لیگ (ن) نے امیر جماعت اسلامی سراج الحق کے ’اتفاق رائے کے لیے بھرپور اقدام‘ کا مثبت جواب دیتے ہوئے ایاز صادق اور سعد رفیق کو مذاکرات کی ذمہ داری سونپ دی ہے جبکہ پی ٹی آئی نے اس مقصد کے لیے پرویز خٹک، محمود الرشید اور اعجاز چوہدری پر مشتمل تین رکنی کمیٹی بنائی ہے۔

پاکستان مسلم لیگ (ن) کے ذرائع نے بتایا کہ کہ ایاز صادق اور سعد رفیق کو مذاکرات کے لیے جماعت اسلامی سے رابطے کی اجازت دے دی گئی ہے۔دوسری جانب پی ٹی آئی نے انتخابات کی تاریخ کے لیے اپنا مؤقف پھر دہرایا۔

سینیٹر اعجاز چوہدری نے ڈان کو بتایا کہ پی ٹی آئی نے ملک بھر میں انتخابات کے لیے اپوزیشن جماعتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے مشاورتی عمل شروع کر دیا ہے اور پی ٹی آئی پہلے ہی جماعت اسلامی، تحریک لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس (جی ڈی اے) سے ملاقاتیں کرچکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم ملاقات کرچکے ہیں اور حکومتی اتحاد کے علاوہ تمام سیاسی جماعتوں کو پی ڈی ایم (پاکستان ڈیموکریٹک الائنس) کے خلاف مزاحمت کے لیے متحد ہونے پر زور دیا ہے جو انتخابات سے گریزاں ہے۔

اعجاز چوہدری نے پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی جانب سے ’قومی خزانے کے لٹیروں‘ سے بات نہ کرنے اور اسی طرح کا مؤقف حکومت کی جانب سے اپنائے جانے کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں مذاکرات کرنا چاہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں جا کر اپوزیشن لیڈر کی سیٹ حاصل کرکے ملک میں ایک دفعہ قبل از انتخابات کے لیے متفقہ ترمیم کرنا چاہتی ہے۔

میاں محمود الرشید سے اس معاملے پر رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ عمران خان اور سراج الحق کے درمیان ملاقات میں اس رائے پر اتفاق ہوا کہ ملک میں پائے جانے والے کئی سیاسی اختلافات مذاکرات کے ذریعے ختم ہوجانے چاہئیں۔

Back to top button