پی ٹی اے کی بھی سنتھیا رچی کے خلاف کارروائی سے معذرت

ایف آئی اے اور پولیس کے بعد پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی یعنی پی ٹی اے نے بھی مشکوک امریکی خاتون کے خلاف کوئی بھی کارروائی کرنے سے معذرت کر لی ہے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج اسلام آباد کی عدالت میں دوران سماعت پی ٹی اے کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا ہے کہ وہ سنتھیا رچی کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر ہے۔دوسری طرف ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج اسلام آباد نے امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی کے خلاف مجرمانہ کیس کے اندراج کے لیے دائر درخواست پر فیصلہ محفوظ کرلیا جو ممکنہ طور پر 15 جون کو سنایا جائے گا۔
پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی نے عدالت کے جج جہانگیر اعوان کے سامنے مؤقف اپنایا کہ اتھارٹی کے پاس مبینہ طور پر متنازع ٹوئٹ پر کسی فرد کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں ہے۔تاہم پی ٹی اے کی جانب سے یہ تجویز دی گئی کہ سنتھیا رجی کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق اگر کوئی شکایت ہے تو اسے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا سائبر کرائم ونگ دیکھ سکتا ہے۔ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی کے مطابق اس کے حکام نے کچھ متنازع ویب سائٹس کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا ہے۔
اس سے قبل ایف آئی اے کی جانب سے اس معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کی مخالفت کی گئی تھی اور دعویٰ کیا تھا کہ درخواست گزار کو (برقی جرائم کی روک تھام کے قانون) پری وینشن آف الیکٹرانک کرائم ایکٹ (پیکا) 2016 کی دفعات کے تحت اس معاملے میں مداخلت کرتے ہوئے شکایت کنندہ بننے کا حق نہیں۔مزید یہ کہ ایکٹ کہتا ہے ایسے معاملے میں کوئی متاثرہ شخص یا اس کے نا بالغ ہونے کی صورت میں اس کے سرپرست ایسی معلومات کو ہٹانے، ختم کرنے یا اس تک رسائی روکنے کے لیے ایف آئی اے میں درخواست دے سکتے ہیں۔اس میں کہا گیا کہ قانون کو پڑھنے سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ صرف اصل متاثرہ شخص یا اس کے سرپرست ہی شکایت درج کراسکتے ہیں۔علاوہ ازیں ایف آئی اے کی جانب سے استدعا کی گئی تھی ‘مذکورہ درخواست کو مسترد کیا جاسکتا ہے’۔
واضح رہے کہ پیپلزپارٹی کے اسلام آباد کے صدر ایڈووکیٹ راجا شکیل عباسی نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج عطا ربانی کے سامنے کرمنل پروسیجر کوڈ کے سیکشن سیکشن 22 اے کے تحت درخواست دائر کی تھی جس میں سنتیا رچی کے خلاف پاکستان پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن اور سابق وزیراعظم کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر بدنام کرنے پر مقدمہ درج کرنے کی استدعا کی تھی۔
خیال رہے کہ اس معاملے میں پہلے ایف آئی اے نے مقدمے کے اندراج کی مخالفت کی تھی جبکہ بعد ازاں پولیس نے بھی مؤقف اپنایا تھا کہ ان کے پاس سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کو مبینہ طور پر بدنام کرنے پر امریکی بلاگر سنتھیا ڈی رچی کے خلاف کارروائی کا اختیار نہیں۔اس بارے میں ایس ایچ او نے عدالت کو بتایا تھا کہ معاملہ سوشل میڈیا پر بدنام کرنے سے متعلق ہے اور وفاقی تحقیقاتی ادارے کا سائبر کرائم ونگ اس معاملے کی سماعت کرنے کا متعلقہ فورم ہے۔
واضح رہے کہ بلاگر سنتھیا رچی نے سابق وزیراعظم شہید بینظیر بھٹو کے حوالے سے ایک ٹوئٹ کی تھی جس پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں نے انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔اس ٹوئٹ کے بعد ہی امریکی بلاگر سنتھیا رچی کے خلاف کارروائی کے لیے پیپلزپارٹی کے رہنما نے پہلے ایف آئی اے اور بعد میں عدالت سے رجوع کیا تھا۔
خیال رہے کہ سنیتھا رچی کے ٹوئٹر پر ان ٹوئٹس کے بعد 5 جون کو انہوں نے اپنے فیس بک پیج پر جاری ایک لائیو ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ ‘2011 میں سابق وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے میرا ریپ کیا تھا، یہ بات درست ہے، میں دوبارہ کہوں گی کہ اس وقت کے وزیر داخلہ رحمٰن ملک نے میرا ریپ کیا تھا’۔سنتھیا رچی نے سابق وقافی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی پر جسمانی طور ہراساں کرنے کا بھی الزام عائد کیا تھا اور کہا تھا کہ اس دوران یوسف رضا گیلانی ایوان صدر میں مقیم تھے۔انہوں نے مزید کہا تھا کہ مجھے مارنے اور میرا ریپ کرنے کی لاتعداد دھمکیاں موصول ہوئی ہیں، ساتھ ہی انہوں نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ جو کچھ بھی کہہ رہی ہیں اس کی حمایت میں شواہد موجود ہیں۔
دوسری جانب رحمٰن ملک، یوسف رضا گیلانی، ان کے بیٹے اور مخدوم شہاب الدین نے الزامات کو سختی سے مسترد کردیا تھا۔بعد ازاں پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے امریکی نژاد پاکستانی بلاگر سنتھیا رچی کے خلاف پاکستان اور امریکا میں ہتک عزت کا دعوی دائر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ سنتھیا رچی نے بے بنیاد الزامات لگا کر میری ساکھ مجروح کی۔
علاوہ ازیں سینیٹر رحمٰن ملک کے وکلا نے بذریعہ ٹی سی ایس امریکی خاتون سنتھیا رچی کو الزامات عائد کرنے پر 50 کروڑ روپے ہرجانے کا نوٹس بھجوایا تھا۔سابق وزیرداخلہ رحمٰن ملک کے ترجمان ریاض علی طوری کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سینیٹر رحمٰن ملک نے اپنے قانونی نوٹس میں سنتھیا رچی کے الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر سختی سے تردید کی۔بعدازاں 9 جون کو سینیٹر رحمٰن ملک نے امریکی خاتون سنتھیا رچی کو 50 ارب روپے ہرجانے کا دوسرا نوٹس بھجوایا تھا۔رحمٰن ملک کے وکلا نے سنتھیا رچی کو نوٹس بذریعہ کوریئر بھجوایا تھا، جس میں رحمٰن ملک نے سنتھیا رچی کے لگائے گئے الزامات کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر سختی سے مسترد کیا تھا۔
