شہید جمہوریت کی برسی،اپوزیشن کا سیاسی طاقت کا مظاہرہ

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی شہید رہنما محترمہ بینظیر بھٹو کی 13ویں برسی گڑھی خدا بخش میں منائی گئی. گڑھی خدا بخش میں سابق وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر فاتحہ سے جلسے کا آغاز ہو گیا ہے۔ اس جلسے میں حزب اختلاف کی جماعتوں کے اتحاد پی ڈی ایم کے رہنما بھی شریک ہوئے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو، مسلم لیگ نون کی نائب صدر مریم نواز، بلوچستان نیشنل پارٹی (مینگل) کے سردار اختر مینگل، وزیر اعلیٰ سندھ مراد علی شاہ، اے این پی کے افتخار حسین، سابق وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا امیر حیدر خان ہوتی نے جلسہ سے خطاب کئے.
جلسے میں بے نظیر بھٹو کی سیاسی جدوجہد پر ایک ڈاکومینٹری بھی دکھائی گئی۔بلاول بھٹو نے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’آج ہم گڑھی خدا بخش میں تجدید وفا کرنے آئے ہیں۔ ہم ان سے طاقت لینے آئے ہیں۔ انھوں نے کہا ہمارے دلوں میں غم ہیں، ہماری آنکھیں پرنم ہیں مگر ہمارا حوصلہ بلند ہے۔ ظلم کے مقابلے میں جرات کا صبر، یزیدیت کے مقابلے میں حسینیت کا سبق۔۔‘ان کے مطابق تاریخ کا فیصلہ حسین کے حق میں ہے اور رہے گا۔ انھوں نے کہا کہ تاریخ کا فیصلہ بے نظیر بھٹو کے حق میں ہے اور رہے گا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ کوئی اگر یہ سمجھتا ہے کہ ہم ڈر جائیں گے، ہم پیچھے ہٹ جائیں گے تو پھر وہ گڑھی خدا بخش کے مزاروں کو دیکھے۔ وہ شہید ذولفقار بھٹو کو دیکھے جو سولی پر چڑھ گیا مگر اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹے۔انھوں نے کہا کہ شہید شاہنواز بھٹو کو دیکھیں جس نے آمر کے خلاف جدوجہد کے پاداش میں انھیں زہر کا پیالہ پلا دیا گیا۔ انھوں نے میر مرتضیٰ بھٹو کا نام لیا اور پھر اپنی والدہ سابق وزیر اعظم بے نظیر بھٹو کا نام لیا۔بلاول بھٹو نے کہا کہ نصرت بھٹو کا نام یاد رکھو جس نے اپنا پورا خاندان قربان کر دیا۔ان کے مطابق جنرل ضیا کی قبر ویران ہے۔ آج ان کا نام لیوا کوئی نہیں ہے۔ ان کے مطابق مشرف موت سے بھی بدتر زندگی گزار رہا ہے۔
ان کے مطابق بے نظیر بھٹو کی کمی محسوس ہو رہی ہے۔ ان کی قیادت، ان کی بہادری اور ان کی ذہانت کی آج بھی ہمیں ضرورت ہے۔انھوں نے کہا کہ جب ضیاالحق کے مقابلہ انھوں نے جدوجہد سے کیا۔ ان کے مطابق وہ جانتی تھی کہ بزدل تاک لگا کر بیٹھا ہے مگر وہ مشرف کے دور میں واپس آئیں۔ ان کے مطابق وہ چاروں صوبوں کی زنجیر تھی۔ وہ بے نظیر تھیں، وہ بے نظیر ہیں اور وہ بے نظیر رہیں گی۔بلاول بھٹو کے مطابق عوام سے محبت بے نظیر بھٹو کو وراثت میں ملی تھی۔
انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو ہمیں ستاروں سے ہمیں دیکھ رہی ہیں اور انھوں نے جس صبح کے لیے شہادت دی تھی وہ صبح ضرور آئے گی۔ بے نظیر کا وعدہ نبھانا ہے اور پاکستان بچانا ہے۔انھوں نے کہا ایک ایسا اسلامی، وفاقی اور آئینی ملک ہو جہاں ہر کسی سے انصاف ہو۔ جہاں عدل و انصاف ہو۔ برداشت ہو۔ بات کرنے کی آزادی ہو اور بات سننے کا حوصلہ ہو۔ان کے مطابق بے نظیر بھٹو کے ساتھ ہمیشہ سازشیں ہوئیں مگر انھوں نے پروا نہیں کی کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ عوام ان کے ساتھ کھڑی ہے۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ آج بے نظیر تو نہیں ہیں مگر آج اصول ہیں، ان کے عمل ہیں اور ان اصولوں پر عملدرآمد کر کے ہم کامیاب ہوں گے۔بلاول بھٹو نے حکومتی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان اندھے اور بہرے حکمرانوں کو نہ کچھ نظر آتا ہے اور نہ کچھ سنائی دے رہا ہے۔
انھوں نے کہا عوام اس ظالم کٹھ پتلی اور سیلیکٹڈ کو نہیں چھوڑیں گے۔انھوں نے کہا کہ عمران نہ عوام کا نمائندہ ہے، نہ منتخب نمائندہ ہے۔ یہ غاصب ہے غاصب جس نے عوام کے حقوق غاصب کیے ہیں۔ میں کیسے مان جاؤں کہ ملک میں جمہوریت ہے۔ انھوں نے کہا وہ جمہوریت جس کے لیے بے نظیر نے اپنی جان دے دی یہ وہ جمہوریت نہیں ہے۔جہاں بولنے کی آزادی نہ ہو جہاں لکھنے کی اجازت نہ ہو۔ جہاں بات کرنے اور جلسے کرنے کی اجازت نہ ہو، اگر استاد اور کسان پر گولیاں اور لاٹھیاں برسائی جائیں تو میں اسے جمہوریت نہیں مان سکتا۔یہ آمروں اور جابروں کا وطیرہ ہے۔ ہم آمروں سے ٹکرائے ہیں، یہ کٹھ پتلی کس کھیت کی مولی ہے.یہ عوام اس سلیکٹڈ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتی۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر اس حکومت کو مزید وقت دیا گیا تو خدانخواستہ یہ لوگ ملک کا بیڑہ غرق کر دیں اور ہم کسی قیمت پر نہیں ہونے دیں گے۔انھوں نے کہا کہ یہ حکمران بھی ضیا اور مشرف کی طرح تاریخ کی ٹوکری میں ہوں گے ان کا نام لیوا بھی کوئی نہیں ہو گا۔
انھوں نے کہا کہ اگر عقل اور دانشمندی اگر بازار میں بکتی تو ان کا کوئی اے ٹی ایم انھیں خرید کر دے دیتا۔ یہ خدا کی عنایت ہوتی ہے اور یہ عوام کی محبت اور عوام سے تعلق سے آتی ہے۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اب یہ کھلواز بند ہو گا۔ سیلیکٹڈ اور سیلیکشن کا کھیل بند ہو گا، ہم یہ بند کرائیں گے۔ انھوں نے کہا عوام اور صوبوں کو ان کا حق نہیں دیا جا رہا ہے۔ انھوں نے کہا صرف سندھ کا وزیر اعلیٰ این ایف سی اور سی آئی آئی کے پلیٹ فارمز سے تمام صوبوں کے لیے آواز اٹھاتا ہے۔بلاول بھٹو نے کہا کہ صرف وہ سی پیک کامیاب ہو سکتا ہے جو عوامی ہو، جو مقامی لوگوں کو فائدہ ہو۔
انھوں نے کہا ہمیں وہ سی پیک نہیں چائیے جس سے پاپا جونز کو فائدہ ہو۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں وہ سی پیک چائیے جس کی بنیاد آصف زرداری نے رکھی، ہمیں وہ سی پیک چائیے جس کے لیے نواز شریف نے دن رات محنت کی۔انھوں نے کہا کہ حکمران سی پیک کو عوام سے دور رکھ رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ صرف اور صرف عوامی سی پیک چل سکتا ہے۔
بلاول بھٹو نے پی ڈی ایم سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم ایک پیج پر بھی ہیں اور ایک سٹیج پر بھی ہیں۔ عوامی طاقت سے ہم ان کو ضرور بھگائیں گے۔انھوں نے کہ ہم سب میدان میں اترے ہیں اور ہم نے فیصلہ کیا کہ اگر 31 جنوری تک عمران خان نے استعفی نہ دیا تو مارچ ہو گا۔
بلال بھٹو نے کہا کہ لانگ مارچ ہو گا۔ ہم اسلام آباد کا رخ کریں گے۔ بھرپور تحریک چلائیں گے۔ انھوں نے شرکا سے تیار رہنے کا کہتے ہوئے کہا کہ وقت آ گیا ہے کہ تیاری کر لو۔ انھوں نے کہا کہ گڑھی خدا بخش کے مزار کی طرف منہ کر کے یہ وعدہ کرو کہ جب لانگ مارچ کی کال دوں تو آپ دما دم مست قلندر کا نعرہ لگا کر نکل آئیں گے۔ انھوں نے کہ ملک کو اس نااہل سے نجات دلا کر رہیں‌گے. بلاول بھٹو نے کہا کہ اب تاریکیاں چھٹنے والی ہیں۔ مجرم حکمرانوں کے احتساب کا وقت آ چکا ہے۔ آمروں کا تسلط ختم ہونے کو ہے۔ مایوسی کے بادل چھٹنے والے ہیں۔
سابق صدر آصف زرداری نے کہا کہ آج سرخ سلام کا دن ہے، آج بے نظیر کا دن ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’ان سے پاکستان نہیں چل رہا اور چلے گا بھی نہیں، یہ آج میرا دعویٰ ہے۔ یہ پاکستان نہیں چلا سکتے۔ یہ ملک چلانے والے نہیں ہیں۔ یہ کرکٹ ٹیم چلانے والے ہیں۔ ملک چلانے والے کوئی اور لوگ ہیں، اس کے لیے کوئی اور سوچ چائیے۔‘انھوں نے کہا کہ جو ہمارے مخالف تھے ان کو بھی ساتھ ملا کر ادھورے آئین کو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے مکمل کیا۔
آصف زرداری نے کہا کہ فکرنہ کریں، یہ اپنے زور پر گریں گے۔ ’میں نے پہلے دن کہا تھا کہ یا ملک چلا لو یا نیب چلا لو۔ ان کے مطابق میں نے پہلے بھی 14 سال جیل کاٹی ہوئی ہے، مجھے جیل سے ڈر نہیں لگتا۔‘ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا۔آصف زرداری نے کہا کہ گڑھی خدا بخش صرف ہمارے شہیدوں کا مقام نہیں ہے بلکہ ایسے بھی یہاں مدفون ہیں کہ جن کو ہم شناخت نہ کر سکے۔انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے نہ بچوں کی پروا کی نہ اپنے گھر کی پروا کی، دونوں بھائی شہید ہو گئے مگر ان کی جدوجہد جاری رہی اور انھوں نے کہا تھا کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔
آصف زرداری نے کہا کہ مشرف تڑپ رہا ہو گا مگر اب پاکستان آ نہیں سکتا۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ’آپ بھی نہیں رہیں گے، آپ بھی چلے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ جس طرح مشرف کی بنائی ہوئی پارٹی ختم ہو گئی تھی اب یہ پارٹی بھی ختم ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ جب ملک آپ سے نہیں چل سکتا تو چھوڑ کیوں نہیں دیتا۔ انھوں نے کہا عوام کے نمائندے یہ ہیں جو یہاں بیٹھے ہیں۔
سابق صدر نے کہا مصیبتوں کے باوجود ہم نے اپنے بچوں کی طرح ملک کو سنبھال کر چلایا اور اپنے پانچ سال پورے کیے۔
میں نے ایک جنرل کو صدر ہوتے ہوئے مکھی کی طرح ایوان صدر سے طرح نکال باہر کیا۔انھوں نے کہا کہ اس امید پر رہو کہ یہ حکومت نہیں رہے گی۔انھوں نے کہا کہ جس طرح وہ ہمیں سبق دے گئی ہیں، ہم اس کا حساب لیں گے مگر جمہوریت سے۔ میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔
اپنے خطاب میں مریم نواز نے اپنا استقبال کرنے کے لیے پیپلز پارٹی کی قیادت کا شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے کہا بلاول بھٹو، آصفہ بھٹو اور فریال تالپور سخت سردی کے باوجود دروازے پر میرے استقبال کے لیے کھڑے تھے۔انھوں نے اپنے گھر میں ٹھہرانے پر ان کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ شاید بلاول بھٹو نے یہ سوچ کر مجھے گھر پر رکھا کہ کوئی پھر کراچی کے واقعے کی طرح میرے دروازے کو کوئی توڑ نہ سکے۔
مریم نواز نے کہا کہ میں نے سنا تھا کہ سندھیوں کے دل اور دسترخوان بڑے ہوتے ہیں اور آج نے یہ ثابت بھی کر دیا۔ انھوں نے کہا ’شہید بی بی کی موت کا زخم ہمارے دل پر بھی لگا ہے۔‘ انھوں نے کہا 13 برس کے بعد بھی یہ دکھ ہمارے دلوں میں تازہ ہیں کیونکہ یہ قومی سانحہ ہے۔
مریم نواز نے بے نظیر کے لیے یہ شعر بھی پڑھا:
جس دھج سے کوئی مقتل میں گیا وہ شان سلامت رہتی ہے
یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں
انھوں نے اس دن کو یاد کیا جب بے نظیر کو قتل کر دیا گیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ اس دن میرے والد راولپنڈی میں تھے اور سیدھا ہسپتال چلے گئے۔ جب ڈاکٹر نے انھیں بے نظیر کی موت کی خبر سنائی تو ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے اور ہسپتال سے باہر نکل کر انھوں نے پیپلز پارٹی کے کارکنان کو گلے سے لگایا۔انھوں نے کہا اس دن میں گھر سے باہر نکلی ہوئی تھی کہ والدہ نے فون کر کے بلایا اور ہمارے گھر میں ایسے سوگ کا سماں تھا جیسے ہمارے خاندان کا کوئی فرد مر گیا۔ان کے مطابق والدہ کا کھونے کا درد ذیادہ ہوتا ہے۔ ان کے مطابق جب وہ جیل میں تھیں تو ان کی والدہ ان سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جدا ہوئیں اور بلاول بھٹو نے بچپن میں اپنی ماں کھو دی۔
مریم نواز نے کہا کہ سیاستدانوں سے ماضی میں جو غلطیاں ہوئیں ان کا فائدہ غیر جمہوری قوتوں نے اٹھایا۔انھوں نے کہا کہ جب 2008 میں پیپلز پارٹی اقتدار میں آئی تو نواز شریف نے صاف صاف بتا دیا تھا کہ وہ حکومت گرانے کا حصہ نہیں بنیں گے اور جب جمہوری حکومتوں نے پانچ پانچ سال پورے کرنے شروع کیے تو پھرسیاسی کوڑا کرکٹ اکھٹا کر کے جنرل پاشا نے ایک جماعت بنائی جس کا نام ہے تحریک انصاف۔پھر اس جماعت کو آپ کی منتخب حکومتوں کے خلاف دھرنوں اور احتجاج میں استعمال کیا گیا۔ 22 سال در بدر کی ٹھوکریں کھانے والے کو اٹھا کر 22 کروڑ عوام کے سروں پر مسلط کر دیا گیا۔آج پی ڈی ایم نے کیا کہنا ہے کہ عمران خان کو وہ خود آج چیخ چیخ کر کہہ رہا ہے وہ نااہل اور نالائق ہیں اور کہتا ہے کہ تیاری کے بغیر حکومتوں میں نہیں آنا چائیے۔آپ کو یہ کہنا چائیے کہ تیاری کے بغیر حکومتوں میں نہیں لانا چائیے۔کہتا ہے کہ خود کشیاں ہو رہی ہیں تو میں کیا کہہ سکتا ہوں میرے پاس جادو کا بٹن نہیں ہے۔ یہ ملک اب اس طرح نہیں چلے گا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ کوئی ملک توڑے تو بھی معصوم، کوئئ آئین توڑے تو بھی معصوم، کوئی سیاچن کھوئے تو بھی معصوم، کوئی کشمیر کا سودا کرے تو بھی معصوم، کوئی حلف توڑ کر سیاست کرے تو بھی معصوم، کوئی مخالفین کو جیل میں ڈالے اور موت تو بھی معصوم..اربوں روپے کی کرپشن کرے۔۔ پیزا والے کو جانتے ہو ناں۔۔۔ کوئی سرکاری ملازم ہو کر بھی اربوں کھربوں بنائے تب بھی معصوم۔۔اس کے بعد انھوں نے کہا کہ گولیاں سیاستدانوں کے سینے میں اتریں، جیل کی کال کوٹھڑیوں میں سیاستدان، ان کی بہنوں اور بیٹوں کو گھسیٹا جائے، کردا کشی ہو تو سیاستدانوں کی ہو، یاد رکھو نظریے کو پھانسی نہیں لگ سکتی، جلاوطنی نہیں ہو سکتی ہے۔پاکستان کے کونے کونے میں نواز شریف اور بے نظیر بھٹو کے نام لیوا ہیں۔ آئین کے قاتل اور بے نظیر کے قاتل پرویز مشرف کو پاکستان واپس لانے کی بات تک نہیں ہوتی۔
مریم نواز نے کہا کہ مشرف کو پھانسی کی سزا سنانے والی عدالت کو ہی پھانسی چڑھا دیا گیا۔مشرف کے لیے اس ملک کے دروازے بند ہیں اور بند رہیں گے۔ انھوں نے جسٹس وقار سیٹھ کے فیصلے کے بارے میں کہا عوام اس فیصلے کو یاد رکھے گی۔
ان کے مطابق پی ڈی ایم وہ تحریک ہے جس نے تمام صوبے کو آئین کے جھنڈے تلے جمع کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ ایک ناکام، ہارا ہوا شخص پی ڈی ایم سے مذاکرات کی بھیک مانگتا ہے۔مریم نواز نے کہا کہ خاندان والوں کو جیل میں شہباز شریف سے ملاقات کے لیے ایک ایک ہفتہ لگ جاتا ہے جبکہ میسنجر جو این آر او مانگنے کے لیے بھیجتے ہو اور ان کے لیے جیلوں کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں۔
اپوزیشن جب مہنگائی کی بات کرتی ہے تو کہتے ہو کہ اپوزیشن فوج کو بدنام کر رہی ہے۔ عمران خان نے انڈیا جا کر فوج اور آئی ایس آئی کے خلاف بات کی تھی۔ جب یہ امریکہ گیا تو اپنی فوج اور آئی ایس آئی پر حملے کیے ہیں۔آج یہ مت کہو کہ اپوزیشن فوج کے خلاف بات کرتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ عوام کے پاس وہ ویڈیوز موجود ہیں جس میں تم نے فوج کو بدنام کیا۔
ان کے مطابق ایک پیج ایک پیج کی رٹ لگا کر جتنا تم نے فوج کو بدنام کیا شاید ہی کسی نے کیا ہو۔ جب آٹا 90 روپے کلو ہو جاتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ فوج میرے پیچھے کھڑی ہے۔ جب چینی 120 روپے فی کلو ہوتی ہے تو پھر کہتا ہے کہ فوج میرے پیچھے کھڑی ہے۔تم زیادہ سیانے بننے کی کوشش نہ کرو۔ فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب تمھاری نالائقی کا بوجھ فوج پر پڑتا ہے۔ فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب تم سیاسی مخالفین کو جیل میں ڈالنے کے لیے فوج کا نام لیتے ہو۔ فوج پر تنقید تب ہوتی ہے جب تم کشمیر کو مودی کی گود میں ڈالتے ہو۔
مریم نواز نے کہا اب کہتے ہو کہ تیاری کے بغیر حکومت میں نہیں آنا چائیے۔ انھوں نے کہا کہ ’تم کو جو لے کر آئے ہیں انھیں اب پیچھے ہٹنا پڑے گا‘۔
بی این پی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اپنے خطاب میں کینیڈا میں کریمہ بلوچ کی ہلاکت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے بیان دیا تھا کہ ہماری ایجنسیاں اتنی طاقتور ہیں کہ یہ جہاں بھی جائیں انھیں مار سکتی ہیں۔ ان کے مطابق کریمہ بلوچ کے مسئلے کو اسی تناظر سے دیکھا جائے۔ ان کے مطابق اس واقعے میں بھی ہماری خفیہ ایجنسیوں کا کردار نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔
گڑھی خدا بخش جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جے یو آئی کے مرکزی جنرل سیکریٹری مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ بے نظیر بھٹو تحسین کے لائق ہے کہ انھوں نے کم عمر خاتون ہونے کے باوجود جس طرح وقت کے آمروں کو للکارا اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں وہ یقیناً خراج عقیدت کی مستحق ہیں۔ان کے مطابق بے نظیر جب تک زندہ ہیں، آمریت کو للکارتے ہوئے، جمہوریت، جمہوری اداروں کی بحالی، آئین کی بحالی اور غریب کے حقوق کی جدوجہد کی بحالی کے لیے جدوجہد کرتی رہی ہیں۔
انھوں نے کہا کہ بے نظیر نے وطن واپسی پر ایک ملاقات میں مجھے کہا کہ ابھی کچھ دیر اور بیٹھیں معلوم نہیں کہ پھر ملاقات ہو یا نہیں۔
انھیں معلوم تھا کہ جن قوتوں نے انھیں شہید کرنے کا عزم کیا ہے شاید وہ اس شیطانی عمل میں کامیاب ہو جائیں، وہ اس طرح کی باتیں کرتی تھیں مگر ان کے چہرے پر اس کے اثرات نظر نہیں آئے۔ وہ فولادی حوصلے والی رہنما تھیں۔
مولانا غفور حیدری نے تحریک انصاف کی حکومت پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا ان کی پالیسیوں کی نتیجے میں ملک کھوکھلا ہو گیا ہے۔ جمہوریت کی بات کرتے ہوئے شرماتے بھی نہیں ہیں اور ان کے رہنما دن رات اپوزیشن رہنماؤں کی تضحیک کرنے میں لگا ہوا ہے۔ان کے مطابق جب اس سے بھی کام نہیں بنا تو پھر نیب کو استعمال کیا گیا۔ انھوں کہا کہ وہ نیب جیسے کالے قانون کو اپنے جوتے کی نوک پر رکھتے ہیں۔انھوں نے کہا اب جب نیب کا نوٹس آیا تو پھر ہم نیب کا چکر نہیں لگائیں گے، وزیر اعظم ہاؤس کا چکر نہیں لگائیں گے بلکہ براہ راست جی ایچ کیو کا چکر لگائیں گے۔انھوں نے کہا جنرل صاحب ایسے زندہ رہنے سے تو مرجائیں گے مگر اس حکومت کو گھر بھیج کر دم لیں گے اور اسلام آباد جائیں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button