چیف جسٹس نے جسٹس شوکت صدیقی کا کیس کیوں لٹکا رکھا ہے؟

عمران خان کے نئے پاکستان میں عام آدمی کے بعد اب لوگوں کو انصاف دینے والے ججوں کے اپنے لیے بھی انصاف کا حصول مشکل تر ہوتا جارہا ہے جس کی ایک بڑی مثال اسلام آباد ہائی کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کی یے جو کئی برسوں سے سپریم کورٹ میں اپنا کیس لگوانے کہ کوشش میں مصروف ہیں لیکن اب تک شنوائی نہیں ہوئی۔
اسلام آباد میں وکلاء کی ایک تقریب سے خطاب کے دوران آئی ایس آئی کے سیاسی کردار پر تنقید کے بعد جسٹس ثاقب نثار کے ہاتھوں فارغ ہو جانے والے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ایک مرتبہ پھر ایک نئی درخواست میں سپریم کورٹ کے چیف جسٹس گلزار احمد سے اپنے کیس کی جلد سماعت کی استدعا کی ہے۔ یاد رہے کہ جسٹس گلزار احمد انجان وجوہات کی بنا پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی جانب سے اپنی برطرفی کے خلاف دائر کردہ درخواست کی سماعت لٹکائے چلے جا رہے ہیں۔ جسٹس گلزار کے نام ایک تازہ خط میں جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے یاد دلوایا یے کہ 11 اکتوبر 2018 سےاب تک انکی درخواست مسلسل التوا کا شکار ہے اور ابھی تک کیس کی ابتدائی مراحل کی کارروائی بھی ممکن نہیں ہوئی۔ جسٹس شوکت نے اس خدشے کا اظہار بھی کیا ہے کہ شاید عدالت عظمی ان کی ریٹائرمنٹ کے انتظار میں ان کا کیس لٹکائے چلے جا رہی ہے۔
دو صفحات پر مشتمل اپنے تازہ خط میں شوکت عزیز صدیقی کا موقف تھا کہ ان کی اپیل میں سماعت کے لیے غیر ضروری تاخیر روا رکھی جا رہی ہے لہذا عدالت عظمی کو اس عمومی تاثر کو سنجیدگی سے زائل کرنے کی ضرورت ہے کہ میری آئینی درخواست کو 30 جون 2021 تک زیر التوا رکھنا کسی حکمت عملی کا حصہ ہے تاکہ میری ریٹائرمنٹ کی تاریخ گزر جائے اور میری آئینی درخواست غیر موثر ہو جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس مسلسل التوا کے نتیجے میں وہ اور ان کا خاندان ذہنی پریشانی اور اضطراب میں مبتلا ہیں جس میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔
یاد رہے کہ یہ جسٹس شوکت کی جانب سے چوتھا خط ہے جو درخواست گزار کی جانب سے کیس کی جلد سماعت کے لیے چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد کو لکھا گیا ہے۔ اس سے پہلے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس قاضی فائز عیسی بھی جسٹس گلزار احمد پر اپنے کیس میں جانبداری برتنے کا الزام عائد کر چکے ہیں۔
شوکت عزیز صدیقی کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں ایک تقریر پر آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل کی سفارشات پر بطور جج فارغ کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے اس خطاب میں آئی ایس آئی کے سیاسی کردار پر شدید تنقید کی تھی اور یہ انکشاف کیا تھا کہ ان پر آئی ایس آئی کی جانب سے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے دباؤ تھا۔
اس سے قبل 24 ستمبر 2020 کو سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج برطرفی کے 11 اکتوبر 2018 کے نوٹیفکیشن کے خلاف درخواست کی سماعت کے دوران سابق جج کی نمائندگی کرنے والے سینیئر وکیل حامد خان سے کہا تھا کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیس کے حتمی فیصلہ کا انتظار کریں جو جلد ہی آنے والا ہوگا۔ بعد ازاں 23 اکتوبر 2020 کو جسٹس فائز عیسیٰ کیس میں اکثریتی فیصلہ اور جسٹس یحییٰ آفریدی کا اختلافی نوٹ جاری کر دیا گیا۔ تاہم پھر بھی جسٹس ریٹائرڈ شوکت عزیز صدیقی کا کی سماعت کیلئے مقرر نہیں ہو سکا۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے جنرل مشرف کو آئین شکنی کے جرم میں سزائے موت سنانے والے جسٹس وقار احمد سیٹھ سپریم کورٹ کا جج بننے کے لیے دائر کردہ اپنی پٹیشن لگنے کے انتظار میں اس دنیا سے چلے گئے لیکن چیف جسٹس گلزار احمد نے ان کی آئینی درخواست کو سماعت کے لئے مقرر نہیں کیا۔ اب جسٹس شوکت صدیقی کو بھی اپنی آئینی درخواست سماعت کے لیے مقرر ہونے کا انتظار ہے۔ پچھلے برس سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بنچ نے شوکت عزیز صدیقی کے وکیل کو یقین دلوایا تھا کہ انکی برطرفی کیس کا فیصلہ انکی ریٹائرمنٹ سے پہلے کر دیا جائے گا۔ لیکن ابھی تک ایسا ہوتا دکھائی نہیں دیتا اور یہی نظر آتا ہے کہ جن طاقتوں نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی چھٹی کروائی تھی، وہ نہیں چاہتیں کہ اس برس جون میں انکی ریٹائرمنٹ سے پہلے ان کے کیس کا فیصلہ ہو۔
خیال رہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے شوکت عزیز صدیقی کو 21 جولائی 2018 کو ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن راولپنڈی میں تقریر کے دوران آئی ایس آئی کو اسکے سیاسی کردار کی وجہ سے چارج شیٹ کرنے پر جوڈیشل آفس سے ہٹا دیا تھا، اگر انھیں برطرف نہ کیا جاتا تو بطور سینئیر ترین جج آج جسٹس اطہر من اللہ کی بجائے جسٹس شوکت صدیقی اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس ہوتے۔ یاد رہے کہ عدالت عظمیٰ میں جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں 5 رکنی بینچ سپریم جوڈیشل کونسل کے فیصلے کے خلاف شوکت عزیر صدیقی کی درخواست پر سماعت کر رہا ہے۔ بینچ کے دیگر اراکین میں جسٹس سردار طارق مسعود، جسٹس اعجاز الاحسن، جسٹس مظہر عالم میاں خیل اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں۔ پچھلے برس 9 دسمبر کو ہونے والی سماعت کے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی بطور جج اسلام آباد ہائی کورٹ سے برطرفی کے خلاف سماعت کے دوران جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے تھے کہ یہ بڑا کیس ہے، اور ہم چاہتے ہیں کہ وکلا کو تسلی سے سن کر فیصلہ کریں۔ انہوں نے کہا کہ بینچ اگر 4 اراکین سے زیادہ پر مبنی ہو تو معمول کے مقدمات متاثر ہوتے ہیں، جس پر شوکت عزیز صدیقی کے وکیل حامد خان نے کہا کہ میرے موکل شوکت عزیز صدیقی اگلے سال ریٹائر ہو جائیں گے، اسلیے ہم چاہتے ہیں کہ اس کیس کا فیصلہ جلد ہو جائے۔اس پر جسٹس عمر عطا بندیال نے ریمارکس دیے کہ ہم شوکت عزیز صدیقی کی ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی آ کے کیس کا فیصلہ دے دیں گے۔ اس کے بعد کیس کو جنوری 2019 تک ملتوی کر دیا گیا تھا لیکن اب مارچ کا مہینہ شروع ہو چکا ہے اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کا کیس نہیں لگایا گیا۔ چونکہ ان کا کیس چیف جسٹس کی منظوری سے لگنا ہے اس لئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے اب جسٹس گلزار کو چوتھا خط لکھ کر یاد دہانی کروائی ہے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے اکتوبر 2018 میں ازخود نوٹس لیتے ہوئے آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف کارروائی کے بعد صدر مملکت عارف علوی سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے مذکورہ جج کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی تھی جس پر عمل کرتے ہوئے صدر نے جسٹس صدیقی کو برطرف کر دیا تھا۔ جسٹس شوکت صدیقی نے جولائی 2018 میں راولپنڈی بار سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ مبینہ طور پر آئی ایس آئی عدلیہ کے معاملات میں مداخلت کرتی ہے اور اپنی مرضی کے بینچ بنوا کر اپنی مرضی کے فیصلے لیتی ہے۔ اُنھوں نے الزام عائد کیا تھا کہ فوج کے خفیہ اداروں کی مداخلت کی وجہ سے اُنھیں نواز شریف کو احتساب عدالت سے ملنے والی سزا کے خلاف اپیل کی سماعت کرنے والے اسلام آباد ہائی کورٹ کے بینچ میں شامل نہیں کیا گیا۔ بعد ازاں فوج کے شعبہ تعلقات عامہ نے ایک ٹویٹ کے ذریعے اس وقت کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار سے درخواست کی تھی کہ وہ اس بارے میں ایکشن لیں۔ شوکت عزیز صدیقی نے یہ بھی الزام عائد کیا تھا کہ فوج کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے موجودہ سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نے جو اس وقت ڈپٹی ڈی جی آئی ایس آئی تھے، فیض آباد دھرنے سے متعلق مقدمے میں ان سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی تھی۔
اپنی برطرفی کے بعد ردعمل دیتے ہوئے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا تھا کہ ان کے لیے یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا۔ انھوں نے کہا: ’تقریباً تین سال پہلے سرکاری رہائش گاہ کی مبینہ آرائش کے نام پہ شروع ہونے والے ایک بے بنیاد ریفرنس سے پوری کوشش کے باوجود جب کچھ نہ ملا تو ایک بار ایسوسی ایشن سے میرے خطاب کو جواز بنا لیا گیا جس کا ایک ایک لفظ سچ پر مبنی تھا۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’میرے مطالبے اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے کے باوجود یہ ریفرنس کھلی عدالت میں نہیں چلایا گیا نہ ہی میری تقریر میں بیان کیے گئے حقائق کو جانچنے کے لیے کوئی کمیشن بنایا گیا۔‘ تاہم جسٹس آصف سعید کھوسہ کی طرف سے لکھی گئی سفارشات میں کہا گیا تھا کہ حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی ججز کے بارے میں بنائے گئے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کے مرتکب پائے گئے ہیں اس لیے اُن کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے سب سیکشن 6 کے تحت کارروائی کرتے ہوئے جسٹس شوکت صدیقی کو ان کے عہدے سے ہٹانے کی سفارش کی جاتی ہے۔ لیکن سچ یہ ہے کہ جسٹس شوکت صدیقی کے خلاف اس تقریر سے متعلق ریفرنس کی صرف ایک ابتدائی سماعت ہوئی تھی اور یہ سماعت بھی ان کیمرہ تھی جس کے بعد اس ریفرنس کا فیصلہ سنا دیا گیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button