چینی اور گندم کی کرپشن 400 ارب سے زیادہ ہوگئی مگر کوئی پوچھنے والا نہیں

پاکستان مسلم لیگ (ن )کے راہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ چینی کی کرپشن 300اور گندم کی 400ارب سے زیادہ ہوگئی، کوئی پوچھنے والا نہیں، جو منصوبے چل رہے تھے وہ مکمل نہیں ہوسکے۔
سابق وزیر اعظم نے لاہور میں احتساب عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کے دوران کہا کہ احتساب کا عمل جاری ہے پتہ نہیں چلا جرم کیا ہے، نیب والے کہتے ہیں آپ پر کرپشن کا الزام نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور مجھ سمیت دیگر پر ترقیاتی کاموں کے الزام لگائے گئے، حکومت بتائے سوا دو سالوں میں انہوں نے کیا کرپشن پکڑی، آئی جی سندھ کے اغواء کو 12 دن ہوگئے پتہ نہیں چلا کیوں اغواء ہوئے، انصاف کا نظام سب کے سامنے ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ شہر میں وفاقی وزیر کی طرف سے پوسٹر لگے ہوئے ہیں، وفاقی وزیر سے پوچھا جائے کس کے خرچ پر یہ پوسٹر لگائے، شیخ رشید نے فوٹو لگایا ہے بتادیں حکومت یا اپنے کس کے پیسے سے لگایا ہے، حکومت کی آمدن کم ہوگئی ہے اخراجات بڑھ گئے ہیں انہوں نے کہا کہ ہم پر غداری کے الزامات عائد کیے جارہے ہیں۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ سی پیک میں اب تک کوئی نیا منصوبہ شروع نہیں ہوسکا، نیب کا اطلاق سی پیک پر نہیں ہوگا، حکومت قانون لا رہی ہے، جن لوگوں نے سی پیک شروع کیا انہیں استثنیٰ نہیں ملا، جو آج سی پیک چلا رہے ہیں انہیں استثنیٰ دیا جارہا ہے۔ شاہد خاقان عباسی نے مہنگائی سے متعلق بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ آج چینی پر 3 سو ارب کی کرپشن کی گئی کوئی پوچھنے والا نہیں انہوں نے کہا کہ پی ڈی ایم سے خائف ہوکر وفاقی وزرا لوگوں کی بے عزتی کرنے پر مجبور ہے، وزراء بتائیں ان کی حکومت نے کیا کیا ہے؟۔ شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ وفاقی وزیر حکومت پاکستان کی نمائندگی کرتا ہے، وفاقی وزیر کو ملک کے ماحول کا ہی معلوم نہیں، وفاقی وزیر سے کوئی پوچھنے والا نہیں کہ وہ بول کیا رہا ہے۔
قبل ازیں احتساب عدالت میں منی لانڈرنگ کیس کی سماعت کے دوران مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے عدالت کو بتایا کہ مجھے بکتر بند گاڑی میں پیش کیا گیا ہے میں گاڑی میں لیٹ کر آیا ہوں، جیل میں بھی زیادہ وقت لیٹ کر گزارتا ہوں۔ عدالت نے شہباز شریف سمیت دیگر ملزمان کوفرد جرم کےلیے 11 نومبر کو طلب کرلیا ہے دوران سماعت شہبازشریف اور حمزہ کو وعدہ معاف گواہ کے بیان کی کاپیاں فراہم کی گئیں سماعت کے دوران شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ شہباز شریف کو جیل میں میڈیکل سہولیات نہیں دی جا رہیں، شہباز شریف کی میڈیکل ہسٹری کے مطابق ان کو سہولیات نہیں دی جا رہیں، شہباز شریف اور حمزہ شہباز حکومت کی حراست میں نہیں ہیں، شہباز شریف اور حمزہ شہباز فاضل جج کے مہمان ہیں۔
