عبدالقادر بلوچ کے استعفے کا فوج پر تنقید سے کوئی تعلق نہیں

بلوچستان میں ن لیگ کے صوبائی صدر لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقادر بلوچ کے استعفے کے بعد سوال کھڑے ہو رہے ہیں کہ کیا پارٹی میں نواز شریف کے باجوہ اور فیض مخالف بیانیے پر اختلافی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں؟ عبدالقادر بلوچ نے اپنے استعفی کی بنیادی وجہ اپنی پارٹی کے قائد نواز شریف کا فوج مخالف بیانیہ بتائی ہے۔ تاہم حقائق ان کے اس دعوے کے بالکل برعکس ہیں۔ قادر بلوچ نے 31 اکتوبر کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جس کے بعد نواز لیگ کے کسی رہنما نے انہیں منانے کی کوشش نہیں کی۔ یاد رہے کہ قادر بلوچ کی جانب سے استعفے کی دھمکی ملنے کے بعد شاہد خاقان عباسی نے یہ بیان دے دیا تھا کہ اگر وہ ایسا کرنا چاہتے ہیں تو بڑے شوق سے کریں لہذا سابق کور کمانڈر کوئٹہ کے پاس اپنی عزت بچانے کا اور کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ تاہم استعفی دیتے ہوئے عبدالقادر بلوچ نے جھوٹ پر مبنی جو وجہ بیان کی ہے اس سے ان کی رہی سہی عزت بھی خاک میں ملتی نظر آتی ہے۔
عبدالقادر بلوچ نے کہا ہے کہ ان کے استعفے کی بنیادی وجہ نواز شریف کا فوج مخالف بیانیہ ہے کیونکہ اپوزیشن اتحاد پاکستان ڈیموکریٹک کے پلیٹ فارم سے افواج پاکستان کے خلاف نازیبا زبان استعمال کی گئی۔ انہوں نے مزید کہا کہ افواجِ پاکستان کو ادارے کے طور پر نشانہ بنانا قبول نہیں ہے، مسلم لیگ ن سے علیحدگی کی واحد وجہ فوج کے خلاف بیانیہ ہے۔ دوسری طرف نون لیگ کی مرکزی قیادت کا کہنا ہے کہ قادربلوچ جھوٹ بول رہے ہیں اور انہوں نے نواز شریف کے فوج مخالف بیانیہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنے قبیلے کے سردار ثناء اللہ زہری کو کوئٹہ جلسے میں اسٹیج پر نہ بٹھانے کی وجہ سے استعفی دیا ہے۔ نواز لیگ نے اس روز یہ فیصلہ کرنا تھا کہ آیا سرداراخترمینگل سٹیج پر بٹھائے جائیں گے یا ثناءاللہ زہری۔ لہذا جب فیصلہ ہوا تو یہ طے پایا کہ سردار اختر مینگل اسٹیج پر بیٹھیں گے۔ نواز لیگ کے مرکزی جنرل سیکریٹری احسن اقبال نے قادر بلوچ کے استعفی سے پہلے لاہور میں گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ثنااللہ زہری کو سردار اختر مینگل کے ساتھ تنازعے کے باعث کوئٹہ کے جلسے میں مدعو نہیں کیا گیا تھا۔ لیکن اگر بلوچ صاحب استعفیٰ دینا چاہتے ہیں تو یہ ان کی مرضی ہے۔ یاد رہے کہ اختر مینگل کی جماعت بلوچستان نیشنل پارٹی پی ڈی ایم کا حصہ ہے اور اختر مینگل نے کوئٹہ کے جلسے سے خطاب بھی کیا تھا۔ ثنااللہ زہری بلوچستان میں آباد زہری اور جھالاوان قبیلوں کے سردار ہیں جبکہ عبدالقادر بلوچ کا تعلق زہریوں کے ذیلی شاخ چنال سے ہے۔ یوں دونوں ایک قبیلے سے ہیں۔
دوسری طرف عبدالقادر بلوچ کے پارٹی بیانئے کی مخالفت اور نون لیگ سے علیحدگی کی خبروں پر سینیٹر پرویز رشید نے میدان میں آتے ہوئے ایک ٹویٹ میں کہا ہے کہ بلوچ اپنے فارغ ہونے کی جھوٹی وجہ بیان کر رہا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اگر انکی پارٹی سے علیحدگی بیانیے سے اختلاف کی وجہ سے ہوتی تو وہ پارٹی اجلاسوں میں ہر معاملے پر کوئٹہ جلسے والے دن تک اتفاق نہ کرتے اور اپنے اختلاف بھی بیان کرتے، انہوں نے کہا کہ قادر بلوچ کی ن لیگ سے علیحدگی کی وجہ جمہوری نہیں، قبائیلی ہے اور وہ یہ کہ میرے سردار کو جلسے میں شرکت کی دعوت اور کرسی کیوں نہ ملی۔
یاد رہے کہ نواز شریف پی ڈی ایم کے جلسوں میں فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہوں کے نام لے کر انکے سیاسی کردور پر تنقید کر رہے ہیں جبکہ ان کی صاحب زادی مریم نواز بھی اپنی تقاریر اور بیانات میں یہی بیانیہ اپنائے نظر آتی ہیں۔
دوسری طرف حکومت عبدالقادر بلوچ کے استعفے کو ایک اور ہی رنگ دیتے ہوئے یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہے کہ نواز کا اسٹیبلشمنٹ مخالف بیانیہ اب نواز لیگ کے ٹوٹنے کی وجہ بن رہا ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات شبلی فراز نے بلوچ کے استعفی کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ: ’امید ہے مسلم لیگ ن میں موجود عقل مند عناصر صورت حال کی سنگینی کو دیکھتے ہوئے نواز شریف کے بیانیے پر احتجاج کر رہے ہیں۔‘ انہوں نے ن لیگ کی پاکستان میں موجود قیادت پر طنز کرتے ہوئے انہیں ایم کیو ایم پاکستان کی طرز پر مسلم لیگ پاکستان بنانے کا مشورہ دیا۔ سیاسی پیشنگوئیوں کے لیے جانے جانے والے وفاقی وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے بھی بار ہا ن لیگ میں سے شین یعنی شہباز لیگ کے نکلنے کی شنید دیتے رہے ہیں۔ وفاقی وزیر داخلہ اعجاز شاہ نے بھی میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ ن لیگی رہنماؤں کے ریاست مخالف بیانات کے باعث ان کے خلاف قانونی چارہ جوئی پر غور کیا جا رہا ہے۔ تحریک انصاف کے کئی رہنما نواز شریف اور مریم نواز کے بیانات اور کیپٹن (ر) صفدر کے قائد اعظم کے مزار میں مبینہ نعرے بازی کے باعث مسلم لیگ نواز پر پابندی کا عندیہ بھی دیتے رہے ہیں۔
اب سوال یہ ہے کہ کیا واقعی نواز شریف کے مبینہ فوج مخالف بیانیے کے باعث پارٹی میں دراڑیں پڑنا شروع ہو گئی ہیں اور عبدالقادر بلوچ کا استعفیٰ اس سلسلے کی پہلی کڑی ہے؟ سینیئر صحافی ایم ضیاالدین نے پارٹی میں متوقع ٹوٹ پھوٹ کے مفروضے سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کا بیانیہ صرف ایک شخصیت کا نہیں بلکہ پوری مسلم لیگ نواز کا ہے۔ ’یہ کیسے ممکن ہے کہ نواز شریف پی ڈی ایم کے جلسوں میں جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ اپنی جماعت کے اہم رہنماؤں سے مشورے کے بغیر کہہ رہے ہیں۔‘ یاالدین نے مزید کہا کہ عبدالقادر بلوچ کے فوجی پس منظر کو بھی ذہن میں رکھنا چاہیے، وہ فوج میں رہ چکے ہیں اور فوجی کسی بھی سیاسی جماعت میں چلے جائیں ان کی بینادی وفاداریاں ہمیشہ فوج کے ساتھ رہتی ہیں لیکن بلوچ کا استعفی کسی صورت پارٹی میں کسی بڑے انتشار کی طرف اشارہ نہیں کرتا۔
