کابل یونیورسٹی میں دھماکا اور فائرنگ، 6 افراد زخمی

افغانستان کی کابل یونیورسٹی میں ایرانی کتب میلے کے افتتاح کے موقع پر دھماکے کی آواز سنی گئی ہے اور اس کے بعد فائرنگ شروع ہو گئی، سیکیورٹی فورسز نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے۔
حملے کے نتیجے میں اب تک 6 افارد زخمی ہوئے ہیں اور اس تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ وزارت داخلہ کے ترجمان طارق آریان نے بتایا کہ علاقے میں اب بھی فائرنگ کی آوازیں بھی سنی جا سکتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ افغانستان کے دشمن، تعلیم کے دشمن کابل یونیورسٹی میں داخل ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ سیکیورٹی فورسز صورتحال پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں، وہ انتہائی محتاط طریقے سے آگے بڑھ رہے ہیں تاکہ طلبہ کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ اس فائرنگ اور دھماکے کے نتیجے میں کوئی ہلاکت ہوئی ہے یا نہیں اور اس کا کوئی ذمے دار ہے یا نہیں، طالبان کا کہنا ہے کہ اس حملے سے ان کا کوئی تعلق نہیں لیکن حالیہ عرصے کے دوران شدت سپند تنظیم داعش کی جانب سے تعلیمی اداروں کو کئی مرتبہ نشانہ بنایا جا چکا ہے۔وزارت اعلیٰ تعلیم کے وزیر حامد عبیدی نے ضبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ فائرنگ اس وقت شروع جب کتب میلے میں افغان حخومتی عہدیداران کی آمد متوقع تھی۔ وزارت صحت کے نائب ترجمان معصومہ جعفری نے بتایا کہ چار افراد کو ہسپتال منتقل کیا گیا ہے لیکن زخمیوں کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے، حملے کے بعد طلبہ میں افری تفری پھیل گئی اور یونیورسٹی میں شدید خوف و ہراس کا ماحول ہے۔ ایک 23سالہ طالبعلم فیردون احمدی نے کہاکہ ہم اپنے کلاس روم میں پڑھ رہے تھے کہ ہمیں یونیورسٹی کے اندر گولیاں چلنے کی آواز سنائی دی، کچھ طلبہ بھاگنے میں کامیاب ہو گئے، یہاں بہت افرا تفری ہے اور طالبعلم خوفزدہ ہیں۔ کابل کے مغربی ضلع میں ایک تعلیمی ادارے کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں کم از کم 24افراد ہلاک ہو گئے تھے اور اس حملے کی ذمے داری داعش نے قبول کی تھی۔2018 میں کابل یونیورسٹی کے سامنے خود کش بم دھماکے میں نوجوان طالبہ سمیت درجنوں افراد مارے گئے تھے اور اس حملے کی ذمے داری بھی داعش نے قبول کی تھی۔2016 میں کابل کی امریکی یونیورسٹی میں مسلح حملہ آوروں نے دھاوا بول دیا تھا جس کے نتیجے میں کم از کم 16افراد ہالک ہو گئے تھے۔
