آزاد کشمیر الیکشن:PTIکے الیکشن بائیکاٹ کا فائدہ کون اٹھائے گا؟

آزاد کشمیر میں 27 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے انتخابی بائیکاٹ نے سیاسی ماحول کو نئی بحث میں مبتلا کر دیا ہے۔ پارٹی نے انتخابی عمل پر مختلف اعتراضات اٹھاتے ہوئے بائیکاٹ کا اعلان کیا، تاہم سیاسی مبصرین اس فیصلے کو صرف احتجاج نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی سیاسی حکمت عملی قرار دے رہے ہیں۔ ان کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران آزاد کشمیر میں پی ٹی آئی کی تنظیمی کمزوری، اندرونی اختلافات، اہم رہنماؤں کی علیحدگی، فارورڈ بلاک کی تشکیل اور بدلتے ہوئے سیاسی اتحادوں نے پارٹی کی انتخابی طاقت کو نمایاں طور پر متاثر کیا، جس کے باعث وہ کئی حلقوں میں مضبوط مقابلے کی پوزیشن میں نہیں رہی۔ دوسری جانب انتخابی تیاریوں، امیدواروں کی سرگرمیوں اور سیاسی تجزیوں کو دیکھتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کو حکومت سازی کے لیے سب سے مضبوط امیدوار قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی بھی اہم مقابلے میں موجود ہے۔ اس تمام صورتحال میں سب سے بڑا سوال یہی ہے کہ کیا پی ٹی آئی کا بائیکاٹ واقعی احتجاج ہے یا ممکنہ انتخابی شکست سے بچنے کی حکمت عملی، اور اس فیصلے سے 27 جولائی کے انتخابات میں کس جماعت کو سیاسی فائدہ پہنچے گا؟

خیال رہے کہ الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے 27 جولائی 2026 کو ہونے والے عام انتخابات کی تمام تیاریاں مکمل کرتے ہوئے امیدواروں کو انتخابی نشانات بھی الاٹ کر دیے ہیں۔ آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی 53 ارکان پر مشتمل ہے، جن میں 33 نشستوں پر آزاد کشمیر کے اندر براہ راست انتخابات ہوتے ہیں، جبکہ 12 نشستیں مہاجرین مقیم پاکستان کے لیے مخصوص ہیں۔ اس کے علاوہ خواتین کی پانچ مخصوص نشستیں، ایک ٹیکنوکریٹ، ایک علما و مشائخ اور ایک اوورسیز نشست بھی اسمبلی کا حصہ ہیں۔

واضح رہے کہ پی ٹی آئی نے 2021 کے انتخابات میں کامیابی حاصل کر کے حکومت بنائی تھی، تاہم یہ حکومت دو سال بھی مکمل نہ کر سکی۔ اس عرصے میں پارٹی کے دو وزرائے اعظم تبدیل ہوئے، اندرونی اختلافات شدت اختیار کرتے گئے اور بالآخر فارورڈ بلاک کی حمایت سے چوہدری انوار الحق وزارت عظمیٰ تک پہنچ گئے۔ اس سیاسی بحران نے پارٹی کی تنظیمی بنیادوں کو کمزور کیا اور متعدد بااثر رہنما دیگر جماعتوں میں شامل ہو گئے۔

حالیہ انتخابات میں بھی بائیکاٹ کے باوجود صورتحال مکمل طور پر واضح نہیں، کیونکہ پارٹی کے چیئرمین بیرسٹر گوہر یہ کہہ چکے ہیں کہ اگر حالات سازگار ہوئے تو بائیکاٹ کا فیصلہ واپس بھی لیا جا سکتا ہے۔ مزید یہ کہ پی ٹی آئی کے امیدواروں نے الیکشن کمیشن سے اپنے کاغذات نامزدگی واپس نہیں لیے، جبکہ بعض امیدوار دوسری سیاسی جماعتوں میں شامل ہو کر انتخابی میدان میں موجود ہیں۔

مبصرین کے مطابق پی ٹی آئی آزاد کشمیر میں بحیثیت جماعت مؤثر انداز میں موجود نہیں اور انتخابی بائیکاٹ دراصل مقابلے کی کمزور پوزیشن سے نکلنے کی ایک سیاسی حکمت عملی ہے۔ ان کے مطابق موجودہ حالات میں مسلم لیگ (ن) حکومت بنانے کی مضبوط ترین امیدوار دکھائی دیتی ہے، جبکہ پی ٹی آئی زیادہ تر ایکشن کمیٹی کی سیاست کے ساتھ منسلک نظر آ رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آزاد کشمیر کی سیاست روایتی جماعتی سیاست سے مختلف ہے، جہاں ہر حلقے کی اپنی مقامی سیاسی حرکیات، قبائلی اثر و رسوخ اور شخصیات کا کردار اہم ہوتا ہے۔ ان کے مطابق پی ٹی آئی کے ووٹ بینک کا فائدہ یا نقصان کسی ایک جماعت کو منتقل نہیں ہوگا، بلکہ ہر حلقے میں نتائج مختلف ہو سکتے ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) آزاد کشمیر سے تقریباً 16 سے 17 اور مہاجرین کی نشستوں سے 5 سے 6 نشستیں جیت سکتی ہے، جو حکومت بنانے کے لیے کافی ہو سکتی ہیں۔

سینیئر صحافی خواجہ اے متین بھی اسی مؤقف کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے مطابق عبدالقیوم نیازی اور خواجہ فاروق کے علاوہ پی ٹی آئی کے بیشتر نمایاں رہنما پارٹی چھوڑ چکے ہیں، جس کے باعث تنظیمی ڈھانچہ شدید متاثر ہوا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر پی ٹی آئی انتخابی میدان میں اترتی اور اسے بڑی شکست ہوتی تو پارٹی کے عوامی مقبولیت کے بیانیے کو نقصان پہنچ سکتا تھا، اسی لیے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا گیا۔ خواجہ متین کے مطابق موجودہ انتخابی منظرنامے میں اصل مقابلہ مسلم لیگ (ن) اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان دکھائی دے رہا ہے، جبکہ پیپلز پارٹی کی جانب سے پی ٹی آئی کو انتخابات میں حصہ لینے کی دعوت کا مقصد سیاسی فائدہ حاصل کرنا نہیں بلکہ جمہوری عمل میں تمام جماعتوں کی شمولیت کو یقینی بنانا ہے۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ پی ٹی آئی نے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے، لیکن چونکہ امیدواروں نے اپنے کاغذات واپس نہیں لیے اور پارٹی قیادت نے بھی بائیکاٹ پر نظرثانی کا امکان ختم نہیں کیا، اس لیے آنے والے دنوں میں سیاسی صورتحال میں تبدیلی سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم موجودہ زمینی حقائق کے مطابق مسلم لیگ (ن) سب سے مضبوط انتخابی پوزیشن میں دکھائی دیتی ہے، جبکہ پیپلز پارٹی بھی کئی حلقوں میں سخت مقابلہ کر رہی ہے۔یوں 27 جولائی کے انتخابات صرف حکومت سازی کا معرکہ نہیں بلکہ یہ اس بات کا بھی امتحان ہوں گے کہ آیا پی ٹی آئی کا بائیکاٹ اس کی سیاسی حکمت عملی ثابت ہوتا ہے یا اس فیصلے سے آزاد کشمیر کی سیاست میں اس کا اثر و رسوخ مزید محدود ہو جاتا ہے۔

Back to top button