ڈارکے نواسے کا ریپ کیس: وزیراعلیٰ مریم نواز شدید دباؤ میں

ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار کے نواسے احمد رضا ڈار کی دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور ریپ کیس میں گرفتاری کے بعد سے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شدید سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہی ہیں۔ پنجاب اسمبلی میں موجود اپوزیشن نے پنجاب حکومت پر مرکزی ملزم احمد رضا ڈار کو بچانے کی کوشش کا الزام عائد کرتے ہوئے اسمبلی کا اجلاس طلب کرنے کی ریکوزیشن جمع کرا دی ہے۔

یاد رہے کہ مریم نواز کی چھوٹی بہن اسما اسحاق ڈار کے صاحبزادے علی ڈار کی اہلیہ ہیں جبکہ غیر ملکی خواتین کے اغوا کا مرکزی ملزم احمد رضا بٹ اسحاق ڈار کی صاحبزادی کا بیٹا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت تحریک انصاف نے اس حساس معاملے پر بحث کے لیے اجلاس بلانے کا مطالبہ کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ اگر تحقیقات شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق نہ ہوئیں تو نہ صرف انصاف کا جنازہ نکل جائے گا بلکہ ریاستی اداروں کی ساکھ بھی بری طرح متاثر ہوگی۔

اپوزیشن کی جانب سے جمع کرائی گئی ریکوزیشن میں کہا گیا ہے کہ یہ مقدمہ محض دو غیر ملکی خواتین کے ساتھ پیش آنے والے جرم تک محدود نہیں بلکہ اس کا تعلق قانون کی بالادستی، شفافیت اور بااثر شخصیات کے احتساب سے بھی ہے۔ اپوزیشن ارکان نے مطالبہ کیا ہے کہ وزیر اعلی مریم نواز کی پنجاب حکومت صوبائی اسمبلی کے اراکین کو مقدمے کی مکمل پیش رفت سے آگاہ کرے اور یقین دہانی کرائے کہ کسی بھی ملزم کو سیاسی اثرورسوخ کی بنیاد پر رعایت نہیں دی جائے گی۔

تحریک انصاف کی قیادت نے الزام عائد کیا ہے کہ پولیس دو غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کے مقدمے میں اسحاق ڈار کے نواسے احمد رضا ڈار کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اپوزیشن رہنماؤں کے مطابق تفتیش کا رخ اس انداز میں موڑا جا رہا ہے کہ توجہ اغوا برائے تاوان کے سنگین الزام سے ہٹ کر صرف زیادتی اور گرفتار دیگر ملزمان کے کردار تک محدود ہو جائے۔ اپوزیشن قائدین کا کہنا ہے کہ اگرچہ حکومت یا قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان الزامات کی تصدیق نہیں کی، تاہم مقدمے کی ہر نئی پیش رفت شکوک و شبہات کو جنم دے رہی ہے۔ ان کے مطابق اس حساس معاملے میں مکمل شفافیت ہی عوامی اعتماد کو بحال رکھ سکتی ہے۔

ادھر پولیس ڈیپارٹمنٹ کے تحقیقاتی ذرائع کے مطابق اس وقت تفتیش کا بنیادی مرکز غیر ملکی خواتین کے اغوا اور زیادتی کا یے جبکہ کرپٹو کرنسی کے ذریعے مالی فراڈ جیسے اہم پہلو نسبتاً پس منظر میں چلے گئے ہیں۔ اسی بنیاد پر مختلف قانونی اور سیاسی حلقے تحقیقات کی سمت پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ڈی آئی جی آپریشنز فیصل کامران کی ابتدائی پریس کانفرنس کے بعد پولیس کی جانب سے مقدمے کے بارے میں مزید تفصیلات سامنے نہ لانے سے بھی مختلف قیاس آرائیاں زور پکڑ رہی ہیں۔ بعض ذرائع کا دعویٰ ہے کہ احمد رضا ڈار کے کردار کو محدود رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ مرکزی ملزم وحید عرف "باس” اور دیگر گرفتار افراد کے خلاف مضبوط چالان تیار کیا جا رہا ہے۔ تاہم پولیس یا پنجاب حکومت نے ان دعوؤں کی نہ تو تصدیق کی ہے اور نہ ہی ان کی تردید کی ہے۔ تحقیقات سے واقف بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ احمد رضا ڈار زیادتی میں براہ راست ملوث نہیں تھے بلکہ مرکزی ملزم وحید اور اسکے ساتھیوں کی سرگرمیوں کے باعث ان کا نام مقدمے میں آیا۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اگر قانونی تقاضوں کے تحت ان کا نام مقدمے میں برقرار بھی رکھا گیا تو انہیں ممکنہ طور پر ریلیف ملنے والے ملزم کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ تاہم اس دعوے کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی۔

ذرائع کے مطابق دورانِ تفتیش پولیس نے غیر ملکی خواتین سے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ وہ پاکستان میں سیاحتی ویزے پر موجود تھیں اور کرپٹو کرنسی سے متعلق بعض ایسی سرگرمیوں میں شامل تھیں جن کی قانونی حیثیت بھی جانچ کے دائرے میں آ سکتی ہے۔ ذرائع کے مطابق خواتین کو یہ تاثر دیا گیا کہ اگرچہ ان کے ساتھ ہونے والے مبینہ جرائم انتہائی اہم ہیں، تاہم ان کی بعض سرگرمیاں بھی قانونی جانچ سے مستثنیٰ نہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسی صورتحال کے باعث دونوں غیر ملکی خواتین نے سفارتی یا عدالتی کارروائی کو مزید آگے بڑھانے کے بجائے جلد از جلد پاکستان چھوڑنے کا فیصلہ کیا اور اپنے وطن واپس روانہ ہو گئیں۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ روانگی سے قبل ان سے بعض دستاویزات پر دستخط بھی لیے گئے، تاہم ان دستاویزات کی نوعیت اور قانونی حیثیت کے بارے میں حکام نے کوئی باضابطہ وضاحت نہیں کی۔

یہ معاملہ تب مذید توجہ کا مرکز بنا جب معروف اینکر پرسن غریدہ فاروقی نے سوشل میڈیا پر دعویٰ کیا کہ دونوں متاثرہ خواتین نے معاملہ ختم کرنے سے متعلق بعض دستاویزات پر دستخط کیے ہیں۔ تاہم اس دعوے کی بھی سرکاری سطح پر نہ تصدیق کی گئی ہے اور نہ ہی تردید سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق خواتین کی وطن واپسی کے بعد اب تک انہوں نے پاکستانی تحقیقاتی اداروں سے دوبارہ رابطہ نہیں کیا اور نہ ہی کوئی نیا بیان ریکارڈ کروایا ہے۔ البتہ مقدمے کی پیش رفت سے متعلق ڈچ سفارتخانے کو مسلسل آگاہ رکھا جا رہا ہے۔
تحقیقات سے وابستہ ذرائع کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ مقدمے کے ابتدائی مرحلے میں پولیس اور ڈیوٹی مجسٹریٹ کے درمیان پیدا ہونے والے بعض انتظامی اختلافات نے کیس کو مزید پیچیدہ بنا دیا، جس کے باعث یہ معاملہ مقامی سطح سے نکل کر بین الاقوامی توجہ کا مرکز بن گیا۔

دوسری جانب تفتیشی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں اور مقدمے کا حتمی رخ چالان عدالت میں جمع ہونے کے بعد ہی واضح ہوگا۔ ان کے مطابق کس ملزم کے خلاف کون سے الزامات ثابت کرنے کے لیے شواہد موجود ہیں، اس کا فیصلہ عدالت میں پیش کیے جانے والے شواہد اور عدالتی کارروائی کی روشنی میں ہوگا۔ اس لیے مقدمے سے متعلق سامنے آنے والے تمام دعوے فی الحال تحقیقات کے حتمی نتائج اور عدالتی فیصلے سے مشروط ہیں۔

Back to top button