جے آئی ٹی رپورٹس بھی ہائی پروفائل کیسز میں سزادلوانے میں ناکام کیوں؟

سپریم کورٹ کی جانب سے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کیس میں دو مرکزی ملزمان کی سزائے موت کالعدم قرار دے کر بری کیے جانے کے فیصلے نے ایک بار پھر پاکستان کے تفتیشی اور عدالتی نظام پر اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ مقدمہ صرف ملک کے بدترین صنعتی سانحات میں سے ایک نہیں بلکہ اس نے اس بنیادی قانونی حقیقت کو بھی اجاگر کیا ہے کہ ہائی پروفائل مقدمات میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کی مفصل رپورٹس، سنسنی خیز انکشافات اور انٹیلی جنس معلومات عدالت میں اکثر وہ قانونی وزن حاصل نہیں کر پاتیں جو عوامی سطح پر انہیں حاصل ہوتا ہے۔ ماہرین قانون کے مطابق جے آئی ٹی کسی مقدمے کی سمت متعین ضرور کر سکتی ہے، لیکن اگر اس کی فائنڈنگز کو قابلِ قبول شہادت، فرانزک شواہد، عینی گواہوں اور قانونِ شہادت کے تقاضوں کے مطابق ثابت نہ کیا جائے تو یہی رپورٹس ٹرائل کورٹ اور اعلیٰ عدالتوں میں اپنی مؤثریت کھو بیٹھتی ہیں۔ سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس نے ایک بار پھر یہ بحث چھیڑ دی ہے کہ آخر پاکستان میں ہائی پروفائل مقدمات میں جے آئی ٹی کی رپورٹس اکثر سزا دلوانے میں کیوں ناکام رہتی ہیں، اور تفتیش، استغاثہ اور عدالتی کارروائی کے درمیان موجود خامیاں انصاف کی راہ میں کیسے رکاوٹ بنتی ہیں۔
خیال رہے کہ جون 2026 میں سپریم کورٹ نے سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری آتشزدگی کیس میں اہم فیصلہ سناتے ہوئے دو مرکزی ملزمان کی سزائے موت کالعدم قرار دے کر انہیں بری کر دیا۔ 2012 میں پیش آنے والے اس سانحے میں 260 سے زائد مزدور جان کی بازی ہار گئے تھے اور یہ پاکستان کی تاریخ کے بدترین صنعتی حادثات میں شمار ہوتا ہے۔ فیصلے کے بعد ایک مرتبہ پھر اس مقدمے کی جے آئی ٹی رپورٹ، اس کی قانونی حیثیت اور تفتیش کے معیار پر سوالات اٹھنے لگے۔
واضح رہے کہ پاکستان میں جے آئی ٹیز عموماً انسدادِ دہشت گردی ایکٹ 1997 یا اعلیٰ عدالتوں کے خصوصی احکامات کے تحت تشکیل دی جاتی ہیں۔ ان کا مقصد مختلف انٹیلی جنس اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ماہرین کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کر کے پیچیدہ اور حساس مقدمات کی مشترکہ تفتیش کرنا اور مختلف شواہد کو یکجا کرنا ہوتا ہے۔
قانونی ماہرین کے مطابق جے آئی ٹی کی سب سے بڑی قانونی کمزوری یہ ہے کہ قانونِ شہادت کے تحت اس کی رپورٹ یا اس کے سامنے دیا گیا بیان بذاتِ خود عدالت میں حتمی شہادت نہیں ہوتا۔ جے آئی ٹی ایک تفتیشی دستاویز ہوتی ہے، عدالتی فیصلہ یا چالان نہیں۔ اس لیے اس میں درج ہر دعوے کو عدالت میں الگ سے قابلِ قبول شہادت، گواہوں، دستاویزی ثبوت اور فرانزک شواہد کے ذریعے ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے۔
قانونی ماہرین کے بقول سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس اس کی واضح مثال ہے۔ جے آئی ٹی نے اپنی طویل تحقیقات کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا تھا کہ فیکٹری میں آگ حادثاتی نہیں بلکہ مبینہ طور پر 20 کروڑ روپے بھتہ نہ دینے پر کیمیائی مواد چھڑک کر لگائی گئی تھی۔ تاہم جب مقدمہ انسدادِ دہشت گردی عدالت میں زیر سماعت آیا تو جے آئی ٹی کی متعدد اہم فائنڈنگز عدالت کے معیارِ شہادت پر پوری نہ اتر سکیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے کئی حصے سماعتی معلومات (Hearsay Evidence) پر مبنی تھے، جنہیں آزاد، مضبوط اور ناقابلِ تردید شواہد سے ثابت نہیں کیا جا سکا۔ نتیجتاً بعض اہم ملزمان کے خلاف استغاثہ مضبوط دستاویزی یا عینی ثبوت پیش کرنے میں ناکام رہا، جس کے باعث انہیں بریت ملی، جبکہ جن افراد کو سزا سنائی گئی، ان کے خلاف فیصلہ بنیادی طور پر پولیس تفتیش، فرانزک رپورٹس، طبی شواہد اور دیگر روایتی شہادتوں کی بنیاد پر دیا گیا، نہ کہ صرف جے آئی ٹی رپورٹ پر۔
قانونی ماہرین کے مطابق پاکستان کے فوجداری نظام میں ہر جرم کو شک و شبہے سے بالاتر ہو کر ثابت کرنا ضروری ہوتا ہے، جبکہ جے آئی ٹی رپورٹس میں شامل بہت سی معلومات انٹیلی جنس ذرائع سے حاصل کی جاتی ہیں۔ ایسی معلومات کو عدالت میں قانونی حیثیت دلانے کے لیے متعلقہ گواہوں اور ثبوتوں کی تصدیق ناگزیر ہوتی ہے۔ اگر کوئی گواہ ٹرائل کے دوران اپنے پہلے بیان سے منحرف ہو جائے یا جے آئی ٹی کے سامنے دیا گیا بیان دہرانے سے انکار کر دے تو رپورٹ کا اہم حصہ قانونی طور پر کمزور ہو جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایک اور بنیادی مسئلہ تفتیش اور استغاثہ کے درمیان مؤثر ہم آہنگی کا فقدان ہے۔ جے آئی ٹی اپنی رپورٹ حکومت یا عدالت کے سپرد کر دیتی ہے، جبکہ مقدمے کی پیروی بعد ازاں سرکاری پراسیکیوٹرز کرتے ہیں، جو اکثر تفتیشی عمل کا حصہ نہیں ہوتے۔ نتیجتاً عدالت میں جے آئی ٹی کی قانونی بنیادوں پر مؤثر انداز میں دفاع کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ بعض ہائی پروفائل مقدمات میں جے آئی ٹی کی کارروائیاں سیاسی بیانیے یا میڈیا ٹرائل کا حصہ بھی بن جاتی ہیں۔ جب تفتیش کا مرکز مضبوط قانونی شہادت کے بجائے عوامی تاثر یا سیاسی دباؤ ہو تو بعد ازاں عدالت میں انہی کمزوریوں کا فائدہ دفاعی وکلا اٹھاتے ہیں اور مقدمہ متاثر ہوتا ہے۔
سرکاری استغاثہ سے وابستہ ذرائع کے مطابق گواہوں کو مؤثر تحفظ فراہم نہ کیا جانا بھی نظام کی بڑی خامی ہے۔ ان کے مطابق عزیر جان بلوچ سمیت کئی ہائی پروفائل مقدمات میں دیکھا گیا کہ جے آئی ٹی کے سامنے بیان دینے والے متعدد گواہ بعد میں عدالت میں اپنے بیانات سے منحرف ہو گئے یا پیش ہی نہ ہو سکے، کیونکہ انہیں مناسب تحفظ حاصل نہیں تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ریاست گواہوں کی جان و مال کے تحفظ، جدید فرانزک نظام، مضبوط استغاثہ، مربوط تفتیش اور قانونِ شہادت کے تقاضوں کے مطابق ناقابلِ تردید ثبوت فراہم نہ کر سکے تو جے آئی ٹی کی سینکڑوں صفحات پر مشتمل رپورٹ بھی عدالت میں ملزمان کو سزا دلانے کے لیے کافی ثابت نہیں ہوتی۔
قانونی حلقوں کے مطابق سانحہ بلدیہ ٹاؤن کیس سمیت متعدد ہائی پروفائل مقدمات نے واضح کر دیا ہے کہ جے آئی ٹی کسی بھی کیس کی ابتدائی سمت ضرور متعین کر سکتی ہے، لیکن انصاف کی حقیقی منزل تک پہنچنے کے لیے تفتیش، استغاثہ، گواہوں کے تحفظ، فرانزک شواہد اور عدالتی معیارِ شہادت کے درمیان مکمل ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ بصورت دیگر عوامی سطح پر مضبوط سمجھی جانے والی رپورٹس بھی عدالت میں مطلوبہ قانونی وزن حاصل نہیں کر پاتیں
