جنگ یا مذاکرات؟مشرق وسطیٰ ایک بار پھر بحران کے دہانے پر

امریکا اور ایران ایک مرتبہ پھر شدید فوجی اور سفارتی کشمکش کے نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ 7 اور 8 جولائی کے دوران دونوں ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی، خلیج اور آبنائے ہرمز میں فوجی سرگرمیوں، فضائی حملوں، جوابی کارروائیوں اور سخت بیانات نے مشرق وسطیٰ میں ایک نئے بحران کے خدشات کو جنم دیا ہے۔ اگرچہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا کہ ‘مذاکرات ختم ہو چکے ہیں’ اور ایران پر مزید دباؤ ڈالنے کا عندیہ دیا، لیکن دونوں ممالک کے تازہ بیانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مکمل جنگ کسی بھی فریق کی پہلی ترجیح نہیں۔ پس پردہ سفارتی رابطے بدستور جاری ہیں اور مذاکرات کا دروازہ مکمل طور پر بند نہیں ہوا۔ ایسے میں پاکستان بھی ایک مرتبہ پھر سفارتی محاذ پر متحرک دکھائی دے رہا ہے اور اسلام آباد مفاہمتی عمل کو زندہ رکھنے کے لیے اپنا کردار ادا کرنے پر زور دے رہا ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق آنے والے دن اس بحران کی سمت کا تعین کریں گے کہ خطہ جنگ کی طرف بڑھتا ہے یا سفارت کاری ایک بار پھر غالب آتی ہے۔

خیال رہے کہ حالیہ کشیدگی کا آغاز اس وقت مزید شدت اختیار کر گیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف سخت مؤقف اپناتے ہوئے کہا کہ مفاہمتی عمل اپنی افادیت کھو چکا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ایران آبنائے ہرمز میں عالمی جہازرانی میں رکاوٹیں برقرار رکھتا ہے تو امریکا مزید سخت فوجی اقدامات سے گریز نہیں کرے گا۔ اطلاعات کے مطابق امریکی کارروائیوں میں ایران کے تقریباً 90 اہداف، جن میں زیادہ تر فوجی تنصیبات شامل تھیں، نشانہ بنائے گئے، جبکہ ایران نے جواباً خلیجی ممالک میں امریکی مفادات اور اہداف پر حملے کیے۔

تاہم ٹرمپ کے بیانات کا دوسرا رخ بھی سامنے آیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران سنجیدہ مذاکرات پر آمادہ ہو تو امریکا بات چیت کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کر رہا۔ مبصرین کے مطابق یہ حکمت عملی زیادہ سے زیادہ فوجی دباؤ ڈال کر مذاکرات کی میز پر بہتر شرائط حاصل کرنے کی امریکی پالیسی کی عکاس ہے۔

ایران نے بھی سخت ردعمل دیتے ہوئے واضح کیا کہ دھمکیوں اور فوجی دباؤ کے تحت کوئی معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے کہا کہ تہران کسی ایسے معاہدے پر دستخط نہیں کرے گا جو ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہو۔ تاہم انہوں نے یہ بھی عندیہ دیا کہ اگر امریکا اپنے سابقہ وعدوں پر عمل کرے اور اعتماد بحال کرنے کے لیے عملی اقدامات کرے تو مذاکرات کا سلسلہ دوبارہ آگے بڑھ سکتا ہے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی نسبتاً معتدل سفارتی مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ایران نے سفارت کاری کا دروازہ بند نہیں کیا، تاہم کسی بھی نئے معاہدے کی بنیاد باہمی اعتماد، اقتصادی پابندیوں میں حقیقی نرمی اور امریکی وعدوں کی عملی پاسداری ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق ایران ایسا معاہدہ چاہتا ہے جو اس کی خودمختاری، سلامتی اور قومی مفادات کا مکمل احترام کرے۔

ادھر ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے بھی واضح کیا کہ ایران اپنی دفاعی صلاحیتوں اور قومی سلامتی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا اور کسی بھی دباؤ کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

دوسری جانب پاکستان نے موجودہ بحران میں ایک مرتبہ پھر سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کسی بھی فریق کے مفاد میں نہیں۔ دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں تمام متعلقہ ممالک پر تحمل کا مظاہرہ کرنے، اشتعال انگیز اقدامات سے گریز کرنے اور مسلسل مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کرنے پر زور دیا۔

پاکستان نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی پاسداری کو بھی خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ فریم ورک باہمی احترام، اعتماد اور مشترکہ خوشحالی کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر سکتا ہے، جبکہ اسلام آباد نے اپنا مثبت، متوازن اور تعمیری سفارتی کردار جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ بھی کیا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق امریکا، ایران اور پاکستان کے حالیہ بیانات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ تینوں فریق جنگ کے خطرات سے آگاہ ہیں۔ امریکا فوجی دباؤ برقرار رکھتے ہوئے مذاکرات کا راستہ بھی کھلا رکھنا چاہتا ہے، ایران مزاحمت کے ساتھ عزت و برابری کی بنیاد پر بات چیت کے لیے آمادہ ہے، جبکہ پاکستان مسلسل سفارت کاری کو واحد قابلِ عمل راستہ قرار دے رہا ہے۔

ایرانی نژاد امریکی تجزیہ نگار ولی نصر کے مطابق خطے میں جنگ کا خطرہ بدستور بڑھ رہا ہے کیونکہ تہران میں یہ تاثر مضبوط ہو رہا ہے کہ امریکا آبنائے ہرمز میں ایران کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے، لبنان سمیت خطے میں اس کی پوزیشن کمزور کرنے اور مزید دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔ ان کے بقول اگر باہمی اعتماد بحال نہ ہو سکا تو محدود فوجی جھڑپیں وسیع تصادم میں تبدیل ہونے کا خدشہ برقرار رہے گا۔

پاکستان کے سابق سفیر عبدالباسط نے بھی کہا ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ جنگ بندی عملاً ختم ہو چکی ہے، تاہم ان کے مطابق پاکستان اور قطر کشیدگی کم کرنے اور اسلام آباد مفاہمتی عمل کو برقرار رکھنے کے لیے سفارتی کوششیں جاری رکھیں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی معلومات کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر بھی ایرانی قیادت سے رابطے میں ہیں تاکہ صورتحال مزید خراب ہونے سے روکی جا سکے۔

مجموعی طور پر موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ مشرق وسطیٰ ایک نازک دوراہے پر کھڑا ہے۔ ایک طرف فوجی کارروائیاں، دھمکیاں اور جوابی حملے جاری ہیں، جبکہ دوسری جانب سفارتی رابطے بھی مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔ یہی وجہ ہے کہ ماہرین کے نزدیک آنے والے چند دن نہ صرف امریکا اور ایران بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔

Back to top button