10 جولائی سے پاکستان میں غیر قانونی افغانیوں کے خلاف کریک ڈاؤن

پاکستان میں دہشتگرد حملوں میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے کے بڑھتے ہوئے واقعات کے بعد وفاقی حکومت نے 10 جولائی سے غیر قانونی طور پر مقیم افغان باشندوں کے خلاف ملک گیر کریک ڈاؤن شروع کرنے اور انہیں گرفتار کرکے وطن واپس بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ وفاقی اور صوبائی حکومتوں نے واضح کیا ہے کہ اس مرتبہ کسی قسم کی ڈیڈ لائن میں توسیع نہیں کی جائے گی اور مقررہ مہلت ختم ہوتے ہی ملک بھر میں مشترکہ کارروائیوں کا آغاز ہوگا۔

پاکستانی وزارت داخلہ کے سینئیر حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ سیکیورٹی خدشات اور دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں غیر قانونی تارکین وطن کی واپسی قومی سلامتی کی پالیسی کا حصہ ہے، تاہم اس اقدام کا مقصد کسی مخصوص قومیت کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ریاستی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانا اور دہشت گردی کے خطرات کا سدباب کرنا ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق اور تمام صوبوں کے درمیان اس حوالے سے مکمل ہم آہنگی قائم کر لی گئی ہے اور پولیس، ضلعی انتظامیہ، حساس اداروں اور قانون نافذ کرنے والے دیگر اداروں کو مشترکہ کارروائیوں کی ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ صرف وہی غیر ملکی پاکستان میں قیام جاری رکھ سکیں گے جن کے پاس قانونی رہائشی دستاویزات موجود ہوں گی، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم تمام افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

ذرائع کے مطابق کراچی میں 28 جون کو رینجرز ہیڈکوارٹر پر ہونے والے دہشت گرد حملے میں دو افغان باشندوں کے ملوث ہونے کی تصدیق کے بعد ریاستی اداروں نے سیکیورٹی حکمت عملی مزید سخت کر دی ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ شہر میں دہشت گردوں کے سلیپر سیلز، سہولت کاروں اور مشتبہ ٹھکانوں کے خلاف بڑے پیمانے پر انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز جاری ہیں جبکہ حساس تنصیبات اور اہم مقامات کی نگرانی میں بھی نمایاں اضافہ کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق امن و امان پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور ملکی سلامتی کے خلاف سرگرم ہر عنصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ حالیہ کارروائیوں کا مقصد دہشت گرد نیٹ ورکس کو توڑنا، ان کے سہولت کاروں کا سراغ لگانا اور ایسے افراد کی نشاندہی کرنا ہے جو جعلی یا بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں مقیم ہیں۔ ان کے مطابق مختلف اداروں کے درمیان انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے کو بھی مزید مؤثر بنایا گیا ہے تاکہ کارروائیاں زیادہ نتیجہ خیز ثابت ہوں۔
کراچی کے مختلف علاقوں میں رہنے والے شہری بھی سخت سیکیورٹی اقدامات کو امن و امان کی بحالی کے لیے ضروری قرار دے رہے ہیں۔ گلشنِ اقبال کے رہائشی کامران احمد، جو حملے کے وقت قریبی مارکیٹ میں موجود تھے، کا کہنا ہے کہ اس واقعے کے بعد شہری شدید خوف کا شکار ہو گئے تھے، تاہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کی فوری کارروائیوں سے عوام کا اعتماد بحال ہوا ہے۔ ان کے مطابق مشکوک ٹھکانوں کے خلاف آپریشن اور غیر قانونی رہائش پذیر افراد کی جانچ پڑتال شہر کے امن کے لیے ناگزیر ہے۔

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی میں غیر قانونی بستیوں اور سلیپر سیلز کا مسئلہ کئی دہائیوں سے موجود ہے۔ انکے کے مطابق ماضی میں بھی ایسے عناصر کے خلاف کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں، تاہم مختلف سیاسی اور انتظامی وجوہات کی بنا پر یہ مسئلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہو سکا۔ ان کے بقول جدید ٹیکنالوجی، بائیومیٹرک نظام اور انٹیلی جنس اداروں کے درمیان بہتر رابطے کی وجہ سے موجودہ آپریشن ماضی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔ شہری و سماجی امور کی ماہر نادیہ رحمان کا کہنا ہے کہ دنیا کے مختلف ممالک دہشت گردی یا قومی سلامتی کو لاحق خطرات کے بعد سرحدی نگرانی اور امیگریشن قوانین مزید سخت کرتے ہیں۔ ان کے مطابق پاکستان کی حالیہ حکمت عملی کو بھی ریاستی سلامتی، بارڈر مینجمنٹ اور قانونی نظام کو مضبوط بنانے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
حکومتی اور سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 10 جولائی کے بعد ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ ایک سینئر سیکیورٹی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز کا مقصد کسی مخصوص برادری کو نشانہ بنانا نہیں بلکہ ایسے افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو دہشت گرد تنظیموں یا ان کے سہولت کاروں سے منسلک ہوں یا قانونی دستاویزات کے بغیر پاکستان میں مقیم ہوں۔
ادھر خیبر پختونخوا حکومت نے بھی وفاقی پالیسی کے مطابق غیر قانونی افغان باشندوں کی واپسی کے عمل کو تیز کرنے کے لیے متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔

پشاور میں تعینات ایک اعلیٰ پولیس افسر کے مطابق تمام تھانوں کی سطح پر غیر قانونی افغان باشندوں کی فہرستیں تیار کر لی گئی ہیں اور پولیس اہلکار گھر گھر جا کر انہیں مقررہ مدت کے اندر وطن واپسی کی ہدایت دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ 10 جولائی کے بعد قانونی دستاویزات نہ رکھنے والے افراد کو گرفتار کر کے سرحدی راستوں کے ذریعے افغانستان منتقل کیا جائے گا، جبکہ اس مقصد کے لیے ضلع خیبر میں قائم ٹرانزٹ کیمپ کو بھی مکمل طور پر فعال کر دیا گیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ کارروائی کے دوران غیر ضروری سختی سے گریز کیا جائے گا اور ضلعی انتظامیہ، پولیس، ایف سی اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے باہمی تعاون سے اس عمل کو منظم انداز میں مکمل کریں گے تاکہ واپسی کا مرحلہ پرامن اور منظم طریقے سے انجام دیا جا سکے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اپریل 2025 سے اب تک تقریباً 9 لاکھ 88 ہزار 812 افغان باشندے پاکستان چھوڑ چکے ہیں، جن میں غیر قانونی طور پر مقیم افراد، افغان سٹیزن کارڈ ہولڈرز اور پروف آف رجسٹریشن کارڈ رکھنے والے افغان شہری بھی شامل ہیں۔ دوسری جانب اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین اور بین الاقوامی ادارہ برائے مہاجرت کے مطابق ستمبر 2023 سے مئی 2026 تک پاکستان سے 23 لاکھ 90 ہزار سے زائد افغان شہری افغانستان واپس جا چکے ہیں، جن میں بڑی تعداد رضاکارانہ طور پر وطن واپس جانے والوں کی ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان میں اب بھی نو لاکھ سے زائد رجسٹرڈ افغان مہاجرین موجود ہیں، جبکہ رجسٹرڈ اور غیر رجسٹرڈ افغان باشندوں کی مجموعی تعداد تقریباً 20 لاکھ بتائی جاتی ہے، جن میں سب سے زیادہ خیبر پختونخوا میں مقیم ہیں۔

حکومت کا کہنا ہے کہ آئندہ مرحلے میں تمام کارروائیاں ملکی قوانین اور امیگریشن ضوابط کے مطابق انجام دی جائیں گی۔ حکام کے مطابق صرف وہی غیر ملکی پاکستان میں قیام جاری رکھ سکیں گے جن کے پاس قانونی رہائشی دستاویزات موجود ہوں گی، جبکہ غیر قانونی طور پر مقیم افراد کی واپسی کے عمل کو ہر صورت مکمل کیا جائے گا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اس پالیسی کا بنیادی مقصد ریاستی رٹ کو مضبوط بنانا، قومی سلامتی کا تحفظ یقینی بنانا اور غیر قانونی امیگریشن کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔

Back to top button