ڈونلڈ ٹرمپ کی اہلیہ طلاق لینے پر غور کرنے لگیں

امریکی انتخابات میں اگرچہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شکست ہوگئی ہے، تاہم وہ آئندہ سال جنوری کے وسط تک صدر کی ذمہ داریاں نبھاتے رہیں اور وہ وائیٹ ہاؤس میں ہی رہیں گے۔
وائیٹ ہاؤس سے نکلتے اور عہدہ صدارت سے الگ ہونے کے فوری بعد انہیں ایک اور زور دار دھچکا لگنے والا ہے، کیوں کہ ان سے ان کی تیسری اہلیہ 50 سالہ میلانیا ٹرمپ طلاق لینے والی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ سے گزشتہ چار سال سے تنگ میلانیا ٹرمپ نے اب شوہر سے طلاق لینے کا فیصلہ کرلیا ہے اور ممکنہ طور پر شوہر کے عہد صدارت سے الگ ہوتے ہی وہ طلاق کے لیے عدالت سے رجوع کریں گی۔ ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی اہلیہ میلانیا ٹرمپ کے درمیان گزشتہ چار سال سے کشیدہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے وائیٹ ہاؤس کی سابق ملازمہ کے دعووں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ میلانیا ٹرمپ شوہر سے طلاق لینے پر غور ر رہی ہیں۔ ماضی میں واہیٹ ہاؤس کے ملازمین کی جانب سے کیے گئے دعووں کو جواز بنا کر بتایا جا رہا ہے کہ دونوں گزشتہ چار سال سے صدارتی ہاؤس میں الگ الگ کمروں میں رہتے تھے۔ ساتھ ہی بتایا گیا کہ 2016 سے اب تک دونوں کے درمیان کشیدہ تعلقات کی خبریں آتی رہیں اور میلانیا ٹرمپ 4 سال سے مجبوری کے تحت ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ رہنے پر مجبور ہوئیں۔ وائیٹ ہاؤس کی ایک سابق ملازمہ کے ماضی میں دیے گئے بیانات کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ 2016 کے ایک ہی محل میں رہنے کے باوجود میلانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ الگ الگ کمروں میں رہتے تھے۔ وائیٹ ہاؤس کی سابق ملازمہ اور میلانیا ٹرمپ کے قریب رہنے والی اوماروسا کا کہنا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے عہدہ صدارت کے ختم ہونے کے فوری بعد میلانیا ٹرمپ نے شوہر سے طلاق لینے کا منصوبہ بنا رکھا ہے۔ ان کےمطابق میلانیا ٹرمپ ہر ایک پل کو گن رہی ہیں، وہ جلد طلاق لے کر آزادی حاصل کرنا چاہتی ہیں، اگر میلانیا ٹرمپ وائیٹ ہاؤس میں رہائش کے دوران شوہر سے طلاق لیتی توں تو وہ اسے سخت مشکلات میں ڈال کر اپنا بدلہ لیتا، اس لیے میلانیا نے 4 سال گن گن کر صبر میں گزارے۔ گزشتہ چار سال کے دوران میلانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان کشیدہ تعلقات کی خبریں آتی رہی ہیں اور دونوں کے درمیان سرد مہری کی افواہیں عالمی میڈیا کی زینت بھی بنتی رہی ہیں۔ گزشتہ برس دسمبر میں ہی وائیٹ ہاؤس کی سابق ملازم اور میلانیا ٹرمپ کی قریبی دوست امریکی صحافی کیٹ بینت کی 320 صفحات پر مشتمل کتاب ’فری میلانیا: دی ان اتھورائزڈ بایوگرافی‘ میں بھی ڈونلڈ اور میلانیا کے درمیان کشیدہ تعلقات کے دعوے کیے گئے تھے۔ کتاب میں بتایا گیا تھا کہ میلانیا اور ڈونلڈ ٹرمپ ایک ہی کمرے میں نہیں رہتے اور دونوں کے درمیان کشیدگی کافی بڑھ چکی ہے اور ایسے دعووں پر میلانیا یا ڈونلڈ ٹرمپ نے کوئی رد عمل بھی نہیں دیا تھا۔ اس کے علاوہ چند ماہ قبل ہی میلانیا ٹرمپ کی پہلی سیکرٹری صحافی و لکھاری اسٹیفی ونسن وولکوف نے اپنی کتاب ‘میلانیا اینڈ می: دی رائز اینڈ فال آف مائے فرینڈشپ ود فرسٹ لیڈی’ میں بھی صدر ٹرمپ اور ان کی اہلیہ کے درمیان کشیدہ تعلقات کا ذکر کیا تھا۔ ساتھ ہی اس کتاب میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ میلانیا اور ایوانکا ٹرمپ کے درمیان بھی تعلقات کافی کشیدہ ہیں اور دونوں ایک دوسرے کو پیچھے چھوڑنے کی کوشش میں رہتی ہیں۔
