کرنل انعام پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا الزام

دو ہفتے پیشترراولپنڈی میں اپنی رہائش گاہ سے مسلح افراد کے ہاتھوں اغواء ہونے والے لاپتہ افراد کے وکیل کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو ریاستی اداروں نے اغوا کیا تھااور اب ان پر آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کا مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔
اس بات کا انکشاف 2 جنوری کی صبح وزارت دفاع نے لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ کے سامنے کیا اور بتایا کہ کرنل انعام کو آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی پر حراست میں لیا گیا ہے۔ وزارتِ دفاع کی جانب سے یہ معلومات کرنل انعام کی گمشدگی سے متعلق درخواستوں کی سماعت کے دوران فراہم کی گئیں۔ تاہم وزارت دفاع یہ بتانے میں ناکام رہی کہ اگر کرنل انعام کے خلاف صرف کوئی مقدمہ درج تھا تو پھر انہیں اغوا کرنے کی نوبت کیوں آئی اور دو ہفتے ان کی گرفتاری کو ظاہر کیوں نہیں کیا گیا؟
پاکستان میں لاپتہ افراد اور فوج سے متعلق مقدمات کی پیروی کرنے والے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کو 17 دسمبر کو راولپنڈی میں واقع ان کی رہائش گاہ سے اغوا کیا گیا تھا۔انعام الرحیم کے بیٹے حسنین انعام نے بتایا تھا کہ شب ساڑھے بارہ بجے کے قریب اڈیالہ روڈ پر عسکری 14 میں واقع ان کی گھر کی گھنٹی بجی اور جب انھوں نے دروازہ کھولا تو سیاہ وردیوں میں ملبوس آٹھ سے دس مسلح افراد ان کے گھر میں گھس آئے تھے۔ حسنین انعام کے مطابق یہ افراد ان کے والد کو اسلحے کے زور پر زبردستی اپنے ہمراہ سیاہ رنگ کی ویگو گاڑی میں ڈال کر لے گئے تھے اور انھیں دھمکی دی تھی کہ اگر انھوں نے کرنل ریٹائرڈ انعام الرحیم کی گمشدگی کو رپورٹ کیا تو اس کے نتائج اچھے نہیں ہوں۔
2 جنوری کو جسٹس وقاص مرزا نے کرنل کی بازیابی کی درخواستوں کی سماعت کی تو ڈپٹی اٹارنی جنرل محمد حسین چوہدری اور وزارت دفاع کے نمائندے بریگیڈیئر فلک ناز نے عدالت کو بتایا کہ کرنل انعام ان کی تحویل میں ہیں اور انھیں آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی خلاف ورزی کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ ان سے اس حوالے سے مزید تفتیش کی جا رہی ہے۔ سماعت کے دوران درخواست گزار نے استدعا کی کہ انعام الرحیم کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا جائے۔ تاہم معاملے کی نزاکت سے آگاہ عدالت نے اس پر کوئی حکم تو جاری نہیں کیا البتہ ڈپٹی اٹارنی جنرل اور وزارت دفاع کے نمائندے کو حکم دیا کہ کرنل انعام پر جو بھی الزامات ہیں ان کی تفصیلات تین جنوری کو عدالت میں پیش کی جائے۔
واضح رہے کہ ملک میں کوئی بھی آئینی عہدہ، چاہے وہ فوجی ہو یا سول، رکھنے کی صورت میں متعلقہ افسر کو ‘آفیشل سیکرٹ ایکٹ’ پر دستخط کرنا ہوتے ہیں، جس کے تحت وہ عمر بھر کے لیے پابند ہو جاتے ہیں کہ وہ کسی بھی قسم کی خفیہ معلومات کسی بھی مرحلے پر کسی سے بھی شیئر نہیں کر سکتے۔ فوج میں ایڈجوٹینٹ جنرل کے فرائض انجام دینے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد نے بتایا کہ ‘بعض اوقات فوجی کا کردار براہ راست نہیں ہوتا، وہ انجانے میں معلومات شیئر کرتا ہے، معاون کے طور پر کردار ادا کر سکتا ہے، تو ایسی صورت میں سزا کچھ کم ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر وہ براہِ راست، جانتے بوجھتے حساس معلومات کے تبادلے اور ملک کے خلاف جاسوسی میں ملوث پایا جائے تو اس کی سزا موت یا عمر قید ہی ہے۔’
انعام الرحیم ایڈووکیٹ کا تعلق پاک فوج کے 62ویں لانگ کورس سے ہے۔ یہ وہی کورس ہے جس سے موجودہ آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ کا بھی تعلق ہے۔ آل پاکستان ایکس سروس مین لیگل فورم کے کنوینر انعام الرحیم ماضی میں لاپتہ اور فوج کے حراستی مراکز میں قید افراد کے مقدمات لڑنے کے علاوہ فوجی عدالتوں اور فوجی سربراہان کی مدتِ ملازمت میں توسیع کے خلاف عدالتوں سے رجوع کر چکے ہیں۔ انعام الرحیم پاک فوج کی لیگل برانچ جسے جج ایڈووکیٹ جنرل برانچ یا جیگ برانچ کہتے ہیں سے بھی منسلک رہے۔ پرویز مشرف کے اقتدار میں آنے کے بعد وہ فوج میں رہتے ہوئے پرویزمشرف کے ناقدین میں شامل تھے۔ انھوں نے اپنے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف سے تمغہ امتیاز ملٹری وصول کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا۔ وہ لیفٹینینٹ کرنل کے عہدےسے آگے نہ جاسکے اور اکتوبر 2007 میں ریٹائر ہو گئے۔ 2008 میں انعام الرحیم نے راولپنڈی میں قانون کی پریکٹس شروع کر دی۔ ان دنوں راولپنڈی میں پرویز مشرف پر حملہ کیس کے ملزمان رانا فقیرو دیگر اپنے لیے وکیل تلاش کررہے تھے مگر کوئی ان کا کیس لینے کے لیے تیار نہ تھا۔ انعام الرحیم آگے بڑھے اور انہوں نے ملزمان کے وکیل کے طور پر خدمات پیش کیں۔ اس طرح وہ پہلی بار میڈیا کی نظروں میں بھی آئے۔
پرویز مشرف اوردیگر عسکری شخصیات کے اثاثوں سے متعلق انعام الرحیم نیب سے بھی رجوع کرتے رہے۔ پرویز مشرف کے اثاثوں کے بارے میں انھوں نے مختلف فورمز پر درخواستیں بھی دیں۔ انعام الرحیم نے جنرل راحیل شریف کے دور میں پاک افغان سرحد پر انگوراڈہ کی چیک پوسٹ مبینہ طور پر افغانستان کے حوالے کرنے کے خلاف بھی ایک رٹ پٹیشن کررکھی تھی جس میں اس وقت کے ڈائریکٹرجنرل آئی ایس پی آر عاصم سلیم باجوہ کو بھی ملزم نامزد کررکھا تھا۔ حال ہی میں عاصم سلیم باجوہ کی رئٹائرمنٹ کے بعد ان کی سی پیک اتھارٹی کے سربراہ کے طورپر تعیناتی کے بعد یہ معاملہ ایک بارپھر سامنے آیا تھا۔
