کرکٹ ٹیم چلانے والے نااہلوں سے ملک نہیں چل سکتا

پاکستان پیپلر پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین اور سابق صدر آصف زرداری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان سے پاکستان نہیں چل رہا، یہ کرکٹ ٹیم چلانے والے ہیں۔ ملک چلانے کے لیے گر اور سوچ چاہیے جو ان کے پاس نہیں ہے’۔ جس طرح مشرف کو نکالا تھا اسی طرح عمراں خان کو بھی نکالیں گے.
گڑھی خدا بخش میں بینظیر بھٹو کی برسی کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری نے کہا کہ ‘آج سرخ سلام، پیپلزپارٹی کے شہیدوں، بی بی صاحبہ کا دن ہے لیکن بی بی ہمیں بتا گئیں کہ سایست کرتے رہو اورملک کے لیے لڑتے رہو اور ان کی سوچ پر چلتے ہوئے. ہم نے پاکستان کو اکٹھا رکھا، 18 ویں ترمیم دی، پختونخو اور بلوچوں کو ان کا حق دیا’۔انھوں نے کہا کہ ’ان سے پاکستان نہیں چل رہا اور چلے گا بھی نہیں، یہ آج میرا دعویٰ ہے۔ یہ پاکستان نہیں چلا سکتے۔ یہ ملک چلانے والے نہیں ہیں۔ یہ کرکٹ ٹیم چلانے والے ہیں۔ ملک چلانے والے کوئی اور لوگ ہیں، اس کے لیے کوئی اور سوچ چائیے۔‘انھوں نے کہا کہ جو ہمارے مخالف تھے ان کو بھی ساتھ ملا کر ادھورے آئین کو اٹھارویں ترمیم کے ذریعے مکمل کیا۔
آصف زرداری نے کہا کہ فکرنہ کریں، یہ اپنے زور پر گریں گے۔ ’میں نے پہلے دن کہا تھا کہ یا ملک چلا لو یا نیب چلا لو۔ ان کے مطابق میں نے پہلے بھی 14 سال جیل کاٹی ہوئی ہے، مجھے جیل سے ڈر نہیں لگتا۔‘ان کے مطابق پیپلز پارٹی کے دور میں ایک بھی سیاسی قیدی نہیں تھا۔آصف زرداری نے کہا کہ گڑھی خدا بخش صرف ہمارے شہیدوں کا مقام نہیں ہے بلکہ ایسے بھی یہاں مدفون ہیں کہ جن کو ہم شناخت نہ کر سکے۔انھوں نے کہا کہ بے نظیر بھٹو نے نہ بچوں کی پرواہ کی نہ اپنے گھر کی پروا کی، دونوں بھائی شہید ہو گئے مگر ان کی جدوجہد جاری رہی اور انھوں نے کہا تھا کہ جمہوریت ہی بہترین انتقام ہے۔
آصف زرداری نے کہا کہ مشرف تڑپ رہا ہو گا مگر اب پاکستان آ نہیں سکتا۔ اس کے بعد انھوں نے کہا کہ ’آپ بھی نہیں رہیں گے، آپ بھی چلے جائیں گے۔انھوں نے کہا کہ جس طرح مشرف کی بنائی ہوئی پارٹی ختم ہو گئی تھی اب یہ پارٹی بھی ختم ہو جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ جب ملک آپ سے نہیں چل سکتا تو چھوڑ کیوں نہیں دیتا۔ انھوں نے کہا عوام کے نمائندے یہ ہیں جو یہاں بیٹھے ہیں۔ سابق صدر کا کہنا تھا کہ ہمیں طریقہ بدلنا ہو گا جس طرح میں نے مشرف کو دودھ میں سے مکھی کی طرح نکال دیا اسی طرح ہم عمران خان کو بھی نکال سکتے ہیں کچھ ہم سے بھی سیکھ لو ہم جیلیں بھر دینگے ہم جیل جانے سے نہیں ڈرتے۔
سابق صدر نے کہا مصیبتوں کے باوجود ہم نے اپنے بچوں کی طرح ملک کو سنبھال کر چلایا اور اپنے پانچ سال پورے کیے۔میں نے ایک جنرل کو صدر ہوتے ہوئے مکھی کی طرح ایوان صدرسے نکال باہر کیا۔انھوں نے کہا کہ اس امید پر رہو کہ یہ حکومت نہیں رہے گی۔انھوں نے کہا کہ جس طرح وہ ہمیں سبق دے گئی ہیں، ہم اس کا حساب لیں گے مگر جمہوریت سے۔ میں بھی یہی سمجھتا ہوں کہ جمہوریت بہترین انتقام ہے۔
