کیا اسلام آباد، تہران، استنبول ریل سروس کامیاب ہو پائے گی؟

کپتان حکومت نے 2009 میں معطل ہونے والی اسلام آباد، تہران، استنبول کارگو ریل سروس یا آئی ٹی آئی کا دوبارہ افتتاح تو کر دیا ہے لیکن اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس مرتبہ یہ منصوبہ کامیاب ہو پائے گا یا ماضی کی طرح اسے دوبارہ ٹھپ کرنا پڑ جائے گا۔
اس منصوبے کی کامیابی پر شکوک کا اظہار کرنے والے ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان سے چلنے والی کارگو ٹرین تو صرف ایرانی باردڑ تک جاتی ہے کیونکہ ایران اور ترکی کی ریلوے پاکستان سے قدرے جدید ہے لہٰذا پاکستان کو اصل فائدہ تب ہوگا جب پاکستان سے چلنے والی ٹرین ہی ترکی سے سامان واپس لے کر آئے، لیکن ایسا تب تک نہیں ہوسکتا جب تک ریلوے ٹرک اور کارگو والی بوگیوں کو عالمی معیار کا نہیں بنایا جاتا۔ بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق یوں تو اسلام آباد، تہران، استنبول کارگو ریل سروس روٹ کے مطابق ٹرین اسلام آباد سے لاہور اور سکھر کے راستے کوئٹہ پہنچتی ہے جہاں سے آگے پاکستان کے سرحدی شہر تفتان سے ہوتی ہوئی ایران کے شہر زاہدان تک کا سفر شروع ہوتا ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ 2009 میں بھی یہ سروس شروع کرنے کے باوجود پاکستانی ٹرین کبھی ملکی حدود سے باہر سفر نہ کر سکی۔ ریلوے حکام کے مطابق اسلام آباد سے زاہدان تک ایک طرح کی ریل کی پٹڑی ہے جبکہ زاہدان سے آگے استنبول تک پھر سٹینڈرڈ گیج کی پٹڑی ہے، لہٰذا پاکستانی ٹرین اس پٹڑی پر مزید سفر جاری نہیں رکھ سکتی۔ چنانچہ زاہدان کے مقام پر ایرانی حکام پاکستانی ٹرین سے کنٹینر اپنی ریل گاڑی میں منتقل کر دیتے ہیں، جو وہاں سے آگے استنبول تک جاتی ہے۔
تاہم پاکستانی حکام نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ پاکستانی ریل کو کیسے جدید بنایا جائے اور کوئٹہ سے تفتان تک ریلوے لائن کو کب بہتر کیا جائے گا تاکہ وہ پاکستان کی حدود سے نکل کر آگے بھی جا سکے۔ اگر ایسا ہو جائے تو مستقبل میں کارگو ریل سروس کو مسافر ٹرین سروس تک بھی بڑھایا جا سکتا ہے۔ یاد رہے کہ 21 دسمبر کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے وفاقی وزیر برائے ریلوے اعظم سواتی کے ہمراہ اسلام آباد میں مارگلہ ریلوے سٹیشن پر کارگو سروس کی بحالی کی تقریب کے بعد خطاب میں کہا کہ اس سروس سے تینوں ملکوں میں تجارت کو فروغ ملے گا۔ حالیہ معاہدے کے مطابق یہ کارگو ریل سروس 2022 سے باقاعدگی سے چلائی جائے گی۔ شاہ محمود قریشی نے امید ظاہر کی کہ مستقبل میں ترکی سے آگے یورپی منڈیوں تک بھی پاکستانی ٹرین سروس کو رسائی ملے گی۔
یاد رہے کہ یہ سروس 2009 میں آصف زرداری کے دور حکومت میں شروع کی گئی تھی اور اس کا نام گولڈ ٹرین سروس رکھا گیا مگر گذشتہ برس تک کوئی بھی ٹرین اس روٹ پر نہ چل سکی۔ چنانچہ ان تین ممالک نے حال ہی میں اس کی بحالی پر اتفاق کیا تھا۔ خیال رہے کہ 2009 کے بعد سے وقتاً فوقتاً یہ ٹرین کسی نہ کسی صورت تین ممالک کے درمیان 2019 تک فعال رہی۔ لیکن سال 2020 میں شیخ رشید کے دور میں یہ سروس مکمل معطل کر دی گئی تھی۔
کوئٹہ چیمبر آف کامرس سے وابستہ صلاح الدین خلجی کا کہنا ہے کہ تاجر برادری کارگو ریل سروس کی بحالی سے خوش ہے تاہم اسے مؤثر بنانے کے لیے پاکستانی حکومت کو تاجروں کے مسائل حل کرنا ہوں گے۔ انکا کہنا ہے کہ تفتان والے روٹ پر ریت کے طوفان کے باعث یہ ٹرین رک جاتی ہے اور پٹڑی کی صفائی کا کوئی خاطر خواہ انتظام بھی موجود نہیں۔ان کے مطابق کوئٹہ کے تاجر ایران کو پھل اور سبزیاں بھیجتے ہیں مگر ٹرین میں ایئرکنڈیشنر نہ ہونے کی وجہ سے اکثر ایران کینو اور آم لینے سے یہ کہہ کر انکار کر دیتا ہے کہ اب یہ تازہ نہیں رہے۔صلاح الدین کے مطابق ان اشیا کو باہر بھیجنے کے لیے کراچی سے جا کر کلیئرنس سرٹیفکیٹ حاصل کرنا پڑتا ہے۔ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ حکومت متعلقہ محکمے کا دفتر کوئٹہ میں بھی کھولے تاکہ تاجر کم وقت میں اشیا کی برآمدات کو یقینی بنا سکیں۔
