کیا اسٹیبلشمنٹ اکتوبرمیں نئے انتخاب کروانا چاہتی ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ کار نصرت جاوید نے کہا ہے کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں ہمارے ”مائی باپ“ سمجھے جانے والے طاقتور فوجی حلقوں میں یہ سوچ مقبول ہو رہی ہے کہ عوام میں جمع ہوتے غصے کی نکاسی کے لئے فوری نئے انتخاب کروائے جائیں۔ اس ضمن میں رواں برس کے اکتوبر کا ذکر ہو رہا ہے اور یہ بات واضح نظر آ رہی ہے کہ نئے انتخاب اگر واقعتاً اکتوبر میں ہوئے تو تحریک عدم اعتماد کے ذریعے اقتدار سے نکالے عمران خان اسکا بھرپور فائدہ اٹھائیں گے۔ ان کی جماعت تو ایسے انتخاب کے بعد دوتہائی اکثریت کے ساتھ اقتدار میں لوٹنے کا خواب بھی دیکھ رہی ہے۔ مگر تلخ ترین بنیادی حقیقت یہ ہے کہ عمران نے اقتدار میں لوٹ کر آئی ایم ایف کو ٹھینگا دکھا دیا تو پاکستان میں ویسے ہی مناظر رونما ہوں گے جو حال ہی میں سری لنکا میں پھوٹ پڑے تھے۔
اپنے تازہ ترین تجزیے میں نصرت جاوید کہتے ہیں کہ 1985 میں جنرل ضیاء نے آٹھ سال طویل جابرانہ مارشل لا کے بعد ”پارلیمانی نظام“ بحال کرنے کا جھانسہ دیتے ہوئے ”غیر جماعتی“ انتخابات کروائے تھے۔ انہوں نے انتخاب مکمل ہو جانے کے بعد واضح الفاظ میں اعلان کیا کہ پارلیمان کی بحالی کا مقصد عوام کے منتخب کردہ نمائندوں کو ”اقتدار کی منتقلی“ نہیں ہے۔ انہیں محض ”شراکت دار“ بنایا جائے گا۔ نصرت کے مطابق منتخب پارلیمان اس نعرہ کی وجہ سے وجود میں آئی تھی جس کے ذریعے خلق خدا نے بادشاہوں کے لگائے محاصل ادا کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ عوام متقاضی رہے کہ ان کے منتخب کردہ نمائندے ہی یہ طے کریں کہ کون سے طبقے پر کتنا ٹیکس لگانا ہے۔ اس تصور کو No Taxation without Representation کے نعرے سے اجاگر کیا گیا تھا۔ بجٹ کی منظوری گویا منتخب ادارے کا کلیدی حق واختیار و فریضہ ہے۔
لیکن بقول نصرت، جولائی 2022 سے شروع ہونے والے مالی سال کا بجٹ ایک ایسی قومی اسمبلی کے روبرو منظوری کے لئے رکھا گیا جہاں عددی اعتبار سے سب سے بڑی جماعت یعنی تحریک انصاف موجود ہی نہیں تھی۔ اس کے 125 اراکین نے ”اجتماعی استعفے“ بھیج رکھے ہیں۔ یہ استعفے تقریباً 3 ماہ قبل اپریل کے آغاز میں بھیجے گئے تھے۔ تحریک انصاف کے لگائے ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے انہیں منظور کرنے کا اعلان بھی کر دیا تھا۔ مگر سوری کے فیصلے سپریم کورٹ نے ”غیر آئینی“ ٹھہرا دیے، قومی اسمبلی بحال کردی اور یہ حکم بھی صادر کیا کہ وہ عمران خان صاحب کے خلاف پیش ہوئی تحریک عدم اعتماد پر ہر صورت گنتی کروائے۔ گنتی ہو گئی تو خان صاحب وزیر اعظم نہ رہے۔ تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو جانے کے بعد راجہ پرویز اشرف قومی اسمبلی کے سپیکر منتخب ہو گئے۔ وہ ابھی تک یہ طے نہیں کر پائے ہیں کہ ”اجتماعی استعفے“ قواعد وضوابط کے مطابق ہیں یا نہیں۔ انکا اصرار ہے کہ جن اراکین نے استعفے دیے ہیں وہ سپیکر کے دفتر میں انفرادی طور پر پیش ہو کر استعفوں کی تصدیق کریں۔ مگر تحریک انصاف انکی اس خواہش کو خاطر میں نہیں لارہی۔
نصرت کہتے ہیں کہ اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت کی عدم موجودگی میں وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کے پیش کردہ بجٹ پر سیرحاصل بحث ناممکن تھی۔ بجٹ اجلاس اسی کی وجہ سے اکثر کورم کے بغیر چلتا رہا۔ اوسطاً 30 اراکین ہی ایوان میں بیٹھے نظر آتے۔ 342 اراکین پر مشتمل ایوان میں یہ تعداد مذاق کی صورت نظر آتی رہی۔ ہم مگر ”سب چلتا ہے“ کے عادی ہیں۔ خراب انجن اور اناڑی ڈرائیور کے ساتھ محض ”خدا کے سہارے“ ہی گاڑی کو چلتا دیکھنا چاہتے ہیں۔ بجٹ منظوری کے عمل کی ”گاڑی“ بھی اسی انداز میں چلتے ہوئے اب اپنی ”منزل“ تک پہنچ چکی ہے۔ ”منزل“ تک پہنچتے ہوئے رواں برس کے بجٹ نے پیٹرول، بجلی اور گیس کی قیمتوں کو پہلے ہی سے ناقابل برداشت حد تک بڑھانے کے باوجود مزید گراں کرنے کی ”نوید“ سنائی ہے۔ آئی ایم ایف نے سفاک ساہو کار کی طرح ”بیاج“ کی وصولی کے لئے 50 ہزار روپے ماہوار کمانے والے تنخواہ دار کو بھی نام نہاد ”ٹیکس نیٹ“ میں گھیر لینے کا بندوبست یقینی بنایا ہے۔ ہمیں تسلی دینے کو اگرچہ حکومت نے مختلف دھندوں کے اجارہ داروں سے ”سپرٹیکس“ بھی لگادیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ہوس منافع میں مبتلا سیٹھ اس ٹیکس کو ہماری محدود آمدنیوں پر ہاتھ ڈالتے ہوئے ہی ادا کریں گے۔
نصرت جاوید کا کہنا ہے کہ غریب کا غریب تر ہونا تو اس کے مقدر میں لکھا ہوا بتایا جاتا ہے۔ تاہم ٹیکسوں کے حصول کا جو نیا بندوبست آئی ایم ایف کے حکم پر موجودہ حکومت نے متعارف کروایا ہے وہ متوسط طبقے کی کثیر تعداد کو غربت کی جانب دھکیلنا شروع کردے گا۔ شہری متوسط طبقہ اس خوف سے فی الحال ہکا بکا محسوس کر رہا ہے اور چند ہفتے گزرنے کے بعد اسکی حیرت غصے میں بدلنا شروع ہو جائے گی۔ ایسے میں اگر فوجی اسٹیبلشمنٹ اکتوبر میں الیکشن کروانے میں کامیاب ہو گئی تو عمران خان کی بطور وزیراعظم واپسی کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔
