کیا اقتدار کا کھیل عمران خان کے ہاتھ سے نکل چکا ہے؟

معروف صحافی اور تجزیہ نگار نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے کابینہ اراکین کو اگلے چند ماہ تک اسلام آباد نہ چھوڑنے کی ہدایت کے پیچھے یہ خوف چھپا ہے کہ اُنھیں گھر بھجوانے کے لیے کوئی قدم اٹھایا جانے والا ہے۔ لہذا وہ چاہتے ہیں کہ انکی کابینہ انکے ساتھ مل کر ایسے کسی بھی چیلنج کا سامنا کرے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اب وہ لیٹ ہو چکے ہیں اور کھیل عمران خان کے ہاتھ سے نکلتا جا رہا ہے۔
فرائیڈے ٹائمز کیلئے اپنے تازہ ایڈیٹوریل میں نجم سیٹھی لکھتے ہیں کہ عمران خان نے کابینہ کے ارکان کو اگلے تین ماہ تک اسلام آباد نہ چھورنے کی ہدایت کی ہے۔ ہز ماسٹرز وائس، چوہدری فواد حسین نے بڑے بھولے سے لہجے میں کہا کہ اس اقدام کا مقصد سادگی کو رواج دینا ہے۔ بقول سیٹھی، یہ وہ شخص ہے جس نے حال ہی میں الیکشن کمیشن سے استدعا کی تھی کہ اسے توہین عدالت کے الزام سے معافی دی جائے کیونکہ وہ صرف کابینہ کی ترجمانی کر رہا ہوتا ہے۔ دراصل عمران خان کو خوف ہے کہ اُنھیں چلتا کرنے کے لیے کوئی قدم اٹھایا جانے والا ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ تمام حکومتی عہدے دار اس چیلنج کا سامنا کریں۔ لیکن کھیل ان کے ہاتھوں سے اس سے کہیں تیزی سے نکل رہا ہے جتنا کہ زیادہ تر لوگ کچھ مہینے پہلے پیش گوئی کر سکتے تھے۔ خطرے کی علامتیں گہری ہوتی جارہی ہیں۔
بقول سیٹھی، گزشتہ ماہ عمران خان نے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل فیض حمید کا ایک بار پھر دامن تھامنے کی کوشش کی۔ جنرل فیض حمید دراصل عمران خان کو عہدے پر فائز کرنے کے منصوبے کے معمار ہی نہیں تھے، بلکہ ان کے اقتدار کو تین سال سے سہارا بھی دیے ہوئے تھے۔ تاہم اسٹبلشمنٹ کے ادارہ جاتی دباؤ کے سامنے عمران خان کی کوشش ناکام ثابت ہوئی اور ایجنسی میں تبدیلی آ گئی۔ درحقیقت تحریک انصاف پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے مشترکہ اجلاس میں اکثریت حاصل نہیں کر سکتی تھی اگر چیف آف آرمی سٹاف، جنرل قمر جاوید باجوہ عین وقت پر ہاتھ نہ دکھاتے۔ حکومت اسی طرح کے ایک اور مسئلے سے دوچار ہوچکی تھی اگر جنرل باجوہ تحریک لبیک کا اشتعال ٹھنڈا کرنے اور پیچھے ہٹنے کے لیے قدم نہ اٹھاتے۔ سیٹھی سوال کرتے ہیں کہ کپتان کو چیف کی ایسی دست گیری مزید کب تک دستیاب رہے گی اور وہ وقت کب آئے گا جب اسٹیبلشمنٹ ان سے ناطہ توڑتے ہوئے دوسرے قابل اعتماد آپشنز کی طر ف دیکھنے لگے گی؟
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ کچھ نوشتہ دیوار واضح ہیں۔ بڑھتے ہوئے تجارتی خسارے اور مہنگائی میں ہونے والے ہوش ربا اضافے پر کراچی اسٹاک مارکیٹ نے شدید ردعمل ظاہر کیا اور اس کے 2000 پوائنٹ گرگئے۔آئی ایم ایف کی تمام شرائط کو قبول کرتے ہوئے وزارت خزانہ کے تازہ ترین یو ٹرن کا مطلب ہے کہ تھوڑی سی نمو کے بعد دوبارہ بریک لگ گئی ہے۔ ٹیکس میں چھوٹ اور سبسڈی ختم کرنے، یوٹیلیٹی نرخ اور پراپرٹی ٹیکس میں اضافہ، ترقی اور غربت کے خاتمے پر اخراجات میں کمی وغیرہ کے نئے بجٹ کا اعلان جلد کیا جانا ہے۔ ہمیں توقع کرنی چاہیے کہ تمام شعبوں میں احتجاج حکومت کا گھیراؤ کرے گا۔
سیٹھی کے مطابق، پارلیمانی اپوزیشن نے قومی سلامتی پر بریفنگ میں نہ جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اب ان بریفنگ میں دلچسپی اتنی کم ہوتی جارہی ہے کہ چیف آف آرمی سٹاف اور ڈی جی آئی ایس آئی نے مشیر برائے قومی سلامتی، معید یوسف سے کہا ہے کہ وہ یہ بریفنگ دے دیا کریں۔ اب معید یوسف تو کوئی سیاسی سرمایہ نہیں رکھتے۔”متعلقہ حکام“ کے دنیا بھر میں ادھر اُدھر کے دورے کرنے کے باوجود نیشنل سکیورٹی کے حالات خراب ہیں۔ کابل نے تحریک طالبان پاکستان پر قابو پانے کے لیے کچھ نہیں کیا۔ صدر بائیڈن ابھی تک عمران خان کے ساتھ بات کرنے پر آمادہ نہیں۔ سعودی عرب نے بادل نخواستہ غیر معمولی سخت شرائط پر اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو تین بلین ڈالر دینے پر رضا مندی ظاہر کی ہے۔ لخکن اس رقم کو حکومت کی مالی اعانت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، یہ بھی یاد رہے کہ اس رقم کو 72 گھنٹے کے نوٹس پر واپس مانگا جا سکتا ہے، یہ رقم بھاری شرح سود پر ملی ہے، آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، اے ڈی بی جیسے کسی بھی بین الاقوامی ادارے کے ساتھ کسی بھی مالیاتی وعدے پر پاکستان کی طرف سے ڈیفالٹ سعودی معاہدے پر ڈیفالٹ تصور کیا جائے گا، تمام تنازعات سعودی عرب کی عدالتوں میں طے کیے جائیں گے، نادہندہ ہونے کی صورت میں ریاض دنیا میں کہیں بھی کوئی بھی پاکستانی اثاثہ ضبط کر سکتا ہے۔
بقول نجم سیٹھی، یہ سب اس لیے ہوا کیوں کہ عمران خان نے سعودی عرب کی سربراہی میں او آئی سی کی بالادستی کو چیلنج کرنے کے لیے ترکی اور ملائیشیا کے ساتھ حریف کیمپ قائم کرنے کی کوشش کی تھی۔ پرنس محمد بن سلمان اس پر برہم ہوگئے تھے۔ اب قومی سلامتی کو نیاچیلنج درپیش ہے جو ہماری خارجہ پالیسی کے امکانات کو بے نقاب کرسکتا ہے۔ اگر ہندوستان، روس، ایران اور چین کابل حکومت کو تسلیم کرلیں اور امریکی قیادت میں مغربی بلاک بشمول سعودی عرب جیسے مشرق وسطیٰ میں اس کے شراکت دار اسے مسترد کردے تو پاکستان کا کیا موقف ہوگا جب کہ پاکستان کی تجارت اور امداد اسی بلاک پر انحصار کرتی ہے؟ دودری جانب چیف آف آرمی سٹاف، جنرل باجوہ نے پاکستان کی قومی سلامتی کے نقطہ نظر کو ”جیو اسٹریٹجی” سے ”جیو اکنامکس” کی طرف تبدیل کرنے پر زور دیا ہے، جس میں ہندوستان کے ساتھ تعلقات معمول پرلانا اور مغربی بلاک کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنا شامل ہے۔ لیکن اس ضمن میں ابھی کوئی پیش رفت دکھائی نہیں دیتی کیوں کہ عمران خان عقیدے کی اس یک لخت تبدیلی پر سیاسی ردعمل سے خائف ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:سونا فی تولہ 350 روپے مہنگا
سیٹھی کے بقول، اب تحریک انصاف کی حکومت متعصبانہ سیاسی فائدے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان اور اعلیٰ عدلیہ سے الجھی ہوئی ہے۔ اس نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے خلاف بھرپور مہم شروع کررکھی ہے۔ اب یہ دھمکی دے رہا ہے کہ اگر وہ آنے والے بلدیاتی انتخابات اور عام انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے استعمال پر راضی نہ ہوا تو اس کی فنڈنگ روک لی جائے گی۔ الیکشن کمیشن نے ردعمل کے طور پر تحریک انصاف کے فارن فنڈنگ کیس کی سکروٹنی کمیٹی کو کام تیز کرنے کا کہا ہے۔ اس نے پہلے ہی ڈسکہ ضمنی انتخاب میں تحریک انصاف کی پنجاب حکومت پر سنگین بددیانتی کا الزام عائد کیا ہے۔ وہ پی ٹی آئی کے بدزبان فیصل واوڈا کو انتخابی فارم میں جان بوجھ کر غلط بیانی سے کام لینے پر نااہل قرار دینے کے لیے کمر کس چکا ہے۔ناعلیٰ عدلیہ کے لیے بھی تحریک انصاف کی حکومت کے ساتھ تعاون کرتے رہنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔ نواز شریف اور مریم کے خلاف مقدمات اور سزاؤں پر حالات کے تیور بدل رہے ہیں کیونکہ نئے انکشافات نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار اور آصف کھوسہ کو کٹہرے میں لاکھڑا کیا ہے۔ آہستہ آہستہ لیکن یقینی طور پر ہائی کورٹ کے جج یکے بعد دیگرے ایگزیکٹو سے علیحدگی کا تائث دینے پر مائل ہیں۔ ججوں نے بالآخر تمام صوبوں میں جماعتی بنیادوں پر بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دے دیا ہے۔ تحریک انصاف اس کی مخالفت کرتی ہے کیونکہ جانتی ہے کہ وہ ہار جائے گی۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کے اجلاس کے ذریعے حال ہی میں نافذ کیے گئے قوانین کو بھی آئینی طور پر چیلنج کیے جانے کا امکان ہے اور ہو سکتا ہے کہ اپوزیشن اپنا ہدف حاصل کر لے۔ بقول سیٹھی، عمران خان کسی وجہ سے ہی اگلے تین ماہ کے لیے بے چین ہیں۔ لندن میں گورنر پنجاب چودہری سرور اپنی حکمران جماعت کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اُنھوں نے راز کھولا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ نے عمران خان کے خلاف عدم اعتماد کے ووٹ کی حمایت کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ظاہر ہے جب کشتی ڈوبنے لگتی ہے تو ایسے ہی مناظر دیکھنے میں آتے ہیں۔
