کیا عمران کو آؤٹ کرنے کے لیے مائنس ون فارمولا چل پائے گا؟


سابق وزیراعظم عمران خان نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کی وجہ سے سیاسی اورغیرسیاسی کردار نااہلی کے ذریعے انہیں سیاسی منظر نامے سے ’’مائنس‘‘ کرنا چاہتے ہیں۔ تاہم پاکستانی سیاسی تاریخ پر نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ مائنس ون فارمولے سے کبھی مطلوبہ نتائج حاصل نہیں ہوئے اور ایسے تمام فارمولے ناکامی سے دوچار ہوئے ہیں۔

اپنے تازہ سیاسی تجزیے میں ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے سینئر صحافی اورتجزیہ کار مظہر عباس کہتے ہیں کہ اپنے خلاف عدالتی مقدمات میں اضافے کے بعد عمران خان نے اپنی احتجاجی کال ایک بار پھر موخر کر دی ہے حالانکہ انہوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ گوجرانوالہ جلسے میں اپنا اگلا لائحہ عمل دینے جا رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ ہے کہ اگر انہیں عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دے دیا جائے تو حتمی سیاسی منظر نامہ کیا ہوگا کیونکہ ماضی میں تاریخی طور پر اس طرح کی کوششیں ناکام ہو گئی تھیں۔ عمران خان اس وقت ایک خاتون جج کے خلاف تضحیک آمیز ریمارکس پر اسلام آباد ہائی کورٹ میں توہین عدالت کیس سمیت کئی مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ انہوں نے غیر مشروط معافی نامہ جمع نہ کروا کر خود کو مشکل صورتحال میں ڈال دیا ہے اور اب 22 ستمبر کو باقاعدہ فرد جرم کا سامنا کریں گے جس کے بعد ان کے خلاف مقدمے کا آغاز ہو جائے گا۔ ماضی میں توہین عدالت کے کیسز میں سیاستدانوں کو دی جانے والی سخت سزاؤں کے پیش نظر کہا جاسکتا ہے کہ عمران کو اس کیس میں معمولی سی سزا بھی نااہلی سے دوچار کر سکتی ہے۔ خان صاحب کی قانونی ٹیم نے انہیں تحریری طور پر غیرمشروط معافی مانگنے کا مشورہ دیا ہے لیکن انہوں نے ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ دوسرا کیس جس میں عمران خان اب بھی اصرار کرتے ہیں کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا، وہ توشہ خانہ سے تحائف کی خریدوفروخت کا ہے۔ اس کیس میں انہیں توشہ خانہ سے خریدے گئے تحفوں کی فروخت کے بعد ان سے حاصل ہونے والی آمدن کو ٹیکس گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے کے الزام کا سامنا ہے، اگر یہ الزام ثابت ہو گیا تو عمران عوامی عہدہ رکھنے کے لیے نااہل قرار پائیں گے۔ عمران کو ممکنہ طور پر نااہل کر دینے والا تیسرا کیس فارن فنڈنگ کے الزامات کا ہے جس میں الیکشن کمیشن انہیں مجرم قرار دے چکا ہے لیکن قانونی ماہرین اس بات پر منقسم ہیں کہ آیا یہ ان کی نااہلی کا باعث بن سکتا ہے یا نہیں۔ تحریک انصاف کے ذرائع کا دعویٰ ہے کہ حکومت کے لیے یہ ثابت کرنا آسان نہیں ہو گا کہ یہ کیس ’’فارن ایڈڈ پارٹی‘‘ کا ہے یا "فارن فنڈنگ” کا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ وفاقی حکومت نے ابھی تک تحریک انصاف پر پابندی لگوانے کے لیے سپریم کورٹ میں کوئی ریفرنس دائر نہیں کیا۔

مظہر عباس یاد دلاتے ہیں کہ عمران اور تحریک انصاف کی قیادت مسلسل چیف الیکشن کمشنر کو متنازع بنانے اور ان پر الزامات لگانے میں مصروف ہے۔ عمران کو الیکشن کمیشن کی جانب سے بھی توہین کا نوٹس موصول ہو چکا ہے۔ماضی میں سپریم کورٹ کی جانب سے صادق اور امین قرار پانے والے عمران نے اس سال 10 اپریل کو عدم اعتماد کے ووٹ کے ذریعے بے دخل کیے جانے کے بعد سے عملی طور پر تمام محاذ کھول دیے ہیں۔ ان کا پہلا حملہ اعلیٰ عدلیہ پر تھا جب آدھی رات کو سپریم کورٹ کھلی اور تحریک عدم اعتماد کیخلاف ڈپٹی سپیکر کی رولنگ کو غیر قانونی اور غیرآئینی قرار دیاگیا۔ بعد ازاں لاہور میں سپریم کورٹ کا ایک اور بنچ بھی نصف شب کے قریب کھل گیا اور پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ق) کو ریلیف فراہم کیا۔ لیکن صورتحال تب عمران کے حق میں چلی گئی جب وفاداریاں تبدیل کر کے وزیراعلیٰ کے انتخاب میں حمزہ شہباز کو ووٹ دینے والے پی ٹی آئی کے 20 ارکان اسمبلی کو نااہل قرار دے دیا گیا تھا۔

مظہر عباس کہتے ہیں کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے اتحاد نے پنجاب کے ضمنی الیکشن میں 20 میں سے 15 نشستیں جیت کر سپریم کورٹ کے طفیل پنجاب حکومت دوبارہ حاصل کر لی اور چودھری پرویز الٰہی وزیراعلیٰ بن گئے۔ اس کے باوجود عمران کو خدشہ ہے کہ کچھ قوتیں جو مبینہ طور پر تحریک عدم اعتماد کے پیچھے بھی تھیں اب انہیں مائنس ون فارمولا ذریعے سیاسی منظر نامے سے بھی ہٹانا چاہتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انکی پنجاب حکومت کو بھی ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ مظہر عباس کہتے ہیں کہ ماضی میں ’’مائنس ون‘‘ فارمولہ کبھی کامیاب نہیں ہوا لیکن اسے بار بار آزمایا گیا اور اس نے نظام پر دور رس سیاسی اثرات چھوڑے، جیسا کہ سابق منتخب وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے عدالتی قتل کے معاملے میں بھی ہوا تھا۔ بھٹو کو تب پھانسی دی گئی جب انکی مقبولیت بہت زیادہ تھی اور جنرل ضیاء نے اکتوبر 1977میں انتخابات ملتوی کر دیئے تھے۔ مائنس ون کا اطلاق سب سے پہلے تب ہوا جب جنرل ضیا نے غیر جماعتی بنیادوں پر انتخابات کا اعلان کیا، پہلی باضابطہ مائنس پولیٹیکل پارٹیز پارلیمنٹ 1985میں قائم کی گئی لیکن اس کا مقصد صرف پیپلزپارٹی کو باہر رکھنا تھا۔

چنانچہ ضیا نے اپنی پارٹی مسلم لیگ بنائی اور محمد خان جونیجو کو وزیراعظم منتخب کیا، لیکن جونیجو نے سیاسی اور شہری آزادیوں پر پابندیاں ہٹادیں جس کی وجہ سے بینظیر واپس آئیں اور لاہور میں تقریباً لاکھ لوگوں نے انکا استقبال کیا، اس طرح مائنس پی پی پی فارمولا ناکام ہوگیا۔ بینظیر کی پہلی دو حکومتوں کو کبھی اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی اور انہیں غیر مقبول بنانے کے لیے آئی جے آئی اور مہران بینک جیسی کوششیں کی گئیں۔ اس میں انکی خراب حکمرانی نے بھی حصہ ڈالا لیکن حقیقت یہ ہے کہ تحریک عدم اعتماد کو شکست دینے کے بعد انہیں حکومت جاری رکھنے کی اجازت نہیں دی گئی، نواز شریف کے معاملے میں بھی ایسا ہی ہوا جب مائنس جونیجو فارمولے کے بعد وہ مسلم لیگ کے سربراہ بنے۔

1997 میں ان کی جماعت کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی لیکن آخر کار12 اکتوبر 1999 کو ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا اور ایک غیر مارشل لاء کے ذریعے فوج نے اقتدار سنبھالا اور جنرل (ر) پرویز مشرف آرمی چیف ہوتے ہوئے پہلے چیف ایگزیکٹو اور پھر صدر پاکستان بنے۔مظہر عباس اس کہتے ہیں کہ چونکہ مشرف 2002 کے عام انتخابات سے پہلے مائنس بے نظیر اور مائنس شریف دونوں چاہتے تھے اس نے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں میں پھوٹ ڈال دی۔یہ فارمولہ بھی قائم نہ رہ سکا کیونکہ بینظیر اور نوازشریف دونوں نے متحد ہوکر میثاق جمہوریت پر دستخط کردیئے تھے۔ دونوں رہنمائوں نے وکلا تحریک کیساتھ ملکر ایسی صورت حال کو جنم دیا کہ پرویز مشرف پہلے آرمی چیف اور بعد میں 2008 کو صدر کے عہدے سے بھی دستبردار ہوئے لیکن یہ 27 دسمبر 2007 میں بینظیر بھٹو کی شہادت کے سانحہ سے پہلے نہیں ہوا، اور پھر یہ دونوں پارٹیاں 2008 اور 2013 میں اقتدار میں لوٹ آئیں۔

2016 میں مسلم لیگ (ن)اور نواز شریف کو پاناما کیس میں نااہلی کا سامنا کرنا پڑا اور ایک سال بعد انہیں سزا سنائی گئی اور وہ عملی طور پر مائنس ہوگئے لیکن ان کی مقبولیت برقرار رہی اور 2018 کے الیکشن میں انکی پارٹی دوسری بڑی جماعت بن کر ابھری، جب 2018 میں عمران پہلی بار وزیراعظم بنے تو ان کی حکومت کے اکتوبر 2021 تک اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ نسبتاً بہتر تعلقات تھے اور اپنے پہلے تین سالوں میں انہوں نے اپوزیشن کی تمام کوششوں کو ناکام بنا دیا۔

Back to top button