جنرل امجد شعیب کا شہباز شریف پر کونسا الزام جھوٹا نکلا؟

عمرانڈو سکول آف تھاٹ سے تعلق رکھنے والے سابق جرنیل امجد شعیب کو وزیراعظم شہباز شریف پر اسرائیلی وفد سے ملاقات کا جھوٹا الزام لگانا مہنگا پڑ گیا ہے اور ایف آئی اے میں پیشی کے دوران انہوں نے اپنے اس دعوے کو غلط قرار دے دیا ہے۔ ریٹائرڈ فوجیوں کے پرو عمران خان دھڑے سے تعلق رکھنے والے لیفٹیننٹ جنرل (ر) امجد شعیب نے کچھ روز قبل اپنے ایک ’وی لاگ‘ میں دعویٰ کیا تھا کہ قطر میں وزیراعظم شہباز شریف اور اسرائیلی وفد کی ایک جہاز میں خفیہ ملاقات ہوئی تھی اور فوج کو اس کی تحقیقات کرنی چاہئیں۔ تاہم جب اس معاملے کی تحقیق ہوئی تو پتہ چلا کہ امجد شعیب نے سراسر جھوٹ بولا ہے۔ اب ایف آئی اے نے ان کے خلاف سائبر کرائمز ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کرلیا ہے اور قانونی کارروائی کا آغاز ہو چکا ہے۔ اسی دوران لاہور ہائی کورٹ کے راولپنڈی بینچ نے بھی جنرل امجد شعیب کو شہباز شریف پر اسرائیلی وفد سے ملاقات کا الزام لگانے پر نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کر لیا ہے۔ عدالتی بینچ نے امجد شعیب سے تحریری جواب طلب کر رکھا ہے۔

یاد رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ایجنسی نے 9 ستمبر کو لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ امجد شعیب سے ان کے جھوٹے وی لاگ پر 5 گھنٹے تک تفتیش کی، اور ان کا فون ڈیٹا بھی حاصل کیا تاکہ معلوم کیا جا سکے کہ ان کو جھوٹی خبریں فیڈ کرنے والے عناصر کون ہیں۔ ذرائع کے مطابق امجد شعیب کو ایف آئی اے ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد طلب کیا گیا اور ان سے ڈپٹی ڈائریکٹر ایازخان کی سربراہی میں 5 رکنی ٹیم نے پوچھ گچھ کی۔ امجد شعیب نے جیو نیوز سے گفتگو میں بتایا کہ ایف آئی اے نے دراصل مجھے 14 ستمبر کیلئے طلبی کا نوٹس بھیجا تھا لیکن میں نوٹس ملنے پر رضاکارانہ طور پر 9 ستمبر کو ہی ایف آئی اے آفس چلا گیا۔ ان کا کہنا تھاکہ ایف آئی اے ٹیم نے پروفیشنل انداز میں سوال جواب کیے، اس کے علاوہ قطر میں پاکستانی اور اسرائیلی وفد کی ملاقات بارے میرے بیان اور ویڈیو پر سوالات کیے گئے۔ امجد نے بتایا کہ میں نے اپنی ویڈیو میں مطالبہ کیا تھا کہ دفتر خارجہ اس پر وضاحتی بیان جاری کرے۔

عمران نے جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کی تجویز دیدی

امجد شعیب نے وزیراعظم شہباز شریف کی اسرائیلی وفد سے قطر میں ملاقات کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا تھا کہ اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کا ایک خصوصی مشن جیٹ این467 اے ایم اسرائیل سے دوحہ پہنچا۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ موساد نام کی خفیہ ایجنسی کئی برس پہلے ختم کردی گئی تھی اور اس کی جگہ ایک اور خفیہ ایجنسی لے چکی ہے۔ امجد شعیب نے اپنے وی لاگ میں دعویٰ کیا تھا کہ قطر پہنچنے کے بعد اسرائیلی طیارہ تقریباً 9 گھنٹے تک وہاں کھڑا رہا اور پاکستانی طیارے کے ساتھ کھڑا رہا، انکا کہنا تھا کہ یہ تمام معلومات ہوائی جہازوں کے ٹریکر سے حاصل ہوئیں۔ انکا کہنا تھا کہ وزیر اعظم شہباز شریف اور اسرائیلی حکام کی ملاقات طیارے کےاندر ہوئی تھی تاکہ باہر کی دنیا کو پتہ نہ چل سکے؟ لیکن اب امجد شعیب اپنا یہ دعویٰ ثابت کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

Back to top button