جنرل قمر باجوہ کو توسیع ملی تو اصل فائدہ کسے ہو گا؟

باخبر ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے اپنے قریبی ساتھیوں کی جانب سے عہدے میں چھ مہینے کی مزید توسیع لینے کی تجویز کو رد کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں تعینات جنرل باجوہ کے ایک انتہائی قریبی ساتھی جرنیل کا مسلسل اصرار تھا کہ آرمی چیف کو مئی 2023 تک اپنے عہدے پر برقرار رہنا چاہیئے کیونکہ تکنیکی طور پر ان کی ریٹائرمنٹ نومبر 2022 میں نہیں بلکہ مئی 2023 میں ہو گی۔ اس حوالے سے جنرل باجوہ کو یہ توجیہہ پیش کی گئی کہ نومبر 2019 میں چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے عمران خان کی جانب سے انہیں توسیع دینے والا سرکاری نوٹیفکیشن مسترد کر دیا تھا اور 28 نومبر 2019 کو انہیں 6 ماہ کی عبوری توسیع دینے کا حکم دیتے ہوئے حکومت سے قانون سازی کاکہا تھا۔ یہ قانون سازی پارلیمنٹ کے ذریعے جنوری 2020 میں کی گئی تھی جس کے بعد وزیر اعظم کے مشورہ پر صدر نے جنرل باجوہ کو مزید تین سال کے لئے آرمی چیف مقرر کیا تھا۔ لہٰذا جنرل باجوہ کو بتایا گیا کہ تکنیکی لحاظ سے انہیں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق پہلے ہی 6 ماہ کی توسیع مل چکی تھی، اس لئے نئی قانون سازی کے بعد دی جانے والی تین سال کی توسیع کا اطلاق 29 نومبر 2019 کی بجائے 29 مئی 2020 سے ہوا تھا۔ جنرل باجوہ کو بتایا گیا کہ اس حساب سے ان کے عہدے کی مدت 29 نومبر 2022 کی بجائے 29 مئی 2023 کو ختم ہوگی۔ لہذا انہیں تجویز دی گئی تھی کہ وزیر اعظم شہباز شریف کو نئے آرمی چیف کا فیصلہ بھی نومبر 2023 کی بجائے مئی 2023 میں کرنے کے لیے کہا جائے۔
لیکن جنرل باجوہ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے عہدے میں تکنیکی بنیاد پر چھ مہینے کی توسیع لینے کی تجویز سختی سے رد کر دی ہے۔ ان کا موقف ہے کہ ان کے عہدے میں تین سالہ توسیع کے نوٹیفکیشن میں ریٹائرمنٹ کی جو تاریخ لکھی گئی ہے وہ اس سے زیادہ ایک دن بھی آرمی چیف کے عہدے پر برقرار نہیں رہنا چاہتے ہیں۔ جنرل باجوہ کے قریبی ساتھیوں کا موقف ہے کہ یہ تجویز دینے والے عناصر دراصل اپنا ذاتی مفاد دیکھ رہے ہیں کیونکہ اس سے ادارے کی بجائے ان کی ذات کو فائدہ ہو گا۔ انکے مطابق آرمی چیف کا موقف ہے کہ وہ کسی ایک جرنیل کو فائدہ پہنچانے کے لئے دیگر ساتھی جرنیلوں کا حق نہیں ماریں گے اور عزت سے گھر جانا چاہتے ہیں۔
یاد رہے کہ اگرجنرل باجوہ مئی 2023 تک اپنے عہدے پر برقرار رہتے ہیں تو آرمی چیف کی دوڑ میں شامل 6 سینئر ترین جرنیل تب تک ریٹائر ہو جائیں گے۔ یعنی سنیارٹی لسٹ میں موجود لیفٹیننٹ جنرل عاصم منیر، لیفٹیننٹ جنرل ساحر شمشاد، لیفٹیننٹ جنرل اظہر عباس، لیفٹیننٹ جنرل نعمان محمود، لیفٹیننٹ جنرل محمد عامر اور لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید نومبر 2022 سے اپریل 2023 کے دوران ریٹائر ہو جائیں گے۔ ایسے میں مئی 2023 میں سنیارٹی لسٹ تبدیل ہو جائے گی اور نئے آرمی چیف کی دوڑ میں موجودہ آئی ایس آئی چیف لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم اور کور کمانڈر ملتان لیفٹیننٹ جنرل چراغ حیدر پہلے اور دوسرے نمبر پر آ جائیں گے۔ ان دونوں جرنیلوں کی ریٹائرمنٹ 12 ستمبر 2023 کو ہونی ہے۔
یاد رہے کہ جنرل باجوہ کے عہدے کی مدت میں توسیع اس سال 29 نومبر کو ختم ہو رہی ہے۔ آئی ایس پی آر ترجمان کے ذریعے آرمی چیف یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ مزید توسیع نہیں چاہتے اور اپنی مدت ختم ہونے پر ریٹائر ہونے کا پکا ارادہ رکھتے ہیں۔ ملکی سیاست پر اسی تقرری کے اثرات کے خوف میں ہی متحدہ اپوزیشن نے عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لانے میں سرعت کا مظاہرہ کیا تھا کیوں کہ قیاس کیا جا رہا تھا کہ عمران خان اپنے دوست فیض حمید کو نیا چیف لگا کر اپوزیشن کے لئے عرصہ حیات تنگ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ اگرچہ فوج کی طرف سے تواتر سے اعلان کیا جاتا رہا ہے کہ وہ سیاست میں ملوث ہونے کے لئے تیار نہیں ہے لیکن اس کے باوجود جنرل قمر باجوہ کی ریٹائرمنٹ اور ان کے جانشین کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت آرمی چیف کے امیدواروں میں ایک اور جرنیل کا اضافہ ہو چکا ہے جو کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ندیم احمد انجم ہیں، حالانکہ وہ چھ سینئر ترین جرنیلوں میں نہیں آتے۔ یہ وہی ندیم انجم ہیں جن کو فیض حمید کی جگہ نیا آئی ایس آئی چیف لگانے کیلئے جنرل باجوہ نے عمران خان کی ناراضی مول لے لی تھی۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ندیم احمد انجم کو ڈارک ہارس قرار دیا جا رہا ہے اور بتایا جا رہا ہے کہ وہ اس وقت وزیر اعظم شہباز شریف کے قابل اعتماد ترین ساتھیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ اس وقت جرنیلوں کی سنیارٹی لسٹ میں وہ ساتویں نمبر پر آتے ہیں۔ لیکن اگر جنرل قمر باجوہ چھ مہینے کی توسیع لے لیں تو ندیم انجم آرمی چیف کے لیے فیورٹ امیدوار بن جائیں گے۔ شاید اسی لیے اسلام آباد کے سیاسی حلقوں میں یہ خبر عام ہے کہ جنرل قمر باجوہ تو مزید توسیع نہیں لینا چاہتے لیکن شہباز شریف انہیں چھ مہینے کی توسیع لینے پر آمادہ کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔
