شاہ چارلس 100 سالہ تاریخ کے عمر رسیدہ ترین بادشاہ

ملکہ الزبتھ دوئم کی وفات کے بعد شاہ چارلس73 برس کی عمرمیں برطانیہ کے عمر رسیدہ ترین بادشاہ بن گئے ہیں، تاہم ان کی تاج پوشی میں ایک سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔ ملکہ الزبتھ دوئم کی 8 ستمبر کو وفات کے بعد ان کے بڑے بیٹے 73 سالہ شہزادہ چارلس ازخود برطانیہ کے نئے بادشاہ بن گئے، برطانوی شاہی قوانین کے تحت چارلس خود بخود بادشاہ بن گئے ہیں لیکن ان کی تاج پوشی میں ایک سال یا اس سے زائد کا عرصہ بھی لگ سکتا ہے۔
شہزادہ چارلس بادشاہ بننے کے بعد اب ’شاہ چارلس سوم‘ کہلائیں گے اور ان کی اہلیہ کمیلا پارکر کا شاہی نام ’’کوئین آف کنسورٹ‘‘ ہوگا، یعنی وہ بادشاہ کی جانشین اور وفادار کہلائیں گی۔ اپنی والدہ کی 96 برس کی عمر میں وفات کے بعد چارلس 73 سال میں بادشاہ بننے والے پہلے عمر رسیدہ ترین برطانوی کنگ بن گئے جوکہ ایک ہزار سالہ شاہی تاریخ کے ایسے بادشاہ بھی ہیں جو نصف صدی سے زائد سے عرصے تک اپنے بادشاہ بننے کی تیاریاں کرتے رہے۔
اگرچہ والدہ کی وفات کے بعد چارلس ازخود بادشاہ بن گئے مگر ان کے بڑے صاحبزادے شہزادہ ولیم ازخود ولی عہد نہیں بنے بلکہ ان کے ولی عہد بننے کے اعلانات کچھ رسومات کے بعد کیے جائیں گے، تاہم انہیں والد کے دیگر شاہی اعزازات از خود منتقل ہوگئے۔ شہزادہ چارلس کے بعد اب تخت پر بیٹھنے کا اگلا نمبر شہزادہ ولیم کا ہے، جن کی عمر 40 برس ہے، بادشاہ بننے کے بعد چارلس سوئم نے اپنے پہلے روایتی خطاب میں ممکنہ طور پر والدہ کی وفات پر دُکھ کا اظہار کیا، جس کے بعد وہ سکاٹ لینڈ چرچ اور ریاست برطانیہ کی سلامتی کا عہد اٹھائیں گے۔ چارلس کے بادشاہ بننے کے بعد برطانیہ کا قومی ترانہ بھی نشر کیا جائے گا، جس میں 1952 کے بعد پہلی بار ’ملکہ کو خدا سلامت رکھے‘ کے الفاظ کے بجائے ’بادشاہ کو خدا سلامت رکھے‘ کے الفاظ شامل کیے جائیں گے۔
عمران نے جنرل باجوہ کے عہدے میں توسیع کی تجویز دیدی
شاہ چارلس سوئم بادشاہ بننے کے بعد درجنوں اداروں کے سربراہ بننے سمیت دولت مشترکہ تنظیم کے سربراہ بھی بن گئے جوکہ پاکستان اور ہندوستان سمیت 56 خود مختار ممالک کی تنطیم ہے۔ علاوہ ازیں بادشاہ بننے کے بعد شاہ چارلس سوم برطانیہ سمیت آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور کینیڈا کے علاوہ مجموعی طور پر 14 ممالک کے علامتی سربراہ بھی بن گئے۔ شاہ چارلس سوئم برطانیہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ، آسٹریلیا، اینٹیکا اور باربوڈا، بہاماس، بلیز، گرینیڈا، جمیکا، پاپوا نیو گنی، سینٹ کرسٹوفر اور نیوس، سینٹ لوشیا، سینٹ ونسنٹ اور گرینیڈئنز، جزائر سولومن اور ٹوالو کے سربراہ بن گئے۔
