کیا نون لیگ اور پیپلزپارٹی دوبارہ ایک ہونے والی ہیں؟

مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کے مابین بیان بازی اور الزام تراشیوں کا سلسلہ شروع ہونے کے بعد مسلم لیگ (ق) کے سربراہ چوہدری شجاعت حسین اور جے یو آئی کے سربراہ مولانافضل الرحمٰن دونوں جماعتوں کے درمیان ’سیزفائر‘ کروانے کیلئے متحرک ہو گئے۔کہا جارہا ہے کہ ن لیگ اور پی پی کی محاذ آرائی سے شہباز شریف بھی خوش نہیں ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ اتحاد یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو تاہم نواز شریف گروپ اس بات سے انکاری ہے۔

دوسری طرف معاملات کو سدھارنے کیلئے چوہدری شجاعت حسین اور سابق صدر آصف علی زرداری کے درمیان حالیہ ملاقات کے بعد مولانا فضل الرحمٰن کے بھی میاں نواز شریف اور آصف علی زرداری سے رابطے کی اطلاعات ہیں۔انہوں نے دونوں شخصیات کو گلگت بلتستان کے الیکشن کا حوالہ دیا جہاں مدِ مقابل ہونے کی صورت میں پی ٹی آئی کامیاب ہو گئی تھی حالانکہ زیادہ ووٹ پی پی اور ن لیگ کے تھے۔ مولانا اور چودھری شجاعت کی مصالحانہ کوششوں کے بعد مستقبل قریب میں پیپلزپارٹی اور نون لیگ کے دوبارہ ایک ایجنڈے پر اتفاق کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔

واضح رہے کہ پاکستان میں الیکشن کمیشن کی جانب سے جنوری کے آخری ہفتے میں عام انتخابات کے انعقاد کے اعلان  کے بعد سے سیاسی جماعتیں صف بندیوں اور جوڑ توڑ کے عمل کے لیے کوشاں دکھائی دیتی ہیں۔

ایک طرف مسلم لیگ ن کھل کر عام انتخابات کے ساتھ ساتھ پارٹی قائد اور سابق وزیراعظم نواز شریف کی واپسی پر استقبال کی تیاریوں میں مصروف نظر آتی ہے دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف ’لیول پلیئنگ فیلڈ‘  نہ ملنے کا شکوہ کرتی دکھائی دیتی ہیں۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق الیکشن کمیشن کی جانب سے انتخابات کا اعلان وقت کی ضرورت تھا لیکن اب دیکھنا یہ ہے کہ کس طرح سیاسی جماعتیں لیول پلیئنگ فیلڈ حاصل کر کے ’سیاسی انجینیئرنگ‘ کو روکتی ہیں کیونکہ گذشتہ پانچ سالوں میں سب جماعتیں اقتدار میں رہیں اور کارکردگی کسی کی بھی بہترین نہیں تھی۔

اس وقت ملک کی بڑی سیاسی جماعتوں نے پنجاب پر نظریں جما رکھی ہیں اور سب سے زیادہ فوکس ’پنجاب فتح کرنے پر‘ کیا جارہا ہے۔مسلم لیگ ن پنجاب کی ترجمان عظمیٰ بخاری کے مطابق ’مسلم لیگ ن کافی عرصے سے الیکشن کے لیے تیار ہے اور مریم نواز نے پارٹی کو مکمل طور پر دوبارہ سے منظم بھی کر لیا ہے۔‘بقول عظمیٰ بخاری: ’جس طرح تمام سیاسی جماعتیں یکسوئی کے ساتھ الیکشن میں جائیں گی ہم بھی نواز شریف کی وطن واپسی کے منتظر ہیں۔ میاں صاحب کی واپسی کی تیاریاں جاری ہیں اور اس کے ساتھ ہی ہم بھی انتخابی مہم کا باقاعدہ آغاز کریں گے۔ ابھی ہم ان کی واپسی کے لیے استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ 21 اکتوبر کو نواز شریف کی واپسی کی تاریخ کا اعلان کردیا ہے۔ جلسے اور استقبال سے متعلق بھی شیڈول جلد جاری کر دیا جائے گا۔‘

دوسری جانب پیپلز پارٹی کے رہنما چوہدری منظور نے بھی بتایا کہ ’پیپلزپارٹی نے بھی الیکشن کی تیاری شروع کر دی ہے۔‘’تمام حلقوں سے مضبوط امیدواروں کا انتخاب بھی جلد مکمل ہوجائے گا۔ ہم سب کے ساتھ مل کر افہام وتفہیم سے سیاست کے قائل ہیں۔ کسی سے کوئی خطرہ نہیں، ہمارا اپنا ووٹ بینک ہے، جس پر انحصار کریں گے۔‘

اسی طرح پاکستان تحریک انصاف بھی ’انتخابات کے لیے تیار‘ دکھائی دیتی ہے۔ پی ٹی آئی کے ترجمان رؤف حسن نے کہا: ’قیادت کی رہنمائی میں ہم انتخابات کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے تو شروع سے ہی الیکشن کا مطالبہ کر رکھا ہے۔ اب الیکشن کمیشن نے جنوری میں الیکشن کروانے کا اعلان تو کر دیا مگر تاریخ نہیں دی گئی جس سے شبہات ابھی بھی موجود ہیں۔ البتہ ہمارے امیدوار بھی فائنل ہیں اور انتخابات کے لیے کارکن بھی تیاری کر رہے ہیں۔‘

دوسری جانب مسلم لیگ ن کے علاوہ دو بڑی جماعتیں پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف یکساں سیاسی آزادی کے ساتھ انتخابات کا مطالبہ اورلیول پلیئنگ فیلڈ نہ ملنے کا شکوہ کرتی نظر آتی ہیں لیکن نیب ترامیم کے خلاف سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے سے مسلم لیگ ن کی قیادت بھی محتاط دکھائی دیتی ہے۔

سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی سمجھتے ہیں کہ ’نواز شریف کی واپسی کے بغیر مسلم لیگ ن کے لیے الیکشن جیتنا ممکن نہیں۔‘ تاہم ان کا کہنا تھا کہ ’جب ان کی واپسی کا اعلان ہوگیا تو اس کے بعد نیب ترامیم بارے سپریم کورٹ کا فیصلہ ان کے لیے پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔‘انہوں نے کہا: ’انہیں قانونی ٹیم کی جانب سے یقین دہانی کروائی گئی تھی کہ واپسی کے لیے ان کا قانونی راستہ صاف ہے، لیکن اب انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔سلمان غنی کے مطابق: ’سپریم کورٹ کے فیصلے کی ٹائمنگ بہت اہم ہیں، اس سے یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ شاید کوئی طاقت نواز شریف کی واپسی روکنا چاہتی ہے۔ اس لیے ایسی صورت حال ن لیگ کے لیے اور آئندہ انتخابات کے انعقاد میں مشکل پیدا کر سکتی ہے۔‘

دوسری جانب تجزیہ کار وجاہت مسعود سمجھتے ہیں کہ اگرچہ عالمی مالیاتی ادارہ آئی ایم ایف کی قسط انتخابات کے انعقاد سے مشروط ہونے کے باعث انتخاب کا اعلان ہوچکا ہے، لیکن ’سیاسی منظر نامہ ابھی بالکل صاف نہیں ہے۔‘ ’ماضی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ کسی ایک جماعت کو اکثریت لینے سے روکنے کے لیے طاقتور حلقے روایت کے مطابق سیاسی انجینیئرنگ کر کے ہنگ یعنی معلق پارلیمنٹ چاہتے ہیں تاکہ نظام میں ان کا اثر برقرار رہے۔‘

وجاہت مسعود نے مزید کہا: ’دیکھنا یہ ہے کہ سیاسی جماعتیں کس طرح لیول پلیئنگ فیلڈ حاصل کر کے سیاسی انجینیئرنگ کو روکتی ہیں۔ اس وقت تمام سیاسی جماعتیں مسائل میں گھری نظر آتی ہیں۔ کسی کو عدالتی مقدمات کا سامنا ہے تو کسی کو واضح عوامی مقبولیت حاصل نہیں، اس لیے انتخابات کا انعقاد اپنی جگہ لیکن واضح کامیابی کے ساتھ کسی ایک جماعت کا اقتدار میں آنا بھی مشکل لگ رہا ہے۔ ان چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کی کوئی موثر حکمت عملی بھی دکھائی نہیں دے رہی۔‘تجزیہ کاروں کے مطابق گذشتہ حکومتوں کی کارکردگی ایسی نہیں رہی کہ عوام ان پر اعتماد کریں۔

سلمان غنی نے اس حوالے سے کہا: ’گذشتہ پانچ سالوں میں جس طرح سیاسی و آئینی بحران پیدا ہوئے اور عوام مہنگائی کے طوفانوں میں گھری رہی، اس سے عوام کا تمام سیاسی جماعتوں اور طاقتور حلقوں کی سیاسی انجینیئرنگ سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔‘ اس لیے آئندہ انتخابات میں سب برابر کھڑے ہیں، کسی کی کامیابی کا حتمی طور پر کچھ نہیں کہا جاسکتا۔‘

Back to top button