کیا پاکستان تیزی سے عالمی تنہائی کی جانب بڑھ رہا ہے؟


جہاں حکومتی حلقے امریکہ کی جانب سے منعقد کروائے جانے والے جمہوریت سمٹ میں شرکت سے پاکستانی انکار کو ایک دانشمندانہ اقدام قرار دے رہے ہیں وہیں سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اسلام اباد کی عالمی تنہائی میں مزید اضافے کا باعث بنے گا جس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑے گا۔ سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی ورچوئل سمٹ میں شرکت سے انکار کر کے پاکستان نے امریکہ سے تعلقات بہتر کرنے کا ایک اور موقع گنوا دیا۔ ویسے بھی سمٹ میں شرکت کا مطلب امریکہ حکومت کی جانب سے پاکستان کو ایک جمہوری حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہوتا۔ انکا کہنا یے کہ خطے کی بدلتی صورتحال اور خاص طور سے افغانستان میں طالبان کی حکومت آنے کے بعد پاکستان کو اپنی خارجی پالیسی وسیع کرنے کی ضرورت ہے نہ کہ اسے مذید سکیڑنے کی۔
یاد رہے کہ چند روز قبل امریکہ نے پاکستان کو جمہوریت پر ایک ورچوئل سمِٹ میں مدعو کیا تھا۔ یہ دو روزہ سمِٹ 9 دسمبر کو شروع ہوا اور 10 دسمبر کو ختم ہو گیا۔ پاکستان نے اس سمِٹ میں شرکت سے انکار کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ ‘مستقبل میں کسی اور موقع پر ساتھ بیٹھنے’ کی خواہش کا اظہار کیا۔ واضح رہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے 110 ممالک کو اس ورچوئل سمِٹ میں مدعو کیا گیا تھا جن میں کئی بڑے مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ انڈیا اور پاکستان بھی شامل تھے۔ چین، روس اور بنگلہ دیش سمیت چند دیگر ممالک کو اس سمِٹ میں نہیں بلایا گیا۔ چند ماہرین کے مطابق پاکستان نے چین کے دباؤ میں آ کر یہ فیصلہ لیا جو دانشمندانہ نہیں تھا۔
پاکستان کی جانب سے امریکی سمٹ میں شرکت سے انکار کے بعد چین کے دفترِ خارجہ کے ترجمان لیجیان ثاؤ نے ایک ٹوئیٹ میں خوشی کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کو امریکی دعوت رد کرنے پر ‘آئرن برادر’ کہا ہے۔ اس سمِٹ کے بارے میں ملنے والی اطلاعات کے مطابق امریکہ نے چین کی نمائندگی کے لیے بیجنگ کے بجائے تائیوان کو مدعو کیا جس پر چین نے اعتراض کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ جبکہ ماہرین کے مطابق، پاکستان کے لیے اس سمِٹ میں جانا چین سے تعلقات بگاڑنے کے مترادف ہوتا جو پاکستان نہیں چاہتا تھا۔
پاکستان کے سابق سیکریٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کہا کہ ‘پاکستان کا فیصلہ بالکل درست اور نیک نیتی پر مبنی ہے۔ پاکستان کے امریکہ سے تعلقات کو چین کے تناظر سے کیوں دیکھا جائے؟ ایک بات جس کا خدشہ پاکستان نے کیا ہے وہ یہ ہے کہ اس سمِٹ میں شامل ہونے والے ممالک کیا سچ مچ جمہوری اقدار کی پاسداری کرتے ہیں؟’
وزیرِ اعظم عمران خان نے حالیہ دنوں میں امریکہ اور چین کے درمیان بڑھتی ہوئی ‘سرد جنگ’ کے بارے میں مختلف فورمز پر کہا ہے کہ پاکستان کسی سرد جنگ کے تحت بننے والے بلاک کا حصہ نہیں بنے گا۔ عمران خان نے ایک روز پہلے اسلام آباد میں ہونے والے ایک کانکلیو میں کہا کہ ‘اس سے دنیا بھر میں مزید حلقہ بندیاں بنیں گی اور پاکستان کی کوشش یہی ہے کہ کسی حلقے کا حصہ نہ بنے۔’
قائد اعظم یونیورسٹی کے سکول آف پولیٹیکس اینڈ اینٹرنیشنل ریلیشنز کے ڈائریکٹر فرحان صدیقی کے مطابق ‘پاکستان نے امریکی سمٹ میں نہ جا کر غلطی کی ہے۔’ انھوں نے کہا کہ ‘پاکستان نے ایک بہت اچھا موقع گنوا دیا۔ امریکہ کی جانب سے اس دعوت کے بعد شرکت کا مطلب پاکستان کو ایک جمہوری حکومت کے طور پر تسلیم کرنے کے مترادف ہوتا۔’
فرحان صدیقی کی اس بات کا پسِ منظر یہ ہے کہ پاکستان کو بارہا عالمی سطح پر ایک ‘ہائبرِڈ ریجیم’ کے نام سے پکارا جاتا رہا ہے۔ جس کا سادہ الفاظ میں مطلب یہ ہے کہ پاکستان میں جمہوریت اور آمریت پر مبنی ایک ملی جُلی حکومت ہے۔ اور پھر ایسا موقع آنے پر جہاں اس حکومت کو ایک جمہوریت کے طور پر تسلیم کیا جاتا، اس کو ہاتھ سے جانے دیا گیا۔
فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ ‘چین کو امریکہ ایک آمریت سمجھتا ہے اور اسی لیے اسے مدعو نہیں کرنا چاہتا تھا جو کہ پاکستان کے لیے خارجی سطح پر مشکلات بڑھا سکتا ہے۔’
دوسری جانب ماہرین امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں سرد مہری کی وجہ رواں سال ہونے والے چند اہم واقعات کو بتاتے ہیں۔ ایک جانب امریکی صدر جوزف بائیڈن کا وزیرِ اعظم عمران خان کو خود فون نہ کرنا، امریکی سینیٹ میں پاکستان کے خلاف طالبان کی حمایت کرنے پر بِل پیش ہونا اور پھر افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد وہاں طالبان کی حکومت کا قیام اور خطے میں امریکہ کی موجودگی پر پاکستان کا یہ اصرار کرنا کہ ‘پاکستان کو خطے میں تنہا نہ چھوڑا جائے’ ان چند واقعات میں شامل ہے۔ اگر ماضی میں تھوڑا اور پیچھے جائیں تو رواں سال ستمبر میں پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے امریکی فورم کاؤنسل آن فارن ریلیشنز میں بات کرتے ہوئے کہا کہ ‘اب جبکہ افغانستان میں امریکی عسکری مِشن ختم ہوچکا ہے تو اب وقت ہے کہ دونوں ممالک اپنے تعلقات کو دہشت گردی کے خاتمے سے ہٹا کر وسیع تر مقاصد کی طرف لے جائیں۔’
یہ بھی پڑھیں: لیگی حلقوں کی جانب سے لندن پلان کی کامیابی کے دعوے
ایک ہی ماہ بعد امریکی سفارتکار اور ڈپٹی سیکریٹری خارجہ وینڈی شرمن نے پاکستان آنے سے قبل ممبئی میں ایک تقریب کے دوران بظاہر دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ‘امریکہ پاکستان کے ساتھ وسیع بنیاد پر تعلقات نہیں دیکھتا۔’ اس بیان سے دونوں ممالک کے درمیان عدم اعتماد کی فضا مزید کھل کر سامنے آگئی۔ فرحان صدیقی کہتے ہیں کہ ‘صدر بائیڈن کی طرف سے عمران خان کو فون کرنے سے یہ تاثر جاتا کہ پاکستان امریکہ کی نظر میں اب بھی اہم ہے اور دہشت گردی کے خاتمے کے علاوہ بھی پاکستان سے تعلقات استوار کیے جا سکتے ہیں۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اب جبکہ امریکہ ایک قدم بڑھا رہا تھا تو پاکستان کو بھی اسے خارجہ پالیسی میں ایک اہم قدم سمجھتے ہوئے قبول کرنا چاہیے تھا۔’
انھوں نے کہا کہ ایک طرف تو امریکی سمِٹ میں نہ جانے کا فیصلہ خود مختار فیصلہ سمجھا جارہا ہے، ‘لیکن چینی ترجمان کی خوشی سے یہ تاثر جاتا ہے کہ پاکستان نے یہ فیصلہ کسی دباؤ میں آ کر لیا ہے۔’ فرحان صدیقی کے مطابق ‘اگر آپ ایک جیو اکنامک ماڈل کی پیروی کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ پوری دنیا کے لیے کھلے ہیں۔ اگر پاکستان چاہتا ہے کہ امریکی ہمارے ملک اور خطے میں سرمایہ لگائیں تو اسے اپنے امریکہ سے خارجی تعلقات پر کام کرنے پڑے گا۔ اور سمِٹ میں جانے جیسے مواقع کو ہاتھ سے نہیں جانے دینے چاہیے۔’

Back to top button