کیا پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ بڑھتا جا رہا ہے؟

معاشی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بدترین معاشی صورت حال کے پیش نظر پاکستان کے دیوالیہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان میں روپے کی قدر میں لگاتار کمی ہو رہی ہے اور ڈالر پاکستانی روپے کے مقابلے میں پاکستانی تاریخ میں مہنگا ترین ہو کر 192 روپے سے بھی بڑھ گیا ہے۔ روپے پر دباؤ سے پاکستانی درآمدات پر بوجھ بڑھ رہا ہے اور درآمدی اشیا کی قیمتوں میں اضافہ ہورہا ہے۔
یہ خدشہ بھی ظاہر کیا جارہا ہے کہ اگر پاکستان نے فوری طور پر بڑے معاشی فیصلے نہ کیے گئے تو اسے مشکل تر صورت حال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور اگر یہ سلسلہ ڈیفالٹ تک چلا گیا تو ملک کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ ڈیفالٹ یا دیوالیہ پن ہوتا کیا ہے؟ کس مرحلہ پر جا کر اس کا آغاز ہوتا ہے اور دیوالیہ ہونے کے بعد اس کے نتائج کیا نکلتے ہیں؟ اس بارے میں معاشی تجزیہ کار ڈاکٹرحفیظ پاشا نے کہا کہ میری سب سے پہلے تو دعا ہے کہ ایسا نہ ہو۔
انہوں نے کہا کہ ڈیفالٹ اس وقت ہوتا ہے جب اسٹیٹ بینک کے پاس ڈالرز ختم ہو جائیں۔ قرضوں یا دیگر ادائیگیوں کے لیے آپ کے پاس رقم موجود نہ ہو، سینٹرل بینک میں ریزرو نہ ہوں ،فارن انوسٹرز کو رقوم بھجوانے کے لیے ڈالر دستیاب نہ ہوں اور درآمدی اشیا کی ادائیگیوں کے لیے رقم نہ ہو تو ایسی صورت حال کو ڈیفالٹ کہا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سری لنکا میں ڈیفالٹ کے بعد ان کی کرنسی کی قدر 50 فیصد سے زائد گر چکی ہے۔ اس وقت ہمارا روپیہ ڈالر کے مقابلہ میں 190 روپے کا ہوگیا ہے۔خدانخواستہ اگر دیوالیہ ہوا تو یہ سطح 300 تک پہنچ جائے گی جو ملک کے لیے تباہ کن ہوگا۔
ڈاکٹر حفیظ پاشا نے کہا کہ اس وقت صرف آئی ایم ایف کی طرف جانا ہی واحد آپشن ہے، اس وقت صورت حال ایسی ہی ہے کہ عام کاروباری شحص کسی سے ادھار مانگنے جائے تو لوگ کہتے ہیں کہ آپ پہلے کسی بینک سے گارنٹی لائیں۔ اسی طرح اس وقت آئی ایم ایف کی گارنٹی ہی پاکستان کو اس صورت حال سے نکال سکتی ہے۔حفیظ پاشا نے موجودہ حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ دو ہیڈکوارٹر زاس وقت کام کررہے ہیں، ایک لندن میں اور ایک پاکستان میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت سیاست دان سیاسی نکتہ نظر سے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن اگر آئی ایم ایف کے پاس نہیں جاتے تو اس سے زیادہ برا حال ہوگا جو ان کے پاس جانے کی صورت میں ہونا ہے۔اب بڑا سوال یہ ہے کہ اگر ایک ڈالر تین سو روپے کا ہو گیا تو کیا کیا جائے گا؟
حفیظ پاشا نے سری لنکا کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ سری لنکا بھی کافی دیر سے کہہ رہا تھا کہ وہ آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائے گا، بھارت یا چین سے فنڈز لے لےگا۔ لیکن اب تین ہفتوں سے ان کا وزیر خزانہ امریکہ میں بیٹھا ہوا ہے اور بات چیت چل رہی ہے۔
اس بارے میں تجزیہ کار فرخ سلیم کا کہنا تھا کہ معیشت میں دو اصطلاحات استعمال کی جاتی ہیں۔ ایک بینک رپسی کہلاتی ہے جس میں کوئی کارپوریٹ ادارہ ادائیگیاں نہیں کرپاتا تو دوسری کمپنی عدالت میں چلی جاتی ہے اور عدالت اسے دیوالیہ قرار دے دیتی ہے۔ لیکن خود مختار ممالک کو بینکرپٹ نہیں کیا جاتا۔ لہٰذا جن ممالک نے مالیاتی اداروں کو ادائیگیاں کرنی ہوں اور وہ اس میں ناکام رہیں تو ان کی ادائیگیوں کو ری شیڈول کر دیا جاتا ہے۔ تکنیکی طور پر تو یہ ڈیفالٹ ہے لیکن لینے اور دینے والے عام طور پر رضامند ہوجاتے ہیں اور اسے ری شیڈولنگ کہتے ہیں۔ جب آپ ادھار دینے والے کو ادائیگی کرنے میں ناکام ہوجائیں تو یہ صورت حال ڈیفالٹ یا دیوالیہ پن کہلاتا ہے۔
اس بارے میں فرخ سلیم کہتے ہیں کہ اگر کوئی ملک دیوالیہ ہوجائے تو مالیاتی اشاریے طے کرنے والے ادارے جیسے موڈیز وغیرہ وہ فوراً اس ملک کی ریٹنگ گرا دیتے ہیں۔ریٹنگ گرنے کا نتیجےمیں یہ ہوتا ہے کہ مزید کوئی ادارہ آپ کو قرض دینے سے گریز کرتا ہے۔ سری لنکا میں ایسا ہی ہوا۔ جب ڈالر ختم ہوگئے تو ان کی پیٹرولیم کی ادائیگیاں اور فرنس آئل کی ادائیگیاں نہ ہوسکیں، اس کے باعث ان کے بجلی گھر بند ہوگئے۔ لوڈشیڈنگ شروع ہوگئی۔ لائف سیونگ ادویات آنا بند ہوگئیں۔ اس کا مطلب ہے کہ جو کچھ آپ درآمد کررہے ہوتے ہیں، زرمبادلہ نہ ہونے کے سبب آپ اسے منگوا نہیں سکتے۔ جس کے نتیجے میں خوراک کی قلت ہو جاتی ہے۔ اور اس کا نتیجہ معاشرتی بے چینی کی شکل میں نکلتا ہے جو بڑھتے بڑھتے تشدد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔
فرخ سلیم نے کہا کہ اس وقت اسٹیٹ بینک کے مطابق ان کے پاس 10 ارب ڈالر موجود ہیں اور ان ذخائر میں سے سونا نکال دیا جائے تو باقی کوئی 6 ارب ڈالر بچتے ہیں جو ہماری ایک ماہ کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔یہ کافی خطرناک معاملہ ہے۔ اگر اس وقت ہم آئی ایم ایف کی طرف نہیں جاتے تو مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔ فرخ سلیم نے کہا کہ میرا ذاتی خیال ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاملات طے پاجائیں گے، کیونکہ جو ممالک عام طور پر آئی ایم ایف کے ساتھ کام کرتے ہیں اگر وہ ڈیفالٹ کر جائیں تو اس ملک کے ساتھ ساتھ آئی ایم ایف کی بھی بدنامی ہوتی ہے۔میرا خیال ہے کہ حکومت سبسڈیز والے معاملے پر آئی ایم ایف سے کچھ طے کر لے گی اور دو تین قسطوں میں آئی ایم ایف کی شرائط کا اطلاق کر دیا جائے گا۔
مہنگائی کی صورت حال پر انہوں نے کہا کہ اس کی سیاسی قیمت کسی بھی جماعت کے لیے بہت زیادہ ہوگی، لیکن ڈیفالٹ کی صورت میں اس سے بھی کہیں زیادہ برا حال ہوسکتا ہے۔ فرخ سلیم نے کہا کہ جہاں تک دوست ملکوں سے مدد حاصل کرنے کا تعلق ہے تو یہ بات ذہن میں رہے کہ دوستی اور دشمنی عام انسانوں کی سطح پر تو ہوسکتی ہے لیکن ملکوں کے درمیان کوئی بھی دوستی یا دشمنی مستقل نہیں ہوتی بلکہ صرف مفادات کا معاملہ ہوتا ہے۔ ہر ملک اپنے مفاد کو دیکھ کر فیصلے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب تک دوست ممالک کی طرف سے ہمیں کوئی مدد نہیں ملی۔
