توشہ خانہ کو لوٹ مار سے بچانے کے لئے نئے قوانین وضع

پا کستان کے سرکاری توشہ خانے میں سابق وزیراعظم عمران خان کی لوٹ مار کے انکشاف کے بعد اب اس کے نئے قواعد و ضوابط بنائے جارہے ہیں جو آئندہ مہینے متعارف کروا دئیے جائیں گے ۔ توشہ خانے کے لئے نئی پالیسی بنانے کاسب سے بڑا محرک وہ سبکی ہے جس کا سامنا عمران خان کی جانب سرکاری تحائف کی فروخت سے منافع کمانے کے سکینڈل کی وجہ سے پاکستان کو بطور ریاست کرنا پڑا۔ عمران کے مخالف شہباز شریف کی نئی حکومت نے عندیہ دیا ہے کہ عمران خان کی اس حرکت پر انکے خلاف کرپشن کا ریفرنس دائر کیا جائے گا جس کی تحقیقات جاری ہیں ۔ خود عمران خان بھی اعتراف کر چکے ہیں کہ انہوں نے دوسرے ملکوں کی جانب سے ملے ہوئے نہایت قیمتی تحائف توشہ خانے سے سستے داموں خرید کر انہیں منافع پر فروخت کردیا ہے۔
یاد رہے کہ حالیہ پالیسی کے مطابق توشہ خانے میں موجود اشیاء کی نیلامی میں صرف اعلیٰ حکومتی شخصیات ، سرکاری اور فوج کے ملازمین حصہ لیتے ہیں ۔ چند ماہ قبل ایک عام شہری نے پاکستان انفارمیشن کمیشن کے ذریعے توشہ خانے کے تحائف کی تفصیلات مانگیں تو تحریک انصاف کی حکومت نے ان تفصیلات کو حساس قرار دے دیا۔ عمران خان کی حکومت نے موقف اپنایا کہ تحائف سربراہان مملکت کو ذاتی حیثیت میں دیئے گئے جن کی مالیت اور دیگر معلومات کے انکشاف سے دوست ممالک سے تعلقات پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں ۔ بعد میں سامنےآنے والے حقائق سے ثابت ہوا کہ تحریک انصاف کی حکومت معلومات فراہم نہ کر کے دراصل اپنے وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ کی لوٹ مار پر پردہ ڈال رہی تھی ۔ سابق فوجی ترجمان عاصم سلیم باجوہ کا پاپا جونز کرپشن سکینڈل بے نقاب کرنے والے ادارے فیکٹ فوکس کی تحقیق کے مطابق عمران خان اور ان کی اہلیہ بشرٰی بی بی کو بیرون ملک دوروں کے دوران 142 ملین، یعنی 14 کروڑ 20 لاکھ روپے مالیت کے تحائف ملے۔ لیکن ریاست مدینہ کے نام نہاد خلیفہ عمران خان اور ان کی روحانیت پرور اہلیہ بشری ٰبی بی نے یہ تحائف محض چار کروڑ روپے سے بھی کم رقم ادا کر کے خود رکھ لئے۔ ان تحائف میں رولیکس اور دیگر قیمتی گھڑیاں، سونے اور ہیرے جڑے ہوئے زیورات جن میں متعدد ہار، بریسلٹس، انگوٹھیاں، کئی ہیرے کی زنجیریں شامل ہیں، سونے کا قلم، لاکھوں روپوں کی مالیت کے کف لنکس، ڈنر سیٹ،اور پرفیومز تک شامل ہیں۔
فیکٹ فوکس کے مطابق یہ تمام تحائف مختلف ممالک کے سربراہان اور دیگر عہدیداران کی طرف سے اصولاً حکومتِ پاکستان کو ملے لیکن عمران اور ان کی اہلیہ انکو توشہ خانہ میں جمع کروانے کی بجائے سیدھے گھر لے گئے۔ان تحائف میں سب سے قیمتی تحفہ وہ گھڑی ہے جو عمران خان کو 18 ستمبر 2018 کو کیے جانے والے پہلے دورہِ سعودی عرب کے موقع پر شہزادہ محمد بن سلمان نے بطور تحفہ دی تھی۔ گھڑی کی مالیت ساڑھے آٹھ کروڑ روپے ہے لیکن عمران خان نے صرف ایک کروڑ اور ستر لاکھ کی معمولی رقم دے کر گھڑی خود رکھ لی۔ بعد ازاں یہ گھڑی دبئی میں فروخت کر کے 7 کروڑ روپے منافع کمایا گیا۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق عمران نے 142 ملین روپوں کی مالیت کے تحائف صرف 38 ملین روپے کی معمولی رقم ادا کر کے حاصل کئے۔ انہوں نے آٹھ لاکھ مالیت کے تحائف توشہ خانہ سے مفت میں حاصل کئے۔ سب سے زیادہ اہم بات یہ ہے کہ توشہ خانہ میں صرف ان تحائف کی تفصیلات درج اور محفوظ کی جاتی ہیں جو وزیرِاعظم کے پروٹوکول آفیسر نے بذاتِ خود وصول کر کے وزیر اعظم کے حوالے کئے ہوں۔ بہت سے ایسے تحائف بھی ہیں جو پروٹوکول آفیسر کی غیر موجودگی میں عمران خان کو دیئے گئے۔ ان تحائف کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھا جاتا۔
واضح رہے کہ عمران خان سے قبل سابق وزرا اعظم نواز شریف اور یوسف رضا گیلانی کے علاوہ سابق صدر مملکت آصف علی زرداری پر بھی توشہ خانے کے تحائف کے ناجائز حصول کے کیس بنائے گئے جو عدالتوں میں زیر سماعت ہیں مگر ان سب نے دیگر ممالک کے سربراہان کے دئیے گئے تحائف بیرون ملک فروخت کر کے دیگر اقوام عالم کے سامنے پاکستان کو شرمندگی سے دوچار نہیں کیا ۔ بتایا گیا ہے کہ توشہ خانےکی نئی پالیسی کی تیاری کے ضمن میں کئی تجاویز زیر غور ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ قیمتی تحائف کی نیلامی میں صرف حکومتی اور سرکاری عہدے داروں کی بجائے عوام الناس کو بھی شرکت کی اجازت دے دی جائے ۔ سربراہان مملکت کی جانب سے دئیے گئے بہت بیش قیمت تحائف کو نیلام کرنے کی بجائے انہیں ایک خصوصی میوزیم میں رکھنے کی تجویز بھی دی گئی ہے ۔
