پاکستان میں پٹرول کی قیمت میں مزیدکتنا اضافہ ہونے والا ہے؟

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف خطے کی سلامتی بلکہ عالمی معیشت کو بھی ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایران امریکہ مذاکرات میں تعطل، آبنائے ہرمز کی بندش اور ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی بحری ناکہ بندی فوری ختم نہ کرنے کے اعلان کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 95 ڈالر سے بڑھ کر 100 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہے۔ خام تیل کی قیمت میں اس غیر معمولی اضافے نے پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ممالک کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں قیمتوں میں اضافے کے بعد آئندہ چند روز میں پٹرول کی قیمت میں15 سے 30روپے فی لیٹر اضافہ متوقع ہے۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ آنے والے دنوں میں عوام کے لیے ایک نئے مہنگائی کے طوفان کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔
خیال رہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے دوسرے دور میں تاخیر کی وجہ سے برینٹ کروڈ 95 ڈالر فی بیرلسے بڑھ کر100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گیا ہے۔ اسی طرح ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت بھی 84 ڈالر سے بڑھ کر 89 ڈالر فی بیرل ہو گئی ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈالرز میں خام تیل کی قیمتوں میں یہ اضافہ بظاہر معمولی لگتا ہے، مگر پاکستان جیسے ممالک پر اس کے دوررس اژرات مرتب ہوتے ہیں کیونکہ پاکستان کی معیشت کا بڑا انحصار درآمدی تیل خصوصاً خلیجی ممالک سے آنے والی سپلائی پر ہے اور اسی جغرافیائی خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس وقت ملک میں پیٹرول کی قیمت 366 روپے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت 353 روپے فی لیٹر ہے۔ حکومت کی جانب سے آخری بار 18 اپریل کو جب پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا تعین کیا گیا تھا، اس وقت عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت تقریباً 88 ڈالر فی بیرل تھا۔ مگر اب قیمت 100ڈالر تک پہنچ چکی ہے، یعنی فی بیرل قیمت میں 12ڈالر کا اضافہ ہو چکا ہے جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ آنے والے دنوں میں پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیرہے۔
ماہرین کے مطابق موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 15 سے 20 روپے فی لیٹر تک اضافہ متوقع ہے۔ تاہم اگر امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات مزید تاخیر کا شکار ہوتے ہیں یا کشیدگی میں اضافہ ہوتا ہے تو یہ اضافہ 30 روپے فی لیٹر یا اس سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے، جو عوام کے لیے ایک بڑا معاشی دھچکا ثابت ہوگا۔ ذرائع کے مطابق حکومت 24 اپریل کو آئندہ ہفتے کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اعلان کرے گی، اور یہی وہ لمحہ ہوگا جس پر پوری قوم کی نظریں جمی ہوئی ہیں۔ اگر اس دوران امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور شروع ہو جاتا ہے تو ممکن ہے کہ عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں استحکام آجائے اور قیمتوں میں اضافہ نہ ہو۔ لیکن اگر صورتحال جوں کی توں رہی تو پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ سامنے آ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ محض سپلائی اور ڈیمانڈ کا مسئلہ نہیں بلکہ جغرافیائی سیاست اور کشیدگی کا نتیجہ ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی نے عالمی مارکیٹ میں بے یقینی پیدا کر دی ہے، جس کے باعث سرمایہ کار محتاط ہو گئے ہیں۔ جس کی وجہ سے قیمتوں میں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ انرجی ایکسپرٹس کے بقول آبنائے ہرمز سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل سپلائی گزرتی ہے، اس لیے یہاں معمولی خطرہ بھی عالمی قیمتوں کو تیزی سے اوپر لے جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ آبنائے ہرمز میں کشیدگی کی وجہ سے آئل ٹینکرز کو لاحق خدشات کے باعث شپنگ اور انشورنس اخراجات میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ جس سے قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ پاکستانی معیشت کا بڑا انحصار خلیجی ممالک سے درآمد کیے جانے والے تیل پر ہے، جو زیادہ تر اسی راستے سے پاکستان آتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آبنائے ہرمز میں ایران امریکہ کشیدگی کے اثرات براہِ راست ملک کے توانائی سیکٹر پر پڑنے کا خدشہ ہے۔
دوسری جانب حکومتی ذرائع کا بھی ماننا ہے کہ مالی دباؤ کے باعث پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکسز میں مزید کمی کے چانسز کم ہیں، جس کا مطلب یہ ہے کہ عالمی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ براہِ راست صارفین تک منتقل ہو سکتا ہے۔ ماہرین اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان اس وقت توانائی کے متبادل ذرائع کی کمی، محدود سٹریٹجک آئل ذخائر اور زیادہ درآمدی انحصار جیسے مسائل کا شکار ہے، جو اس بحران کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔اگر حکومت نے ان شعبوں میں سنجیدہ اقدامات نہ کیے گئے تو ہر عالمی بحران پاکستان میں مہنگائی کے نئے طوفان کو جنم دیتا رہے گا۔
