کراچی دھماکہ کرنے والے سی پیک مخالف سندھی کون ہیں؟

12 مئی کی رات کراچی میں ہونے والے بم دھماکے کے ذمہ داری قبول کرنے والی کالعدم سندھ ریولوشنری آرمی نامی عسکریت پسند تنظیم سی پیک مخالف ہے اور سندھو دیش کے قیام کے لیے کوشاں ہے۔ دھماکے میں ایک شخص ہلاک اور 13 زخمی ہوئے تھے لیکن یہ قوم پرست سندھی عسکریت پسندوں کی پہلی واردات نہیں تھی۔ سندھ میں کئی علیحدگی پسند تنظیمیں مقبول سندھی قوم پرست رہنما غلام مرتضیٰ سید المعروف جی ایم سید کی پارٹی جئے سندھ قومی محاذ یا جسقم سے نکلی ہیں۔ یہ تنظیمیں اپنے نام کے ساتھ ’جئے سندھ‘ لگاتی ہیں۔ ان میں اکثریت جی ایم سید کے عدم تشدد کے نظریے پر کام کرتے ہوئے پُرامن طریقے سے سندھ کی آزادی چاہتی ہیں۔
تاہم تاحال جئے سندھ کے نام سے صرف دو ہی گروپ عسکریت پسندی میں ملوث پائے گئے ہیں جن میں سے ایک جئے سندھ متحدہ محاذ۔ شفیع برفت گروپ کے زیر انتظام ایس ایل اے اور دوسرا ایس آر اے ہے۔
سندھ کے قوم پرست عسکریت پسند گروپ کا قیام 2010 میں عمل میں لایا گیا، کالعدم جئے سندھ متحدہ محاذ میں اندرونی اختلافات اس گروپ کے قیام کی وجہ بنی تھی۔ اس سے قبل تحقیقاتی ادارے کالعدم سندھ لبریشن آرمی کا تعلق جئے سندھ متحدہ محاذ سے جوڑتے آئے ہیں۔
امریکی CIA کا جاسوس ڈاکٹر 10 برس سے پاکستانی قید میں
سندھو دیش ریولوشنری آرمی گلشن حدید میں چینی انجنیئروں کی گاڑی، سکھر میں سی پیک اہلکاروں سمیت کراچی میں ایک ایچ او اور رینجرز پر حملے کی ذمہ داری قبول کرچکی ہے، یہ عسکریت پسند گروپ چین پاکستان اقتصادی راہداری کا مخالف ہے اور سندھ کے معدنی وسائل پر مقامی حقوق کا حامی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔
سندھو دیش ریولوشنری آرمی کو اصغر شاہ گروپ بھی کہا جاتا ہے، جس کا سربراہ شاہ عنایت کے نام سے پہچان رکھتا ہے۔ اصغر شاہ 2005 میں گرفتار ہوئے اور پانچ سال کے بعد ان کی رہائی عمل میں آئی جس کے بعد انھوں نے اپنا گروپ بنانے کا فیصلہ کیا۔ سندھو دیش ریولوشنری آرمی کا کہنا ہے کہ جئے سندھ متحدہ محاذ کے سربراہ شفیع برفت مسلح جدوجہد سے دستبردار ہوگئے تھے، جبکہ اس عرصے میں ان کے 40 ساتھی ہلاک کیے گئے اور اس بات پر اختلافات سامنے آئے۔ واضح رہے کہ شفیع برفت اور ان کے ساتھی اس وقت جرمنی میں سیاسی پناہ لیے ہوئے ہیں۔
12 مئی کا دھماکہ کراچی کے مصروف علاقے میں یونائٹیڈ بیکری اور مرشد بازار کے قریب ہوا جہاں کھانے پینے کے ریسٹورنٹ اور دودھ دہی کی دکانیں ہیں شام کے وقت لوگ آ کر بیٹھتے ہیں۔ جس جگہ دھماکہ ہوا اس وقت اُس مقام پر کوسٹ گارڈ کی گاڑی موجود تھی چنانچہ خیال کیا جا رہا ہے کہ نشانہ کوسٹ گارڈز تھے تاہم حکام نے اس حوالے سے تصدیق نہیں کی ہے۔ ضلع جنوبی کے ڈی آئی جی پولیس شرجیل کھرل نے میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ نہیں سمجھتے کہ کوئی ادارہ یا مخصوص گاڑی اس دھماکے کا ہدف تھا۔
تاہم سندھودیش ریولوشنری آرمی کے ترجمان سوڈھو سندھی نے اس دھماکے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریموٹ کنٹرول بم دھماکے کے ذریعے کوسٹ گارڈ کی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ترجمان کے مطابق ایس آر اے سندھ کی مکمل آزادی تک مزاحمتی جنگ جاری رکھنے کا عزم دُہراتی ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں کہ سندھودیش ریولوشنری آرمی نے پاکستانی ریاست کے اداروں کو نشانہ بنایا ہو۔ کراچی میں اس سے قبل بھی سندھ ریولوشنری آرمی کارروائیاں کرچکی ہے، جس میں 19 جون 2020 کو لیاقت آباد میں احساس پروگرام سینٹر کے باہر دستی بم حملہ کیا گیا، جس میں ایک شخص ہلاک اور رینجرز اہلکار سمیت 8 افراد زخمی ہوگئے تھے۔ اسی روز شمالی سندھ کے شہر گھوٹکی میں صبح ساڑھےنو بجے کے قریب گھوٹا مارکیٹ کے علاقے میں رینجرز کی ایک گاڑی کے نزدیک دھماکہ ہوا۔ اس دھماکے میں ایک راہ گیر مصطفی سمیت رینجرز کے دو اہلکار ظہور احمد اور فیاض شاہ ہلاک ہو گئے جبکہ سپاہی امتیاز حسین سمیت دو افراد زخمی ہوئے تھے۔
سندھو دیش ریولیشنری آرمی نے کراچی اور گھوٹکی میں رینجرز پر حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ تنظیم کی جانب سے ایک اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ یہ حملے نیاز لاشاری کو قومی سلام پیش کرتے ہوئے کیے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ جئے سندھ قومی محاذ آریسر گروپ کی مرکزی کمیٹی کے رکن نیاز لاشاری کی تشدد شدہ لاش قومی شاہراہ اور سپر ہائی وے لنک روڈ سے ملی تھی، ان کے ورثا کا کہنا تھا کہ وہ گذشتہ ڈیڑہ سال سے لاپتہ تھے۔کراچی میں رینجرز کی گاڑی کے قریب دھماکے کے بعد سی ٹی ڈی کے مطابق، رینجرز اور محکمہ انسداد دہشت گردی کے اہلکاروں کی ایک ٹیم نے گلستان جوہر میں رابعہ سٹی کے قریب پہلوان گوٹھ کے علاقے میں کارروائی کی اور چار مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ سی ٹی ڈی ترجمان کا دعویٰ تھا کہ ملزمان کا تعلق ایس آر اے کے اصغر شاہ عرف سجاد شاہ گروپ سے ہے۔ حکومت پاکستان نے گذشتہ ماہ تخریب کاری اور ریاست مخالف سرگرمیوں کے الزام میں سندھو دیش ریولوشنری آرمی نامی گروپ پر پابندی عائد کی تھی۔
یاد رہے کہ سندھ میں علیحدگی کی تحریک تو انیس سو ستّر سے جاری ہے لیکن اس میں مزاحمتی رنگ 2000 میں آیا جبکہ جئے سندھ متحدہ محاذ کا دوسرا جنم ہوا ۔ نومبر 2000 کی سرد شام کو شفیع محمد برفت کی قیادت میں دو درجن افراد نے جئے سندھ متحدہ محاذ کی بنیاد رکھی۔
اس تنظیم کے آئین میں وہ تمام نکات شامل ہیں جو جئے سندھ تحریک کے بانی جی ایم سید نے رکھے تھے لیکن ایک نکتے کا اضافہ کیا گیا وہ تھا مزاحمت یا عسکریت پسندی۔ ابتدائی طور پر دادو کے علاقے میں بجلی کی ہائی ٹرانسمیشن لائن، حیدرآباد، کوٹری، خیرپور، نوشہرو فیروز اور جامشورو سمیت مختلف علاقوں میں ریلوے ٹریک پر بم دھماکے کیے گئے اور ان واقعات کی ذمہ داری سندھ لبریشن آرمی نامی غیر معروف تنظیم قبول کرنے لگی۔ یہ وہ وقت تھا جب بلوچستان میں مزاحمتی تحریک زور پکڑ رہی تھی۔
2003 سے پاکستان کے ریاستی ادارے سرگرم ہوئے اور سندھ سے گمشدگیوں کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ ٹنڈو محمد خان، میھڑ، خیرپور ناتھن شاہ، حیدرآباد، خیرپور، شہدادکوٹ، رتودیرو سمیت کئی شہروں سے درجنوں قوم پرست کارکن لاپتہ ہو گئے، جن میں سے کئی نے رہا ہونے کے بعد قومی دھارے میں شامل ہونے کا اعلان کیا۔
سندھ ریولیشنری آرمی بلوچ عسکریت پسندوں کے اتحاد ’براس‘ کا بھی حصہ ہے جو بلخصوص سی پیک منصوبے اور چین کے علاقے پر اثرو رسوخ کے خلاف بنایا گیا تھا۔ڈی آئی جی سی ٹی ڈی کراچی خرم علی نے بتایا کہ سندھ ریولیشنری آرمی پرانا عسکریت پسند گروپ ہے جو اس سے قبل سندھ کے دیگر شہروں میں سرگرم ہے۔ اس سے قبل سندھ کے سابق ایڈیشنل آئی جی محکمہ انسداد دہشت گردی ڈاکٹر جمیل احمد نے دعویٰ کیا کہ کراچی اور گھوٹکی حملوں میں مقامی گروپ ملوث ہے، جس کو بلوچستان کے عسکریت پسندوں، پڑوسی ملک اور لندن گروپ کی حمایت حاصل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس گروپ کو بلوچستان کے عسکریت پسندوں نے تربیت فراہم کی ہے اور جو بارودی مواد استعمال کرتے ہیں وہ مقامی طور پر دستیاب نہیں۔ یاد رہے کہ بلوچستان نیشنل موومنٹ اور جئے سندھ متحدہ محاذ باضابطہ اتحاد کرچکی ہیں جس میں سی پیک کے خلاف مشترکہ جدوجہد بھی شامل ہے۔
