کیا ڈالر کی قدر گرنے سے ملک میں مہنگائی بھی کم ہوگی؟


پاکستان میں پچھلے چند ماہ کے دوران ڈالر کی قیمت گرنے اور روپے کی قدر میں اضافہ ہونے کے بعد پاکستانی عوام یہ سوال کر رہے ہیں کیا اب ملک میں مہنگائی بھی اسی حساب سے کم ہوگی؟
دو برس سے ڈالر کی اڑان جاری تھی اور پاکستانی روپیہ مسلسل تنزلی کا شکار تھا۔ گزشتہ برس نومبر میں ڈالر 154 روپے کا تھا جب کہ رواں برس ڈالر پاکستانی تاریخ کی بلند ترین سطح 168.43 پر پہنچ گیا تھا۔ تاہم گزشتہ تین ماہ سے ڈالر کی قیمت مسلسل گر رہی ہے اور پاکستانی روپیہ مستحکم ہو رہا ہے۔ آج ڈالر 158.6 روپے کے برابر ہے جبکہ صرف چند ماہ پہلے ڈالر 168 روپے کو بھی کراس کر گیا تھا۔
اس حوالے سے ماہر معیشت مزمل اسلم نے کا کہنا ہے کہ ڈالر گرنے سے فوری طور پر مہنگائی کم نہیں ہو گی کیوں کہ پاکستان میں درآمدی اشیاء دو سے تین ماہ میں پہنچتی ہیں اس لیے جو سامان ابھی مارکیٹ میں موجود ہے وہ ڈالر کی اگست، ستمبر کی قیمت پر خریدا گیا ہوگا تو ایسا ممکن نہیں کہ آج ڈالر سستا ہوا تو آج ہی مارکیٹ میں اشیاء سستی ملنا شروع ہوجائیں۔ انہوں نے کہا کہ جو خرید آج کی ڈالر کی قیمت پر ہو گی وہ کچھ ماہ بعد مارکیٹ میں سستی میسر ہو گی۔ ان میں روزانہ کی ضروریات زندگی کی اشیاء سے لے کر گاڑیوں کے اسپیئر پارٹز بھی شامل ہیں۔
یاد رہے ڈالر کی قدر میں اضافے سے گاڑیوں کی قیمت میں کافی حد تک اضافہ ہوا تھا جس کی وجہ سے گاڑی خریدنا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہو چکا ہے۔ گاڑیوں کی صنعت سے منسلک محمد قیصر نے بتایا کہ فوری طور پر ایسا ممکن نہیں ہے کہ گاڑیاں سستی ہوں کیوں کہ ٹیکسز تو بھاری ہی رہیں گے۔ اگر صارف براہ راست خود باہر سے کوئی پارٹ منگوانا چاہتا ہے تو پھر اس کو تھوڑا فائدہ ہو سکتا ہے لیکن اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑے گا۔
ڈالر کی قیمت کم ہونے کی وجوہات کیا ہیں؟ اور کیا یہ دیر پا وجوہات ہیں یا عارضی ثابت ہوں گی؟ کے بارے میں معاشی امور پر نظر رکھنے والے صحافی شکیل احمد کا کہنا تھا کہ اس سال کچھ مثبت چیزیں ہوئی ہیں جس کی وجہ سے ڈالر کی قدر کم ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پہلے چھ ماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے، ملک میں اس وقت ڈالر زیادہ میسر ہے، ڈالر ملک میں زیادہ آ رہا ہے اور ملک سے باہر کم جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بیرون ملک پاکستانی ماہانہ دو ارب ڈالر بینکوں کے ذریعے پاکستان بھیج رہے ہیں جس کی وجہ سے روپیہ مستحکم ہو رہا ہے۔ اس کے علاوہ پارلیمان سے پاس ہونے والا ایف اے ٹی ایف منی لانڈرنگ بل کے تحت جو ڈالر غیر قانونی طریقوں سے ملک سے باہر جا رہا تھا اس پر قابو پایا گیا ہے اور اب قانونی طور پر بینکوں کے ذریعے باہر جا رہا ہے۔ شکیل احمد نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے بین الاقوامی آمدورفت اتنی نہیں رہی۔ پہلے لوگ خود سفر کرتے تھے اور ساتھ ڈالر لے جاتے تھے لیکن اب سفر نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بینک کا آپشن استعمال کرنا پڑ رہا ہے۔ جس کی وجہ سے نظام ریگولیٹ ہو رہا ہے اور یہ روپیہ مستحکم ہونے کا سبب بن رہا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ ڈیٹا کے مطابق پاکستان کے ریزروز اس وقت 19.4 ارب ڈالر ہیں، اگر سعودی عرب اپنے دو ارب ڈالر واپس بھی لیتا ہے تو حکومت نے اس کا متبادل بندوبست کر رکھا ہے اس لیے اس کا ڈالر یا روپے کی قیمت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑے گا۔
ڈالر کی قدر میں کمی کس حد تک جانے کا امکان ہے، اسکے حوالے سے چئیرمین منی ایکسچینج کمپنی ایسوسی ایشن ملک بوستان کا کہنا تھا کہ حکومت نے جو روشن ڈیجیٹل اکاؤنٹ سمندر پار پاکستانیوں کے مطالبے پر کھولے ہیں اس سے ایک دن میں دس کروڑ روپے منتقل ہوئے ہیں، اور مسلسل ان اکاؤنٹس میں اضافہ ہو رہا ہے جو آنے والے دنوں میں ڈالر کی قدر کو مزید کم کرنے میں مددگار ہوگا۔ رواں برس جنوری میں ڈالر 155 روپے پر تھا۔ انہوں نے کہا کہ جو مارکیٹ کا رجحان ہے اس کو دیکھتے ہوئے کہہ سکتے ہیں کہ جنوری 2021 میں ڈالر 155 تک گر سکتا ہے۔ شکیل احمد کے مطابق 155 ایک نفسیاتی حد ہے اگر یہ ٹوٹ جاتی ہے تو ڈالر جنوری تک 150 روپے پر بھی جا سکتا ہے۔
ملکی قرضوں کے حجم پر ڈالر کی گراوٹ کے مرتب اثرات کے بارے میں ماہر معیشت مزمل اسلم نے کہا کہ ڈالر تو اتنا ہی رہتا ہے لیکن جب روپوں سے ضرب دی جاتی ہے تو کہا جاتا ہےکہ قرضوں کا حجم بڑھ گیا یا کم ہوگیا۔ انہوں نے کہا کہ ’گر آپ نے کسی کے سو ڈالر دینے ہیں تو وہ سو ڈالر ہی رہیں گے لیکن جب آپ نے ڈالر خریدا وہ 105 کا ہو اور جب آپ اس کو لوٹائیں تو ڈالر 160 روپے کے قریب ہو تو یقیناً روپوں میں آپ کو نقصان ہی ہوگا۔ اس لیے روپے کے مستحکم ہونے سے روپوں میں قرضوں کا حجم یقینی طور پر کم ہو جائے گا۔ اس حوالے سے اسٹیٹ بینک نے ایک رپورٹ بھی جاری کی ہے جس کے مطابق مالی سال 2020 کی پہلی ششماہی کے دوران کمرشل بینکوں کا منافع 52 فیصد بڑھ گیا ہے۔ ترجمان اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2020 کی پہلی ششماہی کے دوران کمرشل بینکوں کے اثاثوں میں بھی 7.8 فیصد یعنی 326 ارب روپے کا اضافہ ہوا ہے جس کے بعد بینکوں کے اثاثے مجموعی طور پر18 کھرب 14 ارب 32 کروڑ روپے سے تجاوز کر گئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button