کیا کرکٹ بورڈ انگلینڈ ٹیم کا دورہ پاکستان بچا پائے گا؟

نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی جانب سے اچانک دورہ پاکستان سے دستبرداری کے بعد پاکستان کرکٹ کی دنیا میں تنہائی کے ایک اور دور میں جانے کے خوف سے نبرد آزما ہے اور سر توڑ کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح انگلینڈ کی کرکٹ ٹیم کو اپنا مجوزہ دورہ پاکستان برقرار رکھنے پر راضی کر لیا جائے۔ یاد رہے کہ پاکستان 2009 میں لاہور میں سری لنکن ٹیم پر ہونے والے حملے کے بعد کچھ سنبھلا تھا لیکن نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کی اچانک واپسی کے فیصلے نے اس کے قدم دوبارہ سے ڈگمگا دیئے ہیں۔ یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کو ذاتی طور پر فون کرکے اپنی ٹیم کا دورہ منسوخ نہ کرنے کی اپیل کی تھی جو مسترد کر دی گئی۔
سپورٹس تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پی سی بی کی موجودہ انتظامیہ اور اس کے وزیراعظم کے ساتھ قریبی تعلقات ہوتے ہوئے یہ یقینی بنانا ہوگا کہ وہ پاکستان سے باہر کم سے کم کرکٹ کھیلیں اور ذیادہ سے ذیادہ ٹیمیں پاکستان آئیں۔ انکا کہنا ہے کہ پہلا ٹاسک انگلینڈ کو فول پروف سکیورٹی کے حوالے سے یقین دلوانا ہوگا جو فیصلہ کرنے جا رہا ہے کہ وہ اگلے ماہ مردوں اور خواتین کی کرکٹ ٹیموں کو شیڈول کے مطابق پاکستان بھیجے گا یا نہیں۔ انگلینڈ کے دورے کے بعد دسمبر میں ویسٹ انڈیز کے ساتھ سیریز شیڈول ہے اور 1998 کے بعد پہلی بار آسٹریلیا کی ٹیم اگلے برس جنوری میں پاکستان کے دورے پر آئے گی۔ لہذا اس خدشے کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ اگر نیوزی لینڈ کی ٹیم کے بعد انگلینڈ کی ٹیم نے بھی پاکستان میں کھیلنے سے انکار کیا تو ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا کی ٹیمیں بھی پاکستان نہیں آئیں گی۔ لہذا ضروری ہے کہ ساری توانائی انگلینڈ کی ٹیم کو پاکستان بلانے پر صرف کی جائے تاکہ نیوزی لینڈ کے بھاگ جانے سے بین الاقوامی طور پر پاکستان کی ساکھ کو جو نقصان پہنچا ہے اس کا ازالہ کیا جا سکے۔
سپورٹس تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کرکٹ فینز کو بھی بڑا کھیل دیکھنے کا موقع ملا تھا جو ان سے چھن گیا جو اُن کیلئے تکلیف دہ بات ہے، پی سی بی کے چیئرمین رمیز راجہ نے تسلیم کیا ہے کہ پاکستان کرکٹ پر بہت دباؤ ہے جو پہلی مرتبہ نہیں ہوا لیکن وہ اس کا مقابلہ کریں گے۔ انکا کہنا تھا کہ پاکستانی عوام اور میری تکلیف ایک ہی ہے اور جو بھی ہوا وہ پاکستان کرکٹ کے لیے اچھا نہیں۔
پاکستان سپورٹس بورڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ جتنا عرصہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ نہیں کھیلی گئی اس دوران پی سی بی کو دو سو ملین ڈالرز کا نقصان ہوا۔پاکستان کو انٹرنیشنل ٹیموں کے آنے والے کرکٹ دوروں کے علاوہ 2024 سے 2031 تک ورلڈ کپ اور چیمپئن ٹرافی سمیت چھ بین الاقوامی کرکٹ ایونٹس کی میزبانی بھی کرنی ہے جو کھٹائی میں پڑ سکتی ہے۔سابقہ کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کو جاری رکھنا اولین ترجیح ہے۔
سابق کپتان راشد لطیف کا کہنا ہے کہ تمام کرکٹرز پی سی بی کے ساتھ کھڑے ہیں اور ہمیں اپنی آنے والی نسل کو مزید تنہائی سے بچانے کے لیے راستہ تلاش کرنا ہوگا۔گذشتہ ایک دہائی میں نیوزی لینڈ پاکستان میں کھیلنے والی ہائی پروفائل ٹیم ہوتی۔ پاکستان نے 2009 سے اب تک جنوبی افریقہ، سری لنکا، بنگلہ دیش اور زمبابوے کی ٹیموں کی میزبانی کی ہے۔سابق کھلاڑی نوشاد علی نے کہا ہے کہ پاکستان کو کرکٹ کی دنیا کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ نیوزی لینڈ کا فیصلہ غلط تھا اور میرے خیال میں اسی طرح پاکستان کو ہمدردی حاصل ہوگی ، ہمیں اپنے میزبانی کے حق کو کھونا نہیں چاہئے اور دیگر ممالک کے ساتھ لابنگ کرنی چاہئے۔اس معاملے پر شاہد آفریدی نے کہا کہ پاکستان نے پچھلے سالوں میں بہت کچھ قربان کیا اور اس کے ساتھ ایسا نہیں ہونا چاہئے۔ہم نے ان کے لیے ضرورت سے زیادہ کیا۔ ہم نے کرونا کی وبا کے باوجود انگلینڈ اور نیوزی لینڈ کا دورہ کیا اور ہم چاہتے ہیں کہ وہ بھی مثبت جواب دیں۔
سابق فاسٹ بائولر شعیب اختر ، سابق کپتان شاہد آفریدی ، مصباح الحق ، وقار یونس ، وسیم اکرم سمیت دیگر قومی کرکٹرز نے بھی نیوزی لینڈ بورڈ کے فیصلے پر ناراضی کا اظہار کرتے ہوئے انگلینڈ کی ٹیم کو ہر صورت پاکستان کا دورہ کرنے کی اپیل کی ہے کیونکہ انگلینڈ کی ٹیم کے دورہ پاکستان سے عالمی کرکٹرز اور ٹیموں کا پاکستان پر اعتماد بحال ہوگا۔
